لاہور پولیس مشکلات کا شکار

لاہور پولیس مشکلات کا شکار
لاہور پولیس مشکلات کا شکار

  

پولیس نظم و نسق کو قائم رکھنے کے لئے ابتدائی مورچہ ہے اگر پولیس محرومیوں اور زیادتیوں کا شکار ہو جائے تو دل جمعی سے اپنے فرائض سر انجام نہیں دے سکے گی۔ہر آنے والی حکومت کا دعویٰ ہوتا ہے کہ پولیس اصلاحات نافذکرکے پولیس کو درپیش مسائل کا تدارک اور پولیس کو ایک فرض شناس عوام کی خیر خواہ پولیس بنایا جائے،تاہم اس فورس کے افسران کے لیے بعض اوقات ایسے حالات پیدا کردیے جاتے ہیں کہ وہ ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانے یا اچھاکام کرنا بھی چاہیں تو ان کے لیے مشکل ہوجاتا ہے ان کے راستے میں آنے والی رکاوٹیں اور درپیش مسائل انہیں دل جمعی سے کام نہیں کرنے دیتے انہی مسائل کا شکار آجکل لاہور پولیس بھی ہے، 40روز قبل لاہور پولیس کے سربراہ غلام محمود ڈوگر کوپنجاب سے تبدیل کرکے انہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی تاہم وزیر اعلی پنجاب نے انہیں اپنا کام جاری رکھنے اور چارج نہ چھوڑنے کا حکم دیا تھا، پانچ روز قبل ایک بار پھر انہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن کی جانب سے لیٹر جاری کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر تین روزکے اندر اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن رپورٹ کریں تاہم حکومت پنجاب نے غلام محمود ڈوگر کی خدمات وفاق کو دینے سے انکار کردیا ہے۔سیکریٹری سروسز پنجاب نے وفاق کو صوبائی حکومت کے فیصلے سے متعلق تحریری طور پر آگاہ کردیا ہے۔خط میں کہا گیا کہ غلام محمود ڈوگر کو وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی صوبے میں رکھنا چاہتے ہیں۔پنجاب کی جانب سے سی سی پی او لاہور کی خدمات واپس کرنے سے وفاق کو تیسری بار انکار کیا گیا ہے۔وفاق نے سی سی پی او لاہور کے تبادلے کے احکامات پر عمل کے لیے تیسرا لیٹر جاری کیا اور احکامات پر عمل نہ کرنے پر انضباطی کارروائی کی وارننگ دی۔ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب فیصل شاہکار نے چند روز قبل لاہور پولیس کی کرائم میٹنگ کے دوران ایڈیشنل آئی جی انوسٹی گیشن پنجاب غلام رسول زاہد اور سپیشل برانچ کی رپورٹ کی روشنی میں لاہور پولیس کی سرزنش کرتے ہوئے انہیں جرائم کنٹرول کرنے اورشرح بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا ان حالات میں جب ایک کمانڈر پر تبادلے کی تلوار لٹکا دی جائے تو سو فیصد کارکردگی فراہم کرنا اس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے،تقریباً سوا کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل صوبائی دارالخلافہ میں پنجاب پولیس کی سپر ویڑن سی سی پی اوجبکہ آپریشنل اور انوسٹی گیشن کے لیے دوڈی آئی جیز،دوایس ایس پیز،درجن بھر ایس پیز 114 پولیس اسٹیشن اور چوکیاں جہاں پنجاب پولیس کے آفیسر اور اہلکارجرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں کررہے ہیں، 8لاکھ سے زائدافراد ر وز گار، قانونی معاملات ودیگر امور کی انجام دہی کیلئے روزانہ کی بنیاد پر لاہور کا رخ کرتے ہیں اتنی بڑی آبادی کے میگا سٹی میں مستقل امن و امان کا قیام انسداد جرائم اور ان کا ہر ممکن تدارک کوئی آسان کام نہیں لیکن اس کے باوجودلاہور پولیس کی پوری ٹیم بالخصوص ڈی آئی جی آپریشنزافضال احمد کوثر جرائم کی شرح کوروکنے کے لیے بھرپور اقدامات کرتے دکھائی دیتے ہیں،ایک وقت میں شہر میں موٹرسائیکل چوری کی وارداتوں سمیت دیگر وارداتوں میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو گیا تھا جوکہ آپریشنل پولیس کی بہتر کارکردگی کے پیش نظر ان وارداتوں میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے جس تھانے کی حدود میں ایک ہفتہ کے دوران پانچ سے زائد وارداتیں سر زد ہوجائیں ڈی آئی جی آپریشنزافضال احمد کوثر ویسے تو کسی بھی سفارشی ایس ایچ اوز کی تعیناتی عمل میں نہیں لاتے،کوئی بھی ایس ایچ او چاہے وہ کتناہی بااثر کیوں نہ ہو اگر وہ علاقے میں امن قائم کرنے میں ناکام رہے تو اسے شوکاز کے ساتھ فوری طور پر تبدیل کر دیا جاتا ہے۔انوسٹی گیشن لاہور پولیس کی کارکردگی ماضی کے مقابلے میں مایوس کن ہے جبکہ سی آئی اے لاہور پولیس کا کردار بھی فعال نہیں ہے ان شعبوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کو مستقل کام کرنے کا موقع فراہم کیا جائے،وفاق اور صوبوں میں سیاسی کشیدگی کے پیش نظر اداروں کی کارکردگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے، پوسٹنگ ٹرانسفر میں پسند اور نہ پسند کے عمل نے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے لاہور شہر جسے کبھی امن کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا آئے روز افسران کے تبادلوں سے امن و امان کی صورت حال خراب ہورہی ہے،وفاق ایف آئی اے کی مدد سے جبکہ پنجاب اینٹی کرپشن اداروں کی مدد سے اپنے مخالفین کے خلاف کارروائیاں کرنے میں مصروف ہے جبکہ وہاں تعینات افسران اچھی شہرت کے باوجود متنازعہ قرار دیے جارہے ہیں، حالانکہ ڈی جی ایف آئی اے محسن بٹ اور پنجاب میں تعینات زون ون کے ڈائریکٹر سرفراز ورک،زون ٹو کے رائے اعجازاحمد اور سائبر کرائم کے ڈائریکٹر جہانزیب نذیر تینوں انتہائی پیشہ وارانہ مہارت کے حامل آفیسرز ہیں۔پولیس آفیسرز جوکہ ریاست کے ملازم ہیں،آج اداروں میں بڑھتی ہوئی سیاست سے ان میں سے کئی ایک کا کیرئیر داؤ پر لگ گیا ہے۔تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران لاہور سمیت پنجاب بھر کی پولیس بالخصوص ٹریفک پولیس نے ٹریفک کورواں دواں رکھنے میں بھرپور محنت سے کام لیا ہے اس کے لیے پوری لاہور پولیس اس کے افسران اور سی ٹی او منتظر مہدی مبارکباد کے مستحق ہیں،خبر ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے نئے آئی جی جیل ملک مبشر کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے جسے ادارے کی جانب سے انتہائی خوش آئند قرار دیا جارہا ہے کیونکہ وہ ادارے میں تجربہ رکھنے کے ساتھ ایماندار آفیسر کی حثیت سے پہچانے جاتے ہیں امید کی جاتی ہے کہ ان کے آنے سے ادارے میں پائی جانیوالی خامیوں پر قابو پایا جائے گا۔ 

مزید :

رائے -کالم -