لاہوریوں تیار ہوجاﺅ، اب سانس لینا بھی مشکل ہوجائے گا

لاہوریوں تیار ہوجاﺅ، اب سانس لینا بھی مشکل ہوجائے گا
لاہوریوں تیار ہوجاﺅ، اب سانس لینا بھی مشکل ہوجائے گا

  



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سردی کا موسم بہت سوں کے لیے خوشی لے کر آتا ہے لیکن لاہور اور اس کے گردونواح میں رہنے والوں کے لیے یہ موسم کچھ دنوں کے لیے بڑی تکلیف کا سبب بن جاتا ہے جس کی وجہ سموگ ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے سموگ کا یہ سلسلہ شروع ہوا ہے۔ویب سائٹ پروپاکستانی کے مطابق ان دنوں لاہور ایک بار پھر سموگ کی لپیٹ میں ہے جو فصل خریف کی کٹائی کے بعد فصل کی باقیات جلانے سے اٹھنے والے دھوئیں کے باعث پیدا ہوتی ہے۔ یہ دھواں سورج کی روشنی اور فضائی میں پائے جانے والے فائن پارٹیکلز کے ساتھ مل کر سموگ بناتا ہے۔ سردیوں میں چونکہ ہوا کی کثافت بڑھ جاتی ہے چنانچہ یہ سموگ کئی دن تک برقرار رہتی ہے اور لوگوں کو نظام تنفس کی بیماریوں میں مبتلا کرنے کا سبب بنتی ہے۔

سردی کی آمد ہوتے ہی لاہور کی فضاءمیں آلودگی بڑھنی شروع ہو چکی ہے اور گزشتہ ہفتے ایئر کوالٹی انڈیکس پر لاہور کی ہوا کا معیار 200سے اوپر رہا۔ لاہور میں واقع امریکی قونصل خانے میں نصب ایئرکوالٹی مانیٹرنگ سسٹم کے مطابق گزشتہ جمعہ کے روز یہ 220تھا جو کہ کافی خطرناک سطح ہے۔ اگلے چند روز میں اس شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا اور اب لاہور میں فضائی آلودگی کا سکور 491 تک جا پہنچا ہے جو کہ انتہائی سنگین صورتحال ہے۔ ایئر کوالٹی انڈیکس 500سکور پر جا کر ختم ہو جاتا ہے۔ 491سکور کے ساتھ لاہور فضائی آلودگی میں بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کو بھی پیچھے چھوڑ گیا ہے جو دنیا کا آلودہ ترین شہر تھا۔ اب یہ ’اعزاز‘ لاہور نے اپنے نام کر لیا ہے۔ ماہرین کے مطابق سموگ کی یہ صورتحال اگلے دو روز تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران شہریوں کو خاص احتیاط برتنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری گھر سے باہر کی سرگرمیاں مکمل طور پر ختم کر دیں۔ گھر کے دروازے اور کھڑکیاں انتہائی ضرورت کے وقت کھولیں اور اگر باہر جانا ضروری ہو تو ماسک، چشمہ اور بائیک ہیلمٹ وغیرہ لازمی استعمال کریں۔

مزید : ماحولیات /علاقائی /پنجاب /لاہور


loading...