اسپائی نوزا ، فلسفیوں کے اس شہزادے نے ساری عمر ایک صوفی کے طور پر گزاری

 اسپائی نوزا ، فلسفیوں کے اس شہزادے نے ساری عمر ایک صوفی کے طور پر گزاری
 اسپائی نوزا ، فلسفیوں کے اس شہزادے نے ساری عمر ایک صوفی کے طور پر گزاری

  

تحریر: ظفر سپل

قسط:19

اسپائی نوزا کے یہودی آباﺅ اجداد کا تعلق سپین کے شہر سپائی نوزا (Spizosa) سے تھا، جنہیں 1492ئ کے سقوط غرناطہ کے بعد وہاں سے نکال دیا گیا۔ یہ لوگ ہجرت کرکے پرتگال آگئے۔1498ءمیں انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ یہودیت ترک کرکے کیتھولک مذہب اختیار کر لیں۔ اسپائی نوزا کا والد تبدیلی مذہب کے تقریباً 100 سال بعد پرتگال ہی میں پیدا ہوا مگر بعد میں اس کے والد مائیکل (Michael) اور چچا مینویل (Manuel) نے ایمسٹرڈیم (Amsterdam) کی طرف ہجرت کی اور یہاںپہنچنے کے بعد اپنے آبائی عقیدے یہودیت کی طرف مراجعت اختیار کر لی اور ایک کامیاب تاجر کی حیثیت میں اپنا نام بنایا۔ اس کی ماں ”اینا ڈی بورا“ (Ana Debora) کا تعلق بھی پرتگال سے تھا۔ وہ اس کی پیدائش کے 6سال بعد فوت ہو گئی۔ جب اسپائی نوزا بائیس (22) سال کا ہوا تو اس کا باپ بھی فوت ہو گیا، مگر اس وقت تک وہ اپنی 3بیویوں اور4 بچوں کو اپنے ہاتھوں سے دفنا چکا تھا۔

اسپائی نوزا 24نومبر1632ءکو ایمسٹرڈیم میں پیدا ہوا۔ ایک مختصر سی زندگی کا پروانہ ہاتھ میں لے کر آنے والے فلسفیوں کے شہزادے نے ساری عمر ایک صوفی، درویش اور ولی کے طور پر گزاری۔

وہ اپنے درون میں ایک گہرا مذہبی آدمی تھا، مگر ظاہراً کسی معروف عقیدے کا پیروکار نہ ہونے کی پاداش میں تمام مذاہب کے پیروکاروں نے اسے شدید مذہبی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کی تحریروں پر پابندی لگائی گئی، انہیں نذر آتش کیا گیا اور بے حرمتی کی گئی۔ اس کے ساتھ یہ سب کچھ اس لیے کیا گیا کہ وہ سچائی تک عقیدے کی طاقت کی بجائے اپنے ریاضیاتی طریقہ کار (Mathematical System) کے ذریعے پہنچنا چاہتا تھا اور اس کی جیومیٹری اس کو یہ ثبوت فراہم کرتی تھی کہ ”خدا اورکائنات ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔“ وہ کہتا تھا ”جب تم دنیا کو ضرر پہنچاتے ہو تو دراصل خدا کو ضرر پہنچاتے ہو اور جب تم کسی اور کو نقصان پہنچا رہے ہوتے ہو تو دراصل اپنا خسارہ کر رہے ہوتے ہو۔“ یہ دراصل وحدت الوجودی عقیدے پر ایمان کا اظہار تھا۔

تاجر باپ کے بیٹے کو کاروبار سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس کی بجائے وہ اپنا زیادہ وقت ہیکل میں گزارتا تھا۔ اس وقت کے یہودی تعلیمی دستور کے مطابق وہ گھنٹوں تورات اور تالمود (یا تلمود) (Talmud) کے مطالعہ میں گزارتا اور انتہائی بور کر دینے والے اس تعلیمی نصاب سے باقاعدہ لطف اندوز ہوتا۔ سو، اس کے باپ کا خیال درست تھا کہ وہ ضرور ایک یہودی عالم(Rabbi) بنے گا۔ سکول کے اوقات کے بعد وہ اپنا وقت لاطینی اور قدیم یونانی زبان سیکھنے میں گزارتا تھا۔ گھر میں تو ظاہر ہے یہ لوگ پرتگالی زبان بولتے تھے لیکن اسپائی نوزا نے ولندیزی، فرانسیسی اور ہسپانوی (Spanish) زبان بھی سیکھی مگر یہ لاطینی زبان سیکھنے کا شوق تھا جو اس پر ان خیالات و نظریات کے راستے کھولتا چلا گیا جن پر اس نے آنے والے دنوں میں سفر کرنا تھا۔

یہ لاطینی زبان سیکھنے کا شوق ہی تھا جو اسے20 برس کی عمر میں،1653ءمیں فرانسس وان ڈن اینڈن (Frances Van den Enden) کے قریب لے آیا۔ عیسائی وان ڈن اینڈن شاعر، ڈرامہ نگار اور اپنے علاقے کا جانا پہچانا، مگر بدنامی کی حد تک اعتدال گریز آزاد خیال تھا۔ اس نے ہی اسپائی نوزا کو فلسفے کے متکلمانہ نظام، جدید فلسفے اور خصوصاً ڈیکارٹ سے متعارف کروایا۔(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -