سپریم کورٹ ٹرین سانحے کا از خود نوٹس لے،وزیر ریلوے ذمہ داری قبول کریں:سینیٹر سراج الحق

سپریم کورٹ ٹرین سانحے کا از خود نوٹس لے،وزیر ریلوے ذمہ داری قبول کریں:سینیٹر ...
سپریم کورٹ ٹرین سانحے کا از خود نوٹس لے،وزیر ریلوے ذمہ داری قبول کریں:سینیٹر سراج الحق

  



کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق نے مطالبہ کیا کہ ٹرین کے سانحے کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے ،سپریم کورٹ اس کا از خود نوٹس لے اور غفلت کے مرتکب ہونے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ،وزیر ریلوے 75افراد کے زندہ جل جانے والے اس سانحے کی ذمہ داری قبول کریں، وزیر اعظم عمران خان قوم کو بتائیں کہ اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ اسلام آباد آج کنٹینروں کا شہر بن گیا ہے،اس پورے منظر نامے اور شور شرابے میں مظلوم اور نہتے کشمیریوں کی آواز دب گئی ہے،حکومت کی توجہ بھی کشمیریوں کی طرف نہیں ہے،وزیر اعظم ایل او سی کی طرف بڑھنے والوں کو غدار کہہ رہے ہیں،اقوام متحدہ میں 27ستمبر کو تقریر کے بعد سے آج تک وزیر اعظم نے کشمیریوں کے حقوق کے تحفظ اور کشمیر کی آزادی کے لیے کوئی لائحہ عمل نہیں دیا،جس سے کشمیریوں کے اندر مایوسی پیدا ہو رہی ہے اور اس کا فائدہ بھارت کو ہو رہا ہے، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے عوام ، قومی و سیاسی قیادت اور پارلیمنٹ کو اس حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا۔

 ادارہ نور حق کراچی میں جسٹس (ر) وجیہہ الدین کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ موجودہ وزیر ریلوے کے دور میں یہ 19واں حادثہ ہے،ماضی میں وہ کہتے تھے کہ کسی بھی حادثے کی ذمہ داری حکومت کو قبول کرنی چاہیئے اب وہ ایسا کیوں نہیں کرتے؟حکومت کی 14ماہ کی نا اہلی اورنا قص کارکردگی کےباعث ملک کےحالات خراب ہو ئےہیں،خودحکومت نے قومی وحدت اور اتحاد کو پارہ پارہ کیا ہے اور پارلیمنٹ کو بے توقیر کیا ہے، 14 ماہ میں کوئی قانون سازی نہیں کی ہے،ملکی معیشت کا پہیہ رک گیا ہے،نوجوان مایوس ہو رہے ہیں،روزگار ختم ہو گیا ہے اور مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے ،روزانہ کمانے والے70فیصد افراد کی آمدنی ان کے خرچ سے کم ہےاور30فیصد افراد قرض لے کر گزارہ کر رہے ہیں،تاجر برادری سے حکومت کے مذاکرات اور معاہدہ ،سوپیاز اور سو جوتوں کے مترادف ہے،یہ کام پہلے کرتے ہیں اور سوچتے بعد میں ہیں،ملک میں حالات کی بہتری کا واحد راستہ یہ ہے کہ عدل و انصاف اور قانون کی حکمرانی قائم ہو اور جمہورکا حق سلب نہ کیا جائے،احتجاج ہر پارٹی کا حق ہے اور وزیر اعظم خود کہہ چکے ہیں کہ جو بھی اسلام آباد میں دھرنا دینے آئے گا اس کو کنٹینر دیں گے اور مہمان نوازی کریں گے،اب مہمان وہاں پہنچ چکے ہیں اور آج پہلی رات ہے،وزیر اعظم اپنے وعدے کے مطابق ان کے لیے بہترین مہمان نوازی کا اہتمام کریں اور کوئی ایسا اقدام نہ اُٹھایا جائے جس سے حالات خراب ہوں ۔سینیٹر سراج الحق نے جسٹس وجیہہ الدین کی ادارہ نورحق آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایک معتبر ، دانا ،بینا اور جہاندیدہ شخصیت ہیں،ملک کے موجودہ حالات اور اہم ایشوز پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اور ہمارے درمیان اتفاق رائے پایا جاتا ہے ۔

مزید : قومی