بھارتی خواتین کو سسرال میں کیسے مظالم برداشت کرنے پڑتے ہیں؟ ٹوئٹر تھریڈ نے دل دہلا دیے

بھارتی خواتین کو سسرال میں کیسے مظالم برداشت کرنے پڑتے ہیں؟ ٹوئٹر تھریڈ نے ...
بھارتی خواتین کو سسرال میں کیسے مظالم برداشت کرنے پڑتے ہیں؟ ٹوئٹر تھریڈ نے دل دہلا دیے
سورس: Creative Commons

  

 نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں شادی شدہ خواتین کو سسرالیوں کے ساتھ رہتے ہوئے کیا کچھ سہنا پڑتا ہے؟ اس حوالے سے بھارتی خواتین ایک ٹوئٹر تھریڈ میں ہلا کر رکھ دینے والے انکشافات کر رہی ہیں۔ انڈیا ٹائمز کے مطابق اس تھریڈ کی ابتداءخاتون وکیل میگھا مہتا نے کی۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ”جو لوگ بھارت کی نئی نسل کی لڑکیوں پر تنقید کرتے ہیں، جو اپنے شوہر سے الگ گھر لینے کو کہتی ہیں۔ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ کچھ وقت نکال کر اپنی ماﺅں کے پاس بیٹھیں اور ان سے پوچھیں کہ جب وہ بیاہ کر آئی تھیں تو انہیں سسرالیوں کے ساتھ رہتے ہوئے کیا کچھ برداشت کرنا پڑا تھا۔“

میگھا مہتا لکھتی ہیں کہ ”آپ کو اپنی ماں سے ایکتا کپور کے ڈراموں میں دکھائی جانے والی خوفناک کہانیوں جیسی کہانیاں سننے کو ملیں گی۔ جہیز کم لانے کے طعنوں سے جلد کی رنگت اور جسمانی وزن تک پر تنقید اور ہزار طرح کی خامیاں نکال نکال کر لڑکی کو ہمہ وقت ذہنی تشدد کا شکار بنایا جاتا ہے۔ بہو کو نوکرانی سمجھا جاتا ہے اور اس کا ہر معاملے میں استحصال کیا جاتا ہے۔ ساس، جیٹھانیاں اور نندیں الگ جینا دوبھر کرتی ہیں اور فیملی کے مرد افراد کی شہوت بھری نظریں الگ زندگی اجیرن کرتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج کل زیادہ تر دلہنیں سسرالیوں سے الگ رہنے کو ترجیح دے رہی ہیں۔“

میگھا مہتا لکھتی ہیں کہ ”اگر خدانخواستہ کوئی لڑکی بیوہ ہو جائے تو اصل ڈرامہ اس وقت شروع ہوتا ہے۔ لڑکی کو فوری طور پر اس کے میکے جانے سے روک دیا جاتا ہے اور یقینی بنایا جاتا ہے کہ اس لڑکی کو اس کے مر جانے والے شوہر کی وراثت سے کوئی چیز نہ ملے۔ فیملی کے جتنے لوگ زیادہ ہوں، حصے پر اتنا ہی زیادہ کلیش ہوتا ہے۔“

میگھا کے اس تھریڈ پر کمنٹ کرتے ہوئے نندھنی نامی ایک لڑکی نے لکھا ہے کہ ”میری شادی کے وقت میرا شوہر بیرون ملک مقیم تھا اور چند ماہ تک ویزا پراسیس کی وجہ سے مجھے اپنے سسرالیوں کے ساتھ بھارت میں ہی رہنا پڑا۔ اس دوران میں نے ان کے ساتھ ایک دیوالی منائی اور وہ دیوالی میری زندگی کی بدترین دیوالی تھی۔ ان لوگوں نے میرے ساتھ جو سلوک کیا تھا، آج بھی سوچ کر کانپ جاتی ہوں اور سوچتی ہوں کہ اگر مجھے مستقل وہاں رہنا پڑ جاتا تو کیا ہوتا۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -