Daily Pakistan

دو پاکستانی نظریہ

رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے

پاسبان نہیں ،نگہبان اب نہیں

موت لائی، کیسی یہ تبدیلی آئی

آسمانی مخلوق سے سپہ سالار تک

آؤ ہم بھی سیر کرائیں تم کو پاکستان کی

بنیان دھوتی کاش میری ہوتی

زرداری کی کرپشن سب پر بھاری 

تیار تیرا ہے پھر سے مقتل

اودھا ، نیلا ، لال ،پیلا آسمان

دہری شہریت نے میرے ہاتھ باندھ دئیے ہیں 

کہاں سے لائیں تیری کھلی ہوائیں

بات ہنسی میں نہ اڑاؤ لوگو

مِس فائرڈ میزائیل

میں نہیں مانتا ،میں نہیں جانتا

وچوں وچوں کھائی جاؤ ،اتْوں نعرے لائی جاؤ

اپنوں سے تنگ مخالف  کا ستایا

جمہور کی جمہوریت کا کانپتا ڈھانچہ

چشمِ فلک نے کیا کیا دیکھا

خودکشی کے لئے انٹری ٹیسٹ

"نیا" نہیں " اَچّھا" کرنے کی ضرْورت ہے...!!!

وفائیں  امتحان  لیتی  ہیں

اقتدار ، فرعونیت اور انصاف

جو اماں ملی ، تو زباں ملی

ربّ نے میرے بیٹے کو قصائی بننے سے بچا لیا،ایک ڈاکٹرکی کتھا آپ بھی سنیں 

میں آنے والی نسل کو ڈیم کا تحفہ دوں گا ،ان شاء اللہ

سوئی کے نکے سے گذرتے فرشتے

نوٹ اور ووٹ دے کے بھی محکوم

دعا  ہو  کہ درد ِ دل کی  دوا  ہو 

تم نے اپنے بچوں کو سونے کا نوالا دینے کے لئے ہمارے بچوں سے گیہوں تک چھین لیا

عمران خان کے نام کھلاخط 

جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

کالے دھن کا ہوں میں مالک  اِک آنکھ کا تارا

اگر آپ چھوٹے بچوں کو جنسی تعلیم  ہی دینا چاہتے ہیں توپہلے  یہ کام کرنا ہوگا

میرے اشرافیہ او رآمروں کی ایک تاریخ

سیاست کو عبادت سمجھنے والوں سے سوال ہے

مزیدخبریں