بھیانک مردہ خانوں کی بدبو اورنئے لوگوں کی ضرورت 

بھیانک مردہ خانوں کی بدبو اورنئے لوگوں کی ضرورت 
بھیانک مردہ خانوں کی بدبو اورنئے لوگوں کی ضرورت 

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:61

ڈرہم کے کھاد والے مزدور باقی شعبوں سے دور رہتے تھے۔ انہیں بہت کم لوگ دیکھنے جاتے تھے اور جو دیکھ لیتے وہ باہر نکلتے تو خود کو ”دانتے“ محسوس کرتے، جسے دیکھ کر دیہاتیوں نے کہا تھا کہ وہ جہنم سے ہوکر آیا ہے۔ یارڈز کے اس حصے میں سارا فضلہ آتا تھا۔ یہاں دم گھوٹنے والے حبس زدہ تہہ خانوں میں ہڈیوں کو سکھایا جاتا تھا۔ ان تہہ خانوں میں کبھی دن کی روشنی داخل نہیں ہوئی تھی۔یہاں عورتیں، بچے اور مرد گھومتی مشینوں پر جھکے ہڈیوں کو مختلف شکلوں میں کاٹنے میں مصروف رہتے۔ ہڈیوں کا بُرادہ اڑ اڑ کر ان کے سانس کی ساتھ پھیپھڑوں میں بھرتا رہتا۔ ان میں سے ہر ایک کی، ایک خاص وقت کے بعد، موت طے تھی۔ وہاں وہ خون سے البیومن albumen) - پانی میں قابل ِ تحلیل پروٹین- مترجم) بناتے تھے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی بدبودار چیزوں سے مزید بدبودار چیزیں بنائی جاتی تھیں۔ جہاں یہ کام ہوتا تھا ان گپھاؤں میں آدمی اس طرح گم ہو سکتا تھا جیسے کینٹکی کے غاروں میںلا پتا ہو سکتا تھا۔ ہڈیوں کے غبار اور بھاپ کے بادلوں میں بجلی کے قمقمے دور افتادہ ستاروں کی طرح ٹمٹماتے، لال نیلے، ہرے اور جامنی ستارے لگتے تھے۔ جن کے رنگ مشینوں سے نکلنے والی بھاپ سے بنتے تھے۔ ان بھیانک مردہ خانوں کی بدبو کے لیے لیتھواینئین زبان میں کوئی لفظ ہو تو ہو انگریزی میں کوئی نہیں تھا۔ وہاں داخل ہونے والے کو اپنا حوصلہ اسی طرح مجتمع کرنا پڑتا تھا جیسے ٹھنڈے پانی میں غوطہ لگانے والے کو کرنا پڑتا ہے۔ وہ پہلے تو ناک مونھ رومال سے ڈھانپتا، پھر اسے کھانسی کا دورہ پڑتا اور دم گھٹتا محسوس ہوتا۔ اس کے بعد بھی وہ ہمت نہ چھوڑتا تو اسے اپنا سر گھومتا محسوس ہوتا۔ اس کے ماتھے کی نسیں پھڑکنے لگتیں۔ اس کے بعد اس کا سامنا ناقابل ِبرداشت ایمونیا کے بخارات سے ہوتا۔ اس پر وہ پلٹ کر جان بچانے کے لیے بھاگتا اور نیم بے ہوشی کے عالم میں باہر نکلتا۔

اس کے اوپر وہ کمرے تھے جہاں ہڈیوں سے گھی اور چکنائی نکال کر انہیں سکھایا جاتا تھا۔ پھر اس مواد کو پیس کر برادہ بنایا جاتا اور ایک خاص قسم کے پتھر میں، جسے پتانہیں کہاں سے گاڑیاں بھر بھر کر لایا جاتا تھا اور پیسا جاتا تھا، ملا کر تھیلوں میں بھرا جاتا پھر اسے بازار بھیج دیا جاتا جہاں وہ اسی طرح کے دیگر سیکڑوں برانڈ کے ”بون فاسفیٹ“ کے ساتھ بکتا تھا۔ مین، کیلیفورنیایا ٹیکسس کے کسان اسے تقریباً 25 ڈالر فی ٹن کے حساب سے خرید کر لے جاتے اور مکئی کے کھیتوں میں ڈالتے جس سے کئی ہفتے تک کھیتوں کےساتھ ساتھ ان کسانوں اور یہ کھاد ڈھونے والے گھوڑوں سے بھی یہ سخت بدبو آتی رہتی۔ پیکنگ ٹاؤن میں یہ کھاد بہت خالص شکل میں ملتی تھی۔ کھلے آسمان تلے سیکڑوں ہزاروں ٹن کھاد پڑی رہتی۔ ہر عمارت میں اس کے ڈھیر لگے رہتے اور فرشوں پر اس کی کئی کئی انچ موٹی تہ لگی رہتی۔ ذرا سی ہوا چلتی تو یہ غبار فضاءمیں ریت کا طوفان بن کر پھیل جاتا۔

یہ تھی وہ عمارت جس میں یورگس کام کی امید میں ہر روز یوں آتا جیسے کوئی نادیدہ ہاتھ اسے گھسیٹ کر لا رہا ہو۔ مئی تو یورگس کی دعاؤں سے ٹھنڈا گزر گیا لیکن جون میں ریکارڈ توڑ گرمی پڑی جس کے بعد کھاد کی مل میں نئے لوگوں کی ضرورت پیش آئی۔

اب تک پسائی والے کمرے کا باس یورگس کی شکل سے واقف ہو چکا تھا۔ چنانچہ جب اس حبس بھرے دن 2بجے یورگس دروازے پر پہنچا تو باس نے اسے اشارہ کیا۔ اس کے جسم میں درد کی ایک لہر دوڑ گئی۔ اس نے اپنا کوٹ اور قمیص اتارے اور دانت بھینچ کر کام پر لگ گیا۔ لیکن ابھی ایک اور مصیبت بھی باقی تھی جس پر اسے قابو پانا تھا۔( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -