خونی مارچ؟

 خونی مارچ؟
 خونی مارچ؟

  

 عمران خان نے اس سال 25 مئی کو لانگ مارچ کے نام پر اسلام آباد پر چڑھائی کی کوشش کی تھی لیکن لوگوں کی تعداد بہت مایوس کن ہونے کی وجہ سے اگلے دن صبح کے وقت ہی اسے ختم کر دیا تھا۔ اس وقت پنجاب میں ان کی حکومت نہیں تھی اس لئے وہ چڑھائی پشاور سے کی گئی تھی جس میں خیبر پختونخوا کے سرکاری وسائل اور خزانہ کا بے دریغ استعمال کیا گیا تھا، مارچ ختم کرنے کے اعلان کے وقت انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ مارچ میں شامل لوگوں کے پاس بہت اسلحہ ہے اور اگر وہ چاہتے تو اسلام آباد میں خون خرابہ ہو سکتا تھا،  اس اعتراف کے بعد ایک بات تو واضح ہو گئی تھی کہ جس کو عمران خان ”پر امن“ کہتے ہیں، دراصل وہ خونریزی کا منصوبہ ہوتا ہے،  ان کے مارچ میں مسلح جتھے ہوتے ہیں جن کے پاس بہت اسلحہ ہوتا ہے، اب چونکہ پنجاب میں بھی ان کی حکومت ہے اس لئے اس دفعہ یہ چڑھائی لاہور سے شروع کی گئی ہے۔ تحریک انصاف کے ایک لیڈر علی امین گنڈاپور کی آڈیو بھی لیک ہوئی ہے جس میں وہ ٹیکسلا کے کسی آدمی سے اسلحہ کی تفصیلات پوچھ رہے ہیں کہ جتھے میں مسلح لوگ کتنے ہوں گے اور ان کے پاس کون سے ہتھیار ہوں گے۔ ایک طرف عمران خان ”پر امن“ احتجاج کا دعوی کرتے ہیں اور دوسری طرف ان کے پاس مسلح جتھے ہوتے ہیں جو کسی بھی وقت کہیں بھی خونریزی کر سکتے ہیں۔ اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے سے پہلے کسی بھی مقام پر خونریزی کا امکان موجود ہے لیکن گجرات یا راولپنڈی کے مضافات میں اس کا امکان زیادہ ہے۔آڈیو کے مطابق علی امین گنڈاپور نے اسلام آباد ائرپورٹ کے قریب واقع کالونیوں کے نقشے منگوائے ہیں جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس علاقہ میں خونریزی کا خطرہ ہے، لوگوں کو یاد ہوگا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کے موقع پر علی امین گنڈاپور نے ایک انتخابی ریلی میں عوام پر فائرنگ کی تھی،اس   وقت موصوف امور کشمیر کے وفاقی وزیر تھے اور کشمیر کے وزیر نے کشمیری عوام پر گولیاں چلائی تھیں، اگر گجرات میں خونریزی کی جاتی ہے تو اس کے براہ راست ذمہ دار پنجاب کے وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی ہوں گے۔ اس مارچ کے دوران اگر کسی بھی مقام پر قتل و غارت ہوتا ہے تو اس سے یہ بات ثابت ہوجائے گی کہ عمران خان کا خونی جتھے ساتھ لے جانے کا مقصد ہی خونریزی تھا۔ 

عمران خان آج کل روزانہ براہ راست نام لے کر آئی ایس آئی کی قیادت پر تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں جس کی سب سے زیادہ خوشیاں بھارت میں منائی جا رہی ہیں۔ لاکھوں یاکروڑوں کی اشاعت والے بھارتی اخبارات اور کروڑوں یا اربوں ناظرین رکھنے والے ٹیلی ویژن چینل اور اس سے زیادہ تعداد میں سوشل میڈیا پر موجود بھارتی صارفین اس وقت عمران خان کو ایسا ہیرو بتا رہے ہیں جس نے پاکستان کی فوجی قیادت اور بھارت کے لئے سب سے خطرناک ایجنسی آئی ایس آئی پر وہ حملے کئے ہیں جو نصف یا پون صدی سے تمام تر وسائل جھونکنے کے بعد بھی بھارت یا اس کی ایجنسی را نہیں کر سکے تھے۔ عمران خان کا اب بھارت میں ایک ہیرو والا سٹیٹس ہے اور ان کے کالم نگار، تجزیہ کار اور اینکرز باآواز بلند کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں جب عمران خان موجود ہے تو بھارت کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ پاکستان اور اس کی فوج کو اس سے زیادہ کمزور کر رہا ہے جتنا بھارتی خود کر سکتے تھے۔ عمران خان سے زیادہ مودی کا یار اور کون ہو سکتا ہے ، اس وقت پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے وہی حربے استعمال کئے جا رہے ہیں جو مشرق وسطی میں کئے گئے تھے، وہاں بھی پہلے مسلح خونی جتھوں نے حالات خراب کرکے خون خرابہ شروع کیا تھا اور کئی ممالک جیسے تیونس، مصر، لیبا، یمن، عراق اور شام وغیرہ آپس کی خانہ جنگی کا شکار ہو کر تباہ ہو گئے تھے، اگر خونی جتھوں کی وجہ سے عمران خان کا مارچ کسی خونی مارچ میں تبدیل ہو جاتا ہے تو یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ عمران خان پاکستان اور اس کے عوام کو آپس میں لڑا کر کمزور کرنے کی سازش کا مہرہ ہیں۔   

حکومت نے ”خونی مارچ“ کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر ملک اور عوام کے مفاد میں فیصلہ کرے ، اگر سپریم کورٹ اس مارچ کی اجازت دیتی ہے اور اس کے نتیجہ میں خونی جتھے خونریزی کرتے ہیں تو اس کی ذمہ داری سپریم کورٹ پر ہوگی، اس لئے مجھے امید ہے کہ سپریم کورٹ ایسا نہیں ہونے دے گی۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ نرم گوشہ رکھنے والے جج صاحبان کی نظر اس بات پر بھی ہو گی کہ لانگ مارچ کے شرکا کی تعداد انتہائی کم ہے۔ پونے دو کروڑ آبادی والے شہر لاہور میں دس بیس ہزار سے زیادہ لوگوں نے مارچ میں شرکت نہیں کی جو لاہور شہر کی آبادی کے تناسب سے آٹے میں نمک  کے برابر ہے۔ اتنے چھوٹے جلوس کے ساتھ عمران خان اپنے کسی مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے، نہ تو وہ حکومت الٹا سکتے ہیں، نہ الیکشن کی تاریخ لے سکتے ہیں اور نہ ہی وہ اپنی مرضی کی تعیناتیاں کروا سکتے ہیں  ویسے بھی آرمی چیف یا دوسری تعیناتیوں کا اختیار وزیراعظم اور حکومت کے پاس ہوتا ہے۔ عمران خان کی اس وقت حیثیت ایک پرائیویٹ شخص کی ہے اس لئے انہیں کسی مشاورت کا حصہ بننے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔ الیکشن بھی وقت پر ہوں گے اور تعیناتیاں بھی حکومت کرے گی۔ عمران خان کو ان باتوں کا پتہ ہے اور اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ان کے عزائم سیاسی نہیں بلکہ سازشی اور شرارتی ہیں اور وہ خونریزی کرواکر پاکستان کو نیا عراق یا شام بنانا چاہتے ہیں۔ ارشد شریف کے قاتلوں اور وجوہات کا پتہ چلتا رہے گا لیکن عمران خان توارشد شریف کی لاش پر سیاست کر تے ہوئے انہیں بشری زیدی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فیصل واوڈا نے خونریزی کی تفصیلات اپنی پریس کانفرینس میں بتائیں۔ دوسری طرف اعظم سواتی کی پریس کانفرنس  بھارت کے لئے عمران خان کی طرف سے تحفہ تھی جس میں آئی ایس آئی کی پوری قیادت کے خلاف جھوٹے الزامات لگائے گئے،  اب یہ قوم نے فیصلہ کرنا ہے کہ عمران خان پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا پھر وہ بھارت کے لئے سہولت کار ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -