کوڑا کرکٹ سے بجلی بنانے کا کام آخری مراحل میں ہے: فیصل امین 

کوڑا کرکٹ سے بجلی بنانے کا کام آخری مراحل میں ہے: فیصل امین 

  

          پشاور(سٹی رپورٹر) خیبرپختونخوا کے وزیر بلدیات، انتخابات و دیہی ترقی سردار فیصل امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ پشاور شہر کا ہزاروں ٹن کوڑا کرکٹ ماحول دوست طور پر ٹھکانے لگا کر اس سے بجلی اور کھاد بنانے کا کام آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے ہم آپشن طے کر چکے اور محکمہ بلدیات وزیراعلیٰ کی منظوری سے عنقریب نجی شعبے کو یہ ٹاسک حوالے کر رہا ہے۔ اس کا انکشاف انہوں نے بلدیات سیکرٹریٹ پشاور میں جرمن کمپنی انوویٹیو ٹیکنو پلس (آئی ٹی پی) کے کنٹری ڈائریکٹر محمد آصف اور عبدالجبار(رو ہیڈ) کے ساتھ اجلاس میں کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری بلدیات سید ظہیر الاسلام شاہ اور ڈبلیو ایس ایس پی کے سینئر حکام بھی شامل تھے۔ اس موقع پر کمپنی نے پشاور کا ہزاروں ٹن کوڑا روزانہ کی بنیاد پر اٹھا کر سستی بجلی بنانے کی پیشکش کو دہرایا اور واضح کیا کہ ان کی ٹیکنالوجی سوفیصد ماحول دوست ہے اور تمام سرمایہ کاری ازخود کرے گی صوبائی حکومت کو ایک کوڑی کا خرچہ بھی نہیں اٹھانا پڑے گا اور اگر پشاور میں یہ تجربہ کامیاب ہوتا ہے تو پھر کمپنی صوبے کے تمام شہروں میں اپنے ہی خرچ پر ایسے پلانٹ لگانے کیلئے بھی تیار ہے جبکہ کمپنی لاہور بلدیہ کے ساتھ بھی ایسا معاہدہ کر چکی ہے۔ کمپنی کی جانب سے صوبائی وزیر کو جرمنی، انگولہ، انڈیا، ترکیہ اور جنوبی افریقہ میں کوڑا کرکٹ سے بجلی بنانے کے 50, 30, ساڑھے 12 اور بیس بیس میگا واٹ کے پلانٹس ویڈیوز اور ملٹی میڈیا رپورٹس بھی دکھائی گئیں۔ سردار فیصل امین گنڈاپور نے کمپنی کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ماضی کی حکومتوں میں شہر کے کوڑا کرکٹ سے بجلی اور کھاد بنانے کے بڑے دعوے ہوئے اور معاہدے بھی کئے گئے مگر یہ سب پھرتیاں محض دعوؤں اور کاغذی کاروائی تک محدود رہیں درحقیقت پی ٹی آئی حکومت کو دیگر خرابیوں کی طرح گندا اور بدبودار شہر ورثے میں ملا تاہم گزشتہ آٹھ نو سالوں میں ہمارے ٹھوس اقدامات کی بدولت پشاور کا ناک نقشہ بدل دیا گیا ہے اور اسکی خوبصورتی بڑھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ وزیر بلدیات کا کہنا تھا کہ پشاور سمیت صوبے کے تمام بڑے شہروں میں بڑھتی ہوئی آبادی کے سبب ہزاروں لاکھوں ٹن کوڑا کرکٹ جمع کرکے سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانا انکے محکمہ کیلئے اگلا بڑا چیلنج ہے جس سے ہم بطریق احسن نمٹنا چاہتے ہیں اور اگر جرمن کمپنی کے ساتھ پشاور کے کوڑا کرکٹ سے بجلی بنانے کا معاہدہ ہوا اور وہ کامیاب بھی ہوگیا تو اگلے ہی مرحلے میں انہیں ضم اضلاع سمیت صوبے کے تمام شہروں میں ایسے پلانٹ لگانے کی اجازت دیدی جائے گی۔ اس موقع پر سیکرٹری بلدیات سید ظہیر الاسلام شاہ نے بھی واضح کیا کہ صوبائی حکومت کمپنی کی طرف سے سوفیصد سرمایہ کاری کے ساتھ پشاور کے ہزاروں ٹن کوڑے سے بجلی بنانے کیلئے پلانٹ لگانے میں ہر طرح تعاون کرے گی تاہم ہماری واحد شرط یہ ہے کہ اس مقصد کیلئے معاہدے میں کوئی ایسی غیر ضروری شق شامل نہ ہو جس کا بعد ازاں کمپنی غلط فائدہ اٹھائے۔ کمپنی حکام نے صوبائی حکومت کو تمام کام پوری ایمانداری اور تندہی سے سرانجام دینے کا یقین دلایا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -