عمران نے فوج پر حملے کیے،بھارت بغلیں بجا رہا ہے:شہباز شریف

  عمران نے فوج پر حملے کیے،بھارت بغلیں بجا رہا ہے:شہباز شریف

  

        اسلام آباد (جنرل رپورٹر،نمائندہ خصوصی، نیوز ایجنسیاں)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دورہ چین کے دوران اسٹریٹجک تعلقات کو مزید وسعت دینے اور تجارت سمیت کاروباری تعلقات کو مزید تقویت دینے کیلئے پرامید ہیں۔چین کے گلوبل ٹیلی ویڑن نیٹ ورک (سی جی ٹی این) کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ چین کا یہ دورہ ہمارے تعلقات کو مزید تقویت دینے کے ساتھ ساتھ ہمارے تجارتی، کاروباری اور اسٹریٹجک تعلقات کو بھی وسعت دیگا۔وزیر اعظم شہباز شریف یکم نومبر کو چین کا سرکاری دورہ کریں گے جو اپریل میں وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد ان کا چین کا پہلا دورہ ہوگا۔وزیر اعظم شہباز شریف ان ابتدائی بیرونی رہنماؤں میں شامل ہیں جو چین کی کمیونسٹ پارٹی کی 20 ویں نیشنل کانگریس مکمل ہونے کے بعد چین کا دورہ کر رہے ہیں۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں واقعی فخر اور دلی خوشی محسوس کر رہا ہوں اور یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ میں اپنے برادر اور قریبی دوست ملک چین کا دورہ کرنے والے دنیا کے ابتدائی رہنماؤں میں سے ایک ہوں۔‘انہوں نے کہا کہ یہ بات ہماری دوستانہ تعلقات کی گہرائی اور پرعزم سمجھوتوں کی عکاسی کرتی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسیع بنانے کے لیے وہ چینی صدر شی جن پنگ، ہم منصب لی کی چیانگ اور دیگر چینی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کریں گے۔پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے دوران سیلاب متاثرین کے لیے بھیجی گئی امداد کا ذکر کرتے ہوئے شہباز شریف نے صدر شی جن پنگ، چینی حکومت اور چین کے عوام کا پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی بروقت مدد اور انسانی ہمدردی دکھانے پر شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ چین نے سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے ادویات، اشیائے خورونوش، مچھر دانیوں سمیت دیگر ضروری اشیا بھیجی ہیں۔انہوں نے کہاکہ چینی قیادت نے فراخ دلی سے پاکستان کی مدد کی ہے اور حکومتِ پاکستان سے مزید بھی معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ سیلاب کی زد میں آنے والے لوگوں کی امداد کے لیے چین مزید کیا کچھ کر سکتا ہے۔معاشی، سماجی اور ثقافتی میدانوں میں چین کی تیز رفتار ترقی کو سراہتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ چین عالمگیریت پر یقین رکھتا ہے، مزید کہا کہ وہ بھی اقتصادی ترقی کے چینی ماڈل کی تقلید کرنا چاہتے ہیں۔چین۔ پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے بارے میں بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا ابھرتا ہوا منصوبہ پاکستان میں توانائی اور انفرااسٹرکچر تبدیل کر چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت سی پیک منصوبے کو مزید بڑھانے کے لیے بھی وہ چینی قیادت سے بات کریں گے۔انہوں نے کہاکہ سی پیک کے تحت ملک کے تمام حصوں میں سڑکوں کے نیٹ ورک نے مسافت کا وقت کم کردیا ہے اور اب لوگ آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ سکتے ہیں۔ادھر پاکستان میں چینی سفارت خانے نے بھی ٹوئٹر پیغام میں وزیر اعظم کے دورے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ ہمارے کل وقتی اور اعلیٰ سطح کے تعاون کو مزید آگے بڑھائے گا۔ اسلام آباد  میں یو ٹیوبرز سے گفتگو کرتے ہوئے و زیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان اس ادارے کے خلاف باتیں کر رہا ہے جس نے اسے پالا پوسا، عمران نیازی نے افواج پاکستان پر حملے کیے جبکہ عظیم قربانیاں دینے والے ادارے کے خلاف زہر اگلا گیا۔ا شہباز شریف نے کہا کہ اس کو وہ سپورٹ ملی کہ جتنی 75سالوں میں کسی کو نہیں ملی، جو سپورٹ اس کو ملی اس کا 20فیصد بھی ہمیں ملتی تو ملک راکٹ کی طرح اوپر چلا جاتا۔وزیراعظم نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملک کی مفاد کیلئے عمران نیازی کو سپورٹ کیا، سپہ سالار نے یہی سوچا کہ ملک کی مفاد کی خاطر اس کو سپورٹ کرتے ہیں لیکن عمران خان نے شہدا کی تضحیک کی اور شہدا کا مذاق اڑایا، دشمن بھی ایسی حرکت نہیں کرتے۔شہباز شریف نے کہا کہ ادارے نے خلوص کے ساتھ اس کو سپورٹ کیا کہ شاید اس طرح پاکستان کی حالت بہتر ہوجائے لیکن عمران خان  نے 4سالوں میں کچھ بھی نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان ملکی سلامتی کے لیے خون دے رہی ہے لیکن کل ہندوستان نے پاکستان کا جو مذاق اڑایا، عمران نیازی نے کل جو باتیں کیں اس پر ہندوستان بغلیں بجا رہا ہے، اللہ تعالی عمران خان کے اس گناہ کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔شہباز شریف نے کہا کہ سابق حکومت نے ملک کو دیوالیہ کر دیا تھا لیکن ہمارے اقدامات کی وجہ سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، آج دوبارہ عمران نیازی نے دھرنوں اور مارچ کا اعلان کیا ہے، میں نے ٹی وی پر سنا ان کے اپنے لوگ کہہ رہے ہیں کہ لاشیں گریں گی لیکن اس سے کس کا نقصان ہوگا؟ ملک کو نقصان ہوگا۔وزیراعظم نے کہا کہ ان کی وجہ سے آج مہنگی ترین گیس بھی ہمیں نہیں مل رہی، آج مہنگائی اور بے روزگاری ہے لیکن ہم دن رات مہنگائی پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ یہ شخص ملک کو پہنچنے والے ناقابل تلافی نقصان کو اپنی ذات سے بالا تر سمجھتا ہے، یہ کہتا ہے میں ہوں تو سب کچھ،میں نہیں تو کچھ نہیں۔۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے مدینہ منورہ میں ہنگامہ آرائی کی انہوں نے عمران خان کی شہ پر کیا، مدینہ منورہ میں ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو عدالت نے سزائیں دیں لیکن میں نے شہزادہ محمد بن سلمان سے درخواست کی کہ ان لوگوں کو رہا کر دیں درگزر کر دیں۔شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کا نام میں نے نہیں عمران نیازی نے دیے تھے جبکہ انہوں نے اپنے دور میں کسی معاملے میں مشاورت نہیں کی تو اب ہم کیوں مشاورت کریں، وہ اپنے دور میں ہاتھ ملانا پسند نہیں کرتے تھے، میرا نام لینا پسند نہیں کرتے تھے اتنی دشمنی تھی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لیے عمران نیازی نے توسیع کی آفر کی، اس نے آئینی اقدام کو غیر آئینی طریقے سے ناکام بنانے کی کوشش کی۔

شہباز شریف

 اسلام آباد (اے پی پی)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان چین کیساتھ تجارتی اور سرمایہ کارانہ تعلقات کو چین پاکستان آزادانہ تجارت کے معاہدے کے دوسرے مر حلے کے تحت وسعت دینا چاہتا ہے تاکہ صنعتی تعلقات میں بھی بہتری آئے، ہم اپنے پڑوسی ممالک کیساتھ باہمی احترام اور تعاون کے جذبہ کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں، اقوام متحدہ کے چارٹرکے تحت مسئلہ کشمیر سمیت تمام حل طلب تنازعات کا مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعہ پرامن حل چاہتے ہیں، پاکستان ایک مضبوط، پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کی راہ پرگامزن ہے، پاکستان چینی کمپنیوں کو صنعت، زراعت، انفراسٹرکچر، گرین انرجی اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع فراہم کرتا ہے، پاکستان میں کام کرنے والے چینیوں اور ان کے منصوبوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے، پاکستان اور چین اپنے عوام کے روشن مستقبل کے ساتھ ساتھ خطہ کے امن و استحکام کیلئے تاریخ کی طرف سے ڈالی گئی ذمہ داری کو نبھانے کیلئے پرعزم ہیں۔ چینی اخبار گلوبل ٹائمز میں اپنے لکھے گئے ایک آرٹیکل میں وزیراعظم نے کہا کہ کنفیوشس نے ایک بار ان روشن الفاظ میں دوستوں اور دوستی کے الفاظ کو پیش کیا کہ اچھے دوست تین قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو براہ راست اور ایماندار ہوتے ہیں، دوسرے وہ جو بھروسہ مند، قابل اعتماد اور فیاض ہوتے ہیں اور تیسرے وہ جب آپ کو مدد کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ آپ کی رہنمائی کرتے ہیں اور وہ آپ کو ایسا راستہ دکھانے کی صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں جو آپ نہیں دیکھ سکتے۔ چین پاکستان دیرینہ دوستی ان تینوں صفات پر پورا اترتی ہے،۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کیلئے چین  کے ساتھ تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد ہیں، چین میں پاکستان کوآئرن برادر کہا جاتا ہے جبکہ ہمارے تعلقات کو دنیا میں منفرد مضبوطی، پائیدار استحکام اور قابل اعتبار بنیادوں پر سراہا جاتا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد ایک ایسے وقت میں چین کے دورہ پر ہوں گا، جب چین کی کمیونسٹ پارٹی کی 20ویں قومی کانگریس کامیابی سے اختتام پذیر ہوئی اور چین کی ترقی کے نئے دور کے آغازپراپنے بھائی جنرل سیکرٹری شی جن پنگ اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کو دلی مبارکباد پیش کرنا چاہتاہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ  انہیں پورا اعتماد ہے کہ یہ دور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کے ایک روشن باب کا آغاز بھی ثابت ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین کے گذشتہ دوروں کے دوران اس کی تیزرفتار ترقی اور اس ترقی کے رازوں سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی، اپنے سیاسی کیرئیر کے آغاز سے ہی چین کی تہذیبی اخلاقیات، تاریخی تجربات، عالمی سیاست اور معیشت کا مرکز بننے کیلئے چین کی کامیابیاں میرے لئے ناقابل بیان تجسس کا موضوع رہی ہیں۔ میں چینی عوام کی بے لوث لگن، محنت اور مشقت کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا ہوں جس میں قیادت کی جانب سے طے کردہ قومی اہداف کو حاصل کرنے کیلئے چینی رفتار قابل ذکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے میں نے صوبہ کی سماجی اور اقتصادی ترقی کیلئے اسی  جذبہ سے کام کرنے کی کوشش کی، بطور وزیراعظم پاکستان میں اپنے ترقیاتی اہداف کے حصول کیلئے اسی طرح کے جذبہ کے ساتھ کام کرنے کیلئے پرعزم ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین کے میرے  گذشتہ  دورہ کے بعد سے بین الاقوامی منظرنامے میں بے مثال تبدیلیاں آئی ہے جو جغرافیائی سیاسی کشیدگی، تنازعات، نظریاتی تقسیم، اقتصادی اور تکنیکی طورپر تنزلی اور مہنگے ہتھیاروں کی دوڑ کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ یہ سب ایک ایسے وقت میں وقوع پذیر ہو رہا ہے جب انسانیت کا ایک ہجوم غربت، امراض اور افلاس کا شکار ہے، دنیا کے بہت سے حصوں میں لوگ ابھی تک کووڈ 19 اور اس کے اثرات سے نمٹ رہے ہیں، آب وہوا کی تبدیلی کا چشمہ بڑے پیمانے پرپھیل رہا ہے جو آج کی ایک تلخ حقیقت ہے، پاکستان حالیہ تباہ کن سیلاب کی شکل میں اس کا شکار ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 21ویں صدی کے تقاضے ابھرتے ہوئے چیلنجوں کے ساتھ ساتھ مواقع سے نمٹنے اور اپنے خطہ کو تنازعات اور افراتفری سے دور کرنے کیلئے ایک نئے دورکا تقاضا کرتے ہیں، ہم اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ باہمی احترام اور تعاون کے جذبہ کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات ہیں اور  اقوام متحدہ کے چارٹر اور قراردادوں اور تنازعہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب تنازعات کا مذاکرات اور سفارتکاری کیلئے پرامن حل چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد چین کی اعلیٰ قیادت، مرکزی و صوبائی حکومتوں، کاروباری اداروں اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے عام گ پاکستان کی مدد کیلئے آگے آئے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ پاکستان میں سیلاب کے کرب ناک مناظر دیکھنے والے بچوں نے بھی اپنا جیب خرچ عطیہ کیا، یہ متحرک کہانیاں ہمارے لوگوں کے درمیان گہرے تعلق اور قریبی برادرانہ رشتوں کی عکاسی کرتی ہیں۔

وزیر اعظم مضمون

مزید :

صفحہ اول -