چارسدہ، پابندی کے باوجود دریاؤں سے غیر قانونی معدنیا ت نکالنے کا سلسلہ جاری 

  چارسدہ، پابندی کے باوجود دریاؤں سے غیر قانونی معدنیا ت نکالنے کا سلسلہ ...

  

     چارسدہ(بیورورپورٹ) پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے پابندی کے واضح احکامات کے باوجود صوبائی مشیر معدنیا ت کے اپنے ضلع اور حلقہ نیابت میں دریاؤں سے غیر قانونی طور پرادنیٰ معدنیات نکالنے کا سلسلہ جاری ہے جس سے نہ صرف پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہور ہی ہے بلکہ اس سے صوبائی خزانے کو بھی کروڑ روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ محکمہ معدنیات نے دریاؤ ں سے غیر قانونی مایئنگ روکنے کے لئے پولیس کو 635مراسلے بھجوائے ہیں لیکن پولیس کی عدم دلچسپی کے باعث صرف 226 مراسلہ جات پر مقدمات درج کئے جا چکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پشاور ہائی کورٹ نے د ریاؤں کی قدرتی شکل کو برقرار رکھنے کے لئے رٹ پیٹیشن نمبر3616-P/2019  کے تحت صوبے کے تمام دریاؤں سے ہر قسم معدنیات نکالنے پر پابندی عائد کر دی ہے لیکن اس کے باوجود  وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے معدنیات عارف احمدزئی  کے اپنا حلقہ نیابت اور ضلع میں   اسوگے، میاں سعید گڑھی،دلدار گڑھی، منڈا پل، ترناب،اور خیالی پل سمیت دیگر مقامات  پر دریاؤں سے بڑی تعداد میں ریت اورشنگل سمیت دیگر ادنیٰ معدنیات نکالی جا رہی ہے جس سے ایک طرف پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کی واضح خلاف ورزی ہو رہی ہے تو دوسری جانب اس سے خزانے کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس حوالے سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر معدنیات کاشف کے مطابق محکمہ کی جانب سے دریاؤں سے معدنیات نکالنے کے عمل کو روکنے کی  کوشش ہو رہی ہے اور اب تک غیر قانونی طور پر دریاو ں سے معدنیات نکالنے میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کے لئے پولیس کو 635مراسلے بھجوائے گئے ہیں لیکن پولیس کی عدم تعاون کے باعث  صرف 226 مراسلہ جات پر ہی مقدمات درج ہو چکے ہیں۔پولیس کی جانب سے غیر قانونی مائنگ روکنے کے عمل میں   تعاون نہ کرنے پر  اسسٹنٹ ڈائریکٹر معدنیات نے 14اکتوبر کو لیٹر نمبر ADM17/7 کے ذریعے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سمیت تمام متعلقہ حکام کو آگاہ بھی کیا ہے۔اس حوالے سے محکمہ معد نیات کے جائزے اور  اعداد و شمار کے مطابق چارسدہ کے دریاؤں سے اب تک غیر قانونی طور پر دریاؤں سے  ادنیٰ معدنیات نکالنے سے  صوبائی خزانے کو 7کروڑ 47لاکھ 36ہزار 760روپے کا نقصان پہنچا ہے جس میں محکمہ کی جانب سے ملوث اہلکاروں سے صرف2لاکھ 93ہزار روپے کی ریکوری کی ہیں۔  غیر قانونی طور پر دریاؤں سے ادنیٰ معدنیات نکالنے سے متعلق  ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سہیل خالد کا کہنا ہے کہ محکمہ معدنیات کے ساتھ پولیس کی ہر قسم کی تعاون جاری رہے گی اور محکمہ معدنیات کی جانب سے جو بھی مراسلے بھیجے جائینگے اس پر فوری مقدمات کا اندراج اور عمل درآمد ہو گا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -