صرف 19سال کی عمر میں کرتار سنگھ سرابھانے پھانسی کے پھندے کو چوما 

صرف 19سال کی عمر میں کرتار سنگھ سرابھانے پھانسی کے پھندے کو چوما 
صرف 19سال کی عمر میں کرتار سنگھ سرابھانے پھانسی کے پھندے کو چوما 

  

مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:90

غدر پارٹی کا پنجاب میں کام:

غدر پارٹی نے پنجاب میں 2 طرح کے لوگوں میں کام کرنے کا فیصلہ کیا۔

-1 پنجاب کے دیہاتی عوام میں۔

-2  پنجابی فوج کے یونٹوں میں۔

پنجاب کے دیہات میں خفیہ اجلاس کیے گئے۔ انقلابی کام کرنے والوں میں پیش پیش کرتار سنگھ سرابھا تھا۔ اس نے بھائی ندھان سنگھ سے مل کر ضلع فیروز پور، امرتسر اور لدھیانہ کے دیہات میں بڑی محنت سے عوام کو اکٹھا کرنا شروع کیا اور تقریروں کے ذریعے لوگوں کو انگریزوں کے خلاف بغاوت کے لیے تیار کیا۔ کرتار سنگھ سرابھا انقلابی نشے میں سرشار ہو کر اپنی زندگی سے بے نیاز شب و روز ایک گاﺅں سے دوسرے گاﺅں میں پروپیگنڈا کرتا رہا کچھ عرصے کے بعد اسے گرفتار کرلیا گیا اورسزائے موت دی گئی۔ جب اس کی گردن میں پھانسی کا پھندا ڈالا گیا اس وقت اس کی عمر صرف19 سال تھی۔ وہ شاعر بھی تھا۔ مرنے کے بعد اس کے یہ شعر بہت مشہور ہوئے۔

 سیوا دیس دی جند ڑیئے بڑی اوکھی

 گلاں کرنیاں ڈھیر سوکھالیاں نیں

جنہاں دیس سیوا وچ پیر پایا

اونہاں لکھ مصیبتاں جالیاں نیں

 کرتار سنگھ سرابھا کے علاوہ کئی اور انقلابی بھی تھے جنہیں 1915 میں سزائے موت دی گئی۔

فوج میں بغاوت کی کوشش:

غدر پارٹی کے قائدین نے پنجابی فوج میں پروپیگنڈہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے بہت سے کارکن فوج میں بھرتی کروائے۔ طے یہ کیا گیا تھا کہ ہندوستان میں متعین پنجابی فوج اور جنوب مشرقی ایشیا ءمیں متعین پنجابی فوج ایک ہی وقت بغاوت میں شامل ہو(جنگ عظیم کی وجہ سے ہندوستانی فوج ملک سے باہر بھی گئی ہوئی تھی)

غدر پارٹی کے اعلان کی وجہ سے سنگاپور میں پنجابی فوج میں ایک مشہور بغاوت برپا ہوئی۔ یہاں مسلمان لائٹ انفنٹری کے ایک یونٹ نے بغاوت کا اعلان کرکے انگریز فوج کو گھیرے میں لے لیا باغی فوجی3 حصوں میں بٹ گئے۔ ایک حصے نے گرفتار جرمن فوجیوں کو بغاوت میں شامل کرنے کے ارادے سے جیل توڑ کر رہا کرا لیا۔ لیکن فوجی ڈسپلن کے پابند جرمنوں نے باغیوں کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ دوسرا باغی یونٹ شہری آبادی کو بغاوت پر آمادہ کرنے گیا۔ اس نے دو دن تک سنگاپور شہر پر قبضہ کیے رکھا۔ لیکن جرمن فوجیوں کی طرح سنگاپور کے شہریوں نے بھی باغیوں کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔2دنوں کے بعد انگریز فوج کو کمک پہنچ گئی اور بغاوت کچل دی گئی۔48 گھنٹوں کی لڑائی میں 42 آدمی مارے گئے جن میں8 سینیئر انگریز افسر بھی شامل تھے۔

 سنگاپور کے باغیوں کا کورٹ مارشل ہوا 37 کو سزائے موت سنائی گئی 41 کو کالے پانی بھیج دیا گیا اور48 کو جیل بھیج دیا گیا۔

 پنجاب میں فوجی بغاوت کا پروگرام پہلے 21 فروری کو برپا کرنے کا فیصلہ کیا گیاتھا۔ لیکن مخبری ہو جانے کے نتیجے میں2 دن قبل بغاوت کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ طے یہ پایا کہ پہلے لاہور کے پنجابی یونٹ بغاوت کی ابتداءکریں گے اس کے بعد ساری چھاﺅنیوں کے یونٹ اس میں شامل ہونگے اور قلعہ لاہور پر بغاوت کا جھنڈا لہرا کر انقلابی حکومت کا اعلان کر دیا جائے گا۔

3 رنگ کا جھنڈا بنایا گیا۔ سبز، پیلا اور سرخ، سبز رنگ مسلمانوں کی نمائندگی کرتا تھا پیلا رنگ سکھوں کی اور سرخ رنگ ہندوﺅں کی نمائندگی کا اظہار تھے۔ لیکن ان3 رنگوں والے جھنڈے کا مطلب آزادی، اخوت اور برابری بھی تھا۔

 یہ بغاوت مخبری کی وجہ سے ناکام ہوگئی۔ لاہور کے فوجی یونٹوں نے اس لیے بغاوت نہ کی کہ مخبری کے بعد انہیں نہتا کر دیا گیا۔ دوسرے فوجی یونٹ جن میں انقلابی پروپیگنڈہ کیا گیا تھا راتوں رات جنگی محاذ پر روانہ کر دیئے گئے۔( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -