یونیورسٹی اور حکومت سندھ

epaper

پاکستان میں عجیب صورت حال ہے۔ جو کام حکومتوں کے کرنے کے ہیں وہ سیاسی جماعتیں (سب نہیں)، غیر سرکاری تنظیمیں یا افراد کرتے ہیں اور حکومت میں شامل لوگ مزے اڑاتے ہیں۔ بڑی بڑی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں۔ بڑے بڑے مکانات میں قیام کرتے ہیں اور بڑے بڑے دفاتر میں سرکاری ملازمین پر حکم صادر کرتے ہیں۔ انہیں یہ ساری سہولتیں سرکاری خرچ پر مہیا ہوتی ہیں۔ تعلیمی ادارے تعمیر کرنا، انہیں نظم و ضبط کے ساتھ چلانا حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کے علاوہ ہسپتال چلانا یا عوام کو صحت اور علاج معالجہ کی سہولتیں فراہم کرنا حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ عوام کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ تصور تو کریں اگر سیلانی کا دستر خوان نہ ہو تو کراچی اور حیدر آباد کے غریب لوگ کس بُری طرح متاثر ہوں گے، سرکاری اسپتالوں میں اگر مریضوں کو کھانا نہیں ملے گا تو وہ کیا کریں گے۔ اگر ایدھی کی ایمبولنس سروس نہ ہو تو لوگ کیا کر رہے ہوں گے۔ کراچی میں چھیپا کی سروس نہ ہو تو لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوگا۔ میت گاڑیاں تک الطاف حسین کی قائم کردہ خدمت خلق فاﺅنڈیشن ( کے کے ایف) اور دیگرغیر سرکاری تنظیمیں چلاتی ہیں۔ یہ ذمہ داری بلدیاتی اداروں کی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ان غیر سرکاری اداروں کے کاموں کے پیش نظر حکومتیں اپنی کارکردگی اور خدمات کا معیار بہتر بناتیں اور ان کا دائرہ کار وسیع کرتیں، لیکن اس کے برعکس ہوا کہ جہاں جہاں غیر سرکاری تنظیمیں پہنچیں وہا ں وہاں حکومت دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔ اس نے جانا کہ اس کی ذمہ داریاں ختم ہو گئیں ۔ ریگستانی تھر پار کر حکومت کی ناکامیوں کی افسوس ناک تصویر پیش کرتا ہے، جبکہ دیگر شہروں کی حالت بھی نا گفتہ بہ ہے۔ لوگوں کے لئے تفریحی مقامات، بچوں کے لئے کھیل کود کے میدان، پارک وغیرہ بھی بلدیاتی اداروں نے قائم کرنا یا جہاں جہاں قائم ہیں ان کی دیکھ بھال کرنا چھوڑ ہی دیا ہے۔

تعلیم کا حال سب سے زیادہ تباہ کن ہے۔ حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے جس بڑے پیمانے پر پرائیوٹ تعلیمی ادارے پھلے پھولے ہیں، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ رہائشی مکانات میں اسکول قائم ہیں۔ سکول کے قیام کے اپنے تقاضے اور ضروریات ہوتی ہیں۔ ایک فیصد سکولوں میں بھی کھیل کے میدان نہیںہیں۔ لائبریریاں نہیں ہیں۔ طلباءکی غیر نصابی تعلیم کا تصور ہی نہیں ہے۔ حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کا معاملہ ہی دیکھ لیں۔ ایک وقت کے سابق وزیراعظم راجہ اشرف پرویز فروری 2013ءمیں اپنے سابق تعلیمی ادارے گورنمنٹ کالج پھلیلی کو کالج کے اساتذہ اور طلباءکے مطالبہ پر یونیورسٹی کے قیام کا اعلان ہی کرنے کو تھے کہ اس وقت کے صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہر الحق برق رفتاری سے اپنی کرسی سے اٹھے اور انہوں نے راجہ جی کے کان میں کہا کہ یونی ورسٹی کے قیام کا اعلان نہیں کریں۔ راجہ جی نے انہیں دیکھا اور خاموش ہو گئے۔ اِسی دوپہر جب پیر مظہر سندھ یونیورسٹی کے کانووکیشن کی تقریب میں شریک ہوئے تو انہوں نے فخریہ اعلان کیا کہ وہ حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کی راہ میں آہنی دیوار ہیں، حالانکہ وہ خود کہتے ہیں کہ ان کے دادا پیر الٰہی بخش نے جب سندھ یونیورسٹی کے قیام کا بل سندھ اسمبلی میں اپریل 1947ءمیں پیش کیا تو انڈین نیشنل کانگرس نے اس کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ سندھ میں یونیورسٹی کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ یونیورسٹی ممبئی میں موجود ہے۔ ان کے اپنے اس بیان کی روشنی میں وہ خود ہی دیکھیں کہ ان سے کتنی بڑی غلطی سر زد ہو گئی۔

بھلا ان سے کوئی پوچھتا کہ اگر حیدرآباد میں یونیورسٹی قائم ہو جاتی تو انہیں یا حکومت سندھ کو کیا نقصان ہوتا۔ انہوں نے وہی کام کیا جوقیام پاکستان سے قبل ہندو اشرافیہ حیدرآباد کے مسلمانوں کے ساتھ کر رہی تھی کہ مسلمانوں کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم نہیں کئے جاتے تھے۔ حیدرآباد میں قیام پاکستان سے قبل جتنے بھی تعلیمی ادارے موجود تھے ان کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ مسلمانوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں تھی، حالانکہ مسلمانوں کی آبادی موجود تھی۔ اس وقت کے مقامی ہندو اکابرین کی اس روش نے مسلمانوں کو عام ہندوﺅں بے بھی برگشتہ کر دیا تھا۔ ممبئی سے سندھ کی علیحدگی کی کئی وجوہات میں ایک بڑی وجہ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنا بھی تھا۔ پیر مظہر نے محکمہ تعلیم کا وزیر ہونے کی حیثیت سے تعلیم کے میدان میں جو ”خدمات “ انجام دی ہیں ان کے بارے اگر وہ خود بھی کبھی سوچتے ہوں گے تو شرمندگی محسوس کرتے ہوں گے۔ ایسی وزارت کس کام کی جس پر شرمندگی محسوس کی جائے۔

بہرحال ضرورت کے باوجود حیدرآباد میں سرکاری یونیورسٹی قائم نہیں ہو سکی۔ اس فریضے کو بحریہ ٹاﺅن کے مالک ملک ریاض حسین نے انجام دیا۔ انہوں نے کراچی اور حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کیا اور دونوں یونیورسٹیوں کو متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے نام موسوم کردیا۔ ایم کیو ایم طویل عرصے سے حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ کر رہی تھی۔ ایم کیو ایم کی مخالف سیاسی تنظیمیں خصوصا جماعت اسلامی ایم کیو ایم کو دکھیلنے کے لئے اس مسئلہ پر مہم چلاتی رہی ہے۔ کراچی میں ایک سرکاری یونیورسٹی کے علاوہ کئی پرائیوٹ یونیورسٹیاں موجود ہیں، حالانکہ کراچی میں ایک کی بجائے چار سرکاری یونیورسٹیوں کی ضرورت ہے۔ سرکاری یونیورسٹی کی ضرورت اس لئے زیادہ محسوس کی جاتی ہے کہ پرائیوٹ یونیورسٹی کے مقابلے میں فیس کم اور سہولتیں زیادہ ہوتی ہیں اِسی لئے لوگ سرکاری یونیورسٹیوں کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں۔ حیدر آباد میں ایک سرکاری یونی ورسٹی کی شدید ضرورت اس لئے ہے کہ سندھ یونیورسٹی میں ایک جانب اتنی گنجائش نہیں ہے۔ سندھ یونیورسٹی نے ضلع بدین، ٹھٹہ، میرپور خاص، دادو، وغیرہ میں اپنے کل وقتی کیمپس قائم کئے ہیں، لیکن حیدر آباد کو نہ جانے کیوں نظر انداز کیا گیا،حالانکہ جامشورو منتقلی کے باوجود ایک زمانے تک حیدرآباد میں یونیورسٹی کیمپس موجود تھا۔ سندھ یونی ورسٹی کے دریا پار ہونے کی وجہ سے خصوصاً طالبات کو وہ زیادہ ہی فاصلے پر محسوس ہوتی ہے۔ عدم تحفظ بھی ان کے لئے اہمیت کا حامل ہے۔ یونیورسٹی کے پاس بسوں کی بھی وہ تعداد کبھی نہیں رہی جو تمام طلباءو طالبات کو سمو سکے۔ ایسے میں اگر گورمنٹ کالج میں یونیورسٹی قائم ہوجاتی تو عوام کا ہی بھلا ہوتا ۔ یہ گورنمنٹ کالج بھی کسی حکومت نے قائم نہیں کیا تھا بلکہ اسے تو 1917ءمیں اینی بیسنٹ کی تحریک پر قائم کیا گیا تھا ۔ بعد میں اس ادارے کا نام کئی بار تبدیل ہوتا گیا ۔ 1928میں اس کا نام دیا رام گدو مل نیشنل کالج رکھا گیا تھا، جسے قیام پاکستان کے بعد حکومت سندھ نے 1948ءمیں اپنے کنٹرول میں لیا تو بس اتنا کیا کہ اس کا نام گورنمنٹ کالج رکھ دیا۔ جن لوگوں نے اسے قائم کیا تھا، ان کی خدمات کا یہ صلہ دیا گیا کہ آج ان کے کہیں نام تک موجود نہیں ہیں۔ ہم بھی کتنے احسان فراموش ہیں۔ اینی بیسنت، پروفیسر ڈاکٹر ارنیست وڈ، سیٹھ پرتاب رائے منگھر سنگھ جنہوں نے کالج کے لئے زمین پیش کی تھی، نادر شا ایدلجی ڈنشا، دیا رام گدو مل، پروفیسر اڈریین ڈیوارٹ ، آنجہانی نرمل داس دھرم داس گر بخشانی اور ان جیسے اعلی تعلیم یافتہ قابل کئی سابق پرنسپل حضرات کے نام و نشاں کہیں موجود نہیں ہیں۔ اگر اس ادارے کا نام دیا رام گدو مل نیشنل کالج ہی رہنے دیا جاتا تو کسی پر بھی کیوں گراں گزرتا۔

 ملک ریاض حسین بہر حال بازی لے گئے۔ انہیں الطاف حسین یونیورسٹی قائم کرنا ہے، جس کی تعمیر کے بارے میں خود انہوں نے کہا کہ ایک ماہ میں شروع ہو جائے گی۔ بحریہ ٹاﺅن کو ابھی حیدرآباد میں زمین حاصل کرنی ہے، جو وہ کر ہی لیں گے کہ ان کی آصف علی زرداری کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی کئی لحاظ سے قابل ذکر و ستائش ہے۔ بحریہ ٹاﺅن تو کراچی سمیت سندھ کے کئی شہروں میں کام کر بھی رہا ہے اور مزید سرکاری زمینوں کو تلاش بھی کیا جارہا ہے۔ الطاف حسین نے یونیورسٹی کے قیام کی بھر پور ستائش کی ہے اور ایک سال میں یونیورسٹی کے قیام کا یقین بھی دلایا ہے۔ یونیورسٹی شہریوں کا دیرینہ خواب تھا جو پورا ہونے کو ہے۔ یہ ذمہ داری اگر حکومت سندھ انجام دے دیتی تو وہ اس کی گراں قدر خدمات میں شمار کی جاتی۔ ابھی بھی وقت ہے کہ حکومت الطاف حسین یونیورسٹی کو سرکاری درجہ دے کر اس کے تمام اخراجات پورے کرنے کی ذمہ داری ادا کرنے کا اعلان کرے ۔ الطاف حسین نے خود حکومت سندھ سے کہا کہ یونیورسٹی کے قیام کے بل کی منظوری اسمبلی سے کرادیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر منظوری نہیں کرائی گئی تو وہ خود گلی گلی گھوم کر اس کے لئے چندہ جمع کریں گے، لیکن اب ملک ریاض حسین کے اعلان کے بعد چندے کی تو ضرورت نہیں، البتہ یہ سوال موجود رہے گا کہ کیا اس یونیورسٹی میں فیسیں سرکاری یونیورسٹیوں کے مساوی ہوں گی اور سہولتیں بھی وہی ہوں گی، کیونکہ پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں فیسیں اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ عام لوگ ان کا رُخ نہیں کرسکتے۔ اب دیکھنا ہو گا، ملک صاحب صرف یونیورسٹی کی عمارت بنا کر رہ جاتے ہیں یا اسے غریبوں کے لئے ”ایفورڈیبل“ بھی بناتے ہیں۔ مَیں تو صرف یہ سوچتا ہوں کہ کیا حکومتیں ایسے ہی چلائی جاتی ہیں جیسے پاکستان میں چلائی جا رہی ہیں۔ امتیازی سلوک، سفارش، اہل لوگوں پر غیر اہل لوگوں کو ترجیح اور، بدعنوانی اور ناانصافی کی مرتکب حکومتیں ، کب تک اور کیوں چلتی رہیں گی؟