اگر لانگ مارچ کامیاب نہ ہوئی تو؟

  اگر لانگ مارچ کامیاب نہ ہوئی تو؟
  اگر لانگ مارچ کامیاب نہ ہوئی تو؟

  

 پاکستان کے عہدِ حاضر اور عہدِ ماضیء قریب میں عمران خان کے ’لانگ مارچ‘ پر جتنے تبصرے ہو چکے اور ہو رہے ہیں، ان پر مزید کچھ لکھنا میرے خیال میں ایک طرح کی حماقت ہو گی۔ لیکن چلو جہاں قوم کئی دوسری حماقتوں کا ارتکاب کر چکی ہے تو وہاں ایک اور کا مرتکب ہو کر بھی دیکھ لیتے ہیں کہ کیا کرتی ہے:

لاکھ چاہا تھا کہ بیگانہ ء فردا ہوجائیں 

امتحاں اور بھی باقی ہوں تو اک یہ بھی سہی

لیکن اے کاش کہ یہ ہو نہ سکا

عمران خان کے اس لانگ مارچ کی اہمیت اور اس کے ممکنہ نتائج پر کوئی تبصرہ کرنے سے پہلے ہمیں یہ سوچ لینا چاہیے کہ یہ مارچ دو بڑے سانحات کے جلو میں ہو رہا ہے…… ایک سانحہ تو عوام (اور پاکستان) کی ناگفتہ بہ معاشی صورتِ حال ہے۔ ہمارے خزانے کی جیب میں اس وقت صرف سات آٹھ ارب ڈالر ہیں جبکہ قرضوں کی ادائیگی کے لئے بہت جلد ہمیں 30ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ اس سے مہنگائی بڑھے گی، اس مہنگائی کا بوجھ عوام پر پڑے گا اور ہر آنے والا دن عام آدمی کی معاشی حالت کو مزید ابتری کی طرف لے جائے گا۔ کراچی میں بڑھتے ہوئے جرائم کی شرح ہم دیکھ رہے ہیں۔ یہی شرح پاکستان کے دوسرے بڑے بڑے شہروں میں بھی دیکھی جا سکے گی۔ فرق صرف وقت کا ہوگا۔ آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو پرسوں ……

اور دوسرا سانحہ جس نے اس لانگ مارچ کی رفتار کو تیز تر اور ایک امکانی نتیجے کو قریب تر کر دیا ہے، وہ ارشد شریف کے قتل کا سانحہ ہے۔ عامتہ الناس اور برسراقتدار اشرافیہ کے مابین اس سانحے کے خدوخال متعین کرنے میں جو بُعد ہے اس کو ہم سب دیکھ اور سن چکے ہیں اور محسوس کررہے ہیں کہ اس سانحہ کے اثرات، خان صاحب کے لانگ مارچ کے لئے کو لیٹرل فوائد فراہم کر رہے ہیں۔

اس لانگ مارچ کا ایک براہِ راست نقصان فوج کو بھی ہوتا نظر آ رہا ہے۔ایک ایسا ادارہ جو ملک کی اندرونی اور بیرونی سرحدوں کا محافظ ہے اس پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ چند روز پہلے ڈی جی ISPR اور ڈی جی ISI نے جو مشترکہ پریس کانفرنس کی اس پر بہت سے تبصرے اور تجزیئے کئے جا چکے ہیں۔ میرے خیال میں اس پریس کانفرنس کی ضرورت نہ تھی۔ لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان کی واشگاف گفتگو اور دریدہ دہنی نے مسئلے کو ایک خطرناک موڑ تک پہنچا دیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آیا یہ لانگ مارچ ”بخیر و عافیت“ 7،8 روز بعد اسلام آباد پہنچ پائے گا یا نہیں؟ لیکن اگر یہ مارچ لاہور سے شاہدرہ، شاہدرہ سے گوجرانوالہ، گوجرانوالہ سے سیالکوٹ اور سیالکوٹ سے گجرات تک آ چکا ہے اور اس سفر میں کوئی ایک ’گملا‘ تک نہیں ٹوٹا تو امید کی جاتی ہے کہ یہ اسلام آباد تک بھی اسی طرح بغیر کوئی نقصان کئے چلا جائے گا۔ لیکن ایک بڑا نقصان جو پہلے کبھی ملک میں دیکھنے اور سننے کو نہیں ملا وہ یہ ہے کہ اس میں فوج کے سینئر اربابِ اختیار کا نام لے لے کر ان کو پکارا جا رہا ہے اور اس کے لئے انتباہی انداز اختیار کیا جا رہا ہے۔

 فوج اس صورتِ حال کے آگے بند باندھنے کے لئے کیا کیا اقدامات کر سکتی ہے۔میرے اندازے کے مطابق فوج کے پاس تین آپشنز ہیں:

1۔ پہلی آپشن یہ ہے کہ مارشل لا لگا دیا جائے…… لیکن مارشل لاؤں کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔ فوج اور عوام پہلے آمنے سامنے نہیں آتے تھے۔ اب تو وہ ایک دوسرے کے مقابل آ چکے ہیں۔ فوج ایک ایسا ادارہ ہے کہ اسے فی الحقیقت ’پردہ نشین‘ ہی رہنا چاہیے۔ یہ پردہ نشینی اس کے فرائض منصبی کا حصہ بھی ہے۔ دشمن کو اپنے عزائم کی خبر نہ دینا اور اسے دھوکے میں رکھنا فوج کی مقدوریت (Capability) شمار کی جاتی ہے۔ جب اس ’پردہ نشینی‘ کو بے نقاب کیا جاتا ہے تو ساری پلاننگ برہنہ ہو جاتی ہے اور اس کے جنگی پلانوں کی تکمیل (Execution) حسبِ دلخواہ ممکن نہیں رہتی۔ ویسے بھی موجودہ صورتِ حال میں مارشل لاء کا نفاذ خود فوج بھی نہیں چاہے گی۔

2۔ دوسری آپشن، اس لانگ مارچ کو بزورِ قوت روک دینا ہے۔ لیکن جب اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جائے گا تو بہت سے سوالوں کا جواب ڈھونڈنا ہوگا…… اول یہ کہ PTI کی قیادت کو بے بس، خاموش یا گرفتار کیسے کیا جائے۔ دن کے وقت اس لانگ مارچ میں جب ہزاروں لوگ عمران خان اور اس کی قیادت کے ساتھ پہلو بہ پہلو چل رہے ہوں گے تو کوئی ٹینک یا بکتر بند گاڑیاں ان نہتے شہریوں / دیہاتیوں پر کیسے چڑھا دی جائیں گی؟…… اور اگر رات کی تاریخی میں کوئی ایکشن لیا جائے گا تو عوامی ردعمل کیا ہوگا …… سرحدوں پر موجود ہمارا دشمن چھیڑ چھاڑ کر سکتا ہے، اس کا مداوا کیا ہوگا؟…… داخلی امن و امان کا ایک بڑا مسئلہ پیدا ہو جائے گا،  خیال یہی ہے کہ اس آپشن کو بھی مقتدر حلقوں میں بیک قلم خارج از خیال و عمل سمجھا جائے گا۔

3۔ تیسری آپشن یہ ہے کہ عمران خان کا مطالبہ مان لیا جائے۔ الیکشن کا اعلان کر دیا جائے تاکہ لوگ آرام سے واپس گھروں کو چلے جائیں۔ آج کا بڑا مسئلہ چارجڈ عوام کو خاموش کرنا ہے۔اگر یہ چارجڈ مارچ اسلام آباد میں پہنچ جاتا ہے تو وہاں کیا اتنی Space ہو گی کہ مارچ کے شرکاء کو اپنے اندر سمیٹ لے؟ وفاقی حکومت کے پاس پولیس، رینجرز اور فوج تو موجود ہے لیکن اگر مارچ کرنے والوں نے صرف نعرہ بازی تک اکتفا کی اور کوئی توڑ پھوڑ نہ کی تو پھر مسلح فورسز کا مظاہرہ بھی فائدے کی بجائے نقصان کا باعث ہوگا۔PTI پہلے ہی 25مئی کے واقعات و سانحات کا حوالہ دیتی نہیں تھکتی۔ اب اگر ایک ہفتہ بعد 4،5 نومبر کو اسلام آباد میں بھی وہی مناظر دہرائے گئے یا دہرانے پڑے تو کیا یہ مسئلے کا حل ہوگا؟…… تو پھر مسئلے کا حل کیا ہے؟

میرے خیال میں مسئلے کا ایک حل یہ ہو سکتا ہے کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان (اپریل سے اگست 2023ء تک کے درمیان کسی بھی دن) کر دیا جائے۔ حکومت اپنی مدت پوری کرنے کی ضد چھوڑ دے اور PTI بھی فوری الیکشن کروانے کی ڈیمانڈ ترک کر دے۔بیچ کا ایک راستہ یہ بھی ہے۔ پاکستان کے دوست ممالک اس حل پر عملدرآمد کروانے کی ضمانت دے سکتے ہیں …… وہ ایسا پہلے بھی تو کرتے آئے ہیں!

فرض کریں اگر 5نومبر کو یہ لانگ مارچ اسلام آباد پہنچ جاتا ہے اور کوئی ہنگامہ نہیں ہوتا تو پھر کیا ہوگا؟ حکومت اگر اپنے موقف پر ڈٹی رہی تو عمران خان کا اگلا اقدام کیا ہو سکتا ہے؟ وہ آج تک تو یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ کوئی بھی ایسا کام نہیں کریں گے جو آئین سے ماوراء ہو۔ وہ قانون اور انصاف کی حکمرانی کا بول بالا کرنے کی جو دہائی دیتے آ رہے ہیں اس کی آزمائش بھی 5نومبر کے بعد کی جا سکتی ہے۔ بادی النظر میں تو لگتا ہے کہ خان صاحب بعد از لانگ مارچ خود بھی سکون سے نہیں بیٹھیں گے اور نہ ہی دوسروں کو سکون کا سانس لینے دیں گے۔ گزشتہ 6،7 ماہ میں تو ہم نے ان کے اقوال و اعمال کے آئینے میں یہی کچھ دیکھا ہے۔ لیکن اب یہ بھی دیکھ لیں کہ اگر اس مارچ کے بعد بھی حکومت نہ گر سکی اور عام انتخابات کا اعلان بھی نہ ہو سکا تو خان صاحب کا اگلا تیر کیا ہوگا اور اس کا ہدف کیا ہوگا؟ فی الحال اس کی کوئی پیشگوئی نہیں کی جا سکتی۔شاید اقبال نے اسی کیفیت کا نقشہ اس شعر میں کھینچا تھا:

میرِ سپاہ ناسزا، لشکریاں شکست صف

آہ وہ تیرِنیم کش، جس کا نہ ہو کوئی ہدف

مزید :

رائے -کالم -