تعلیمی اداروں کی مجوزہ مسماری کیخلاف درخواست، حتمی بحث کیلئے وکلاءطلب

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے شاہدرہ میں لاری اڈہ کی تعمیر کے نام پر تین فنی تعلیمی اداروں کی مجوزہ مسماری کے خلاف درخواست میں فریقین کے وکلاءکو حتمی بحث کے لئے طلب کر لیا۔مسٹر جسٹس شمس محمود مرزا نے شاہدرہ ویلفیئر کونسل کے جنرل سیکرٹری ملک خدا بخش اعجاز کی درخواست پر سماعت شروع کی تو محکمہ صنعت اور ٹیوٹا کی طرف سے جواب داخل کراتے ہوئے موقف اختیار کیاگیا کہ شاہدرہ میں تعلیمی اداروں کو مسمار نہیں کیا جا رہا بلکہ انہیں دوسرے شہروں اور جگہ پر منتقل کیا جارہا ہے کیونکہ اس علاقے میں انڈسٹری کی قلت ہونے کی وجہ سے طلباءکی حاضری نہ ہونے کے برابر تھی، درخواست گزاروں کی طرف سے بتایا گیا کہ شاہدرہ میںلاری اڈا کی تعمیر کے لئے اس علاقے میں موجود تاریخی حیثیت کے چار تعلیمی اداروںکو گرانے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے اور انہیں دور دراز علاقوں میں منتقل کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں جو کہ بنیادی حقوق کی واضح خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد انہیں حتمی بحث کیلئے طلب کرتے ہوئے مزید سماعت 16دسمبر تک ملتوی کر دی ۔

وکلاءطلب