وزیراعلیٰ عثمان بزدار اچانک کہاں پہنچ گئے؟ جان کر آپ کو بھی خوشی ہوگی

وزیراعلیٰ عثمان بزدار اچانک کہاں پہنچ گئے؟ جان کر آپ کو بھی خوشی ہوگی
 وزیراعلیٰ عثمان بزدار اچانک کہاں پہنچ گئے؟ جان کر آپ کو بھی خوشی ہوگی

  

رحیم یار خان(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے رحیم یار خان میں ٹرین حادثے کی خبر ملتے ہی سرکاری مصروفیات ترک کر دیں اور رحیم یار خان پہنچ گئے،وزیراعلیٰ نے شیخ زید ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی اور علاج معالجے کی سہولتوں کاجائزہ لیا،وزیراعلیٰ کو ڈپٹی کمشنر آفس میں کمشنر بہاولپور نے ٹرین حادثے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار ائیر پورٹ پر آمد کے فوراً بعد شیخ زید ہسپتال پہنچ گئے اور ایمر جنسی وارڈ میں داخل زخمیوں مسافروں کی عیادت کی اورفرداً فرداً ہر زخمی کے پاس جا کر خیریت دریافت کی،وزیراعلیٰ نے زخمیوں سے حادثے کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں،اُنہوں نے علاج معالجے کی سہولتوں سے متعلق بھی زخمیوں سے استفسار کیا،صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشدبھی وزیراعلیٰ کے ساتھ تھیں۔وزیراعلیٰ کو ڈپٹی کمشنر آفس رحیم یار خان میں ہنگامی اجلاس کے دوران کمشنر بہاولپور نے حادثے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور بتایاکہ کراچی سے راولپنڈی جانے والی اپ تیز گام کو صبح 6:26منٹ پر حادثہ پیش آیا،ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثے کی وجہ گیس سلنڈر چولہا بتائی جاتی ہے تاہم ریسکیو، پولیس، انتظامیہ اور دیگر ادارے 13منٹ رسپانس ٹائم میں جائے حادثہ پر پہنچ گئے اور امدادی سرگرمیاں کا آغاز کردیا،ریسکیو آپریشن میں 144ایمبولینس اور 8فائر بریگیڈ گاڑیوں نے حصہ لیا-بریفنگ میں بتایا گیاکہ لیاقت پور کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ورثاء کی رہنمائی او رمعاونت کیلئے انفارمیشن ڈیسک قائم کر دئیے گئے ہیں ، ناقابل شناخت 57لاشوں کو ڈی این اے کے بعد لواحقین کے سپرد کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے انتظا میہ کو زخمیوں کی مکمل دیکھ بھال کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ کمشنر اور دیگر حکام ہسپتالوں کا دورہ کر کے صورتحال کاجائزہ لیتے رہیں اور سندھ سے آنے والے زخمیوں کے لواحقین کو مکمل رہنمائی اور ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں،کمشنربہاولپور مریضوں کی مکمل صحت یابی تک علاج معالجے کی سہولتوں کی براہ راست نگرانی کریں ۔وزیراعلیٰ نے ریسکیو آپریشن میں بہتر کارکردگی کامظاہرہ کرنے پر مقامی ارکان اسمبلی، کمشنر، ڈپٹی کمشنر، انتظامیہ اور ریسکیو اہلکاروں کی تعریف کی ۔

بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے بتایاکہ ٹرین حادثے کی افسوسناک اطلاع ملتے ہی مصروفیات تر ک کر دیں اور انتظامیہ کے سا تھ رابطے میں رہا ،73سے زائد افراد کا جاں بحق ہونا بہت بڑا سانحہ ہے ،ہم متاثرہ بہن بھائیوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ انتظامیہ نے حادثے کی اطلاع ملنے کے بعد بہتر رسپانس دیا،ریسکیو کی بروقت اور تیز ترین امدادی سرگرمیاں قابل تعریف ہیں ،مریضوں کو علاج کے لئے نشتر ہسپتال ملتان، وکٹوریہ ہسپتال بہاولپور اور شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان شفٹ کیا گیا،رحیم یارخان ہسپتال میں موجود مریض اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اب خطرے سے باہر ہیں ،زخمیوں کا علاج ٹھیک ہورہاہے، جتنا اچھا رسپانس ہمارے ریسکیو اداروں نے کیا شاید اس کی مثال نہ ہو،حادثے کے ذمہ داروں کا تعین اعلیٰ سطح کی کمیٹی کرے گی۔وزیراعلیٰ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت پور کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ٹراما سنٹر قائم کرنے اور شیخ زید ہسپتال میں برن یونٹ بنانے کا بھی اعلان کیا۔وزیراعلیٰ نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان فیز IIرواں بجٹ میں شامل کر دیا گیا ہے جلد اس منصوبے کا آغاز کریں گے، ہسپتال میں یقینی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائیں گے، سی ٹی سکین مشین بھی فراہم کی جائے گی، اس موقع پر ارکان اسمبلی او رمتعلقہ حکام بھی موجود تھے۔

مزید :

قومی -