کیا خوب قیامت ہے گویا کوئی دن اور ،پشاور میں دہشتگردوں کا آرمی سکول پر حملہ ،132بچوں سمیت 141شہید،7حملہ آور جہنم واصل

پشاور،اسلام آباد،کوئٹہ ،لاہور (آن لائن،آئی این پی،نامہ نگار خصوصی، کرائم ر پورٹر) خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں وارسک روڈ پر واقع آرمی پبلک سکول میں حملہ آوروں نے بچوں اور عملے کو یرغمال بنالیا‘ دھماکوں اور فائرنگ سے132 بچوں سمیت 141 افراد شہید جبکہ 245 سے زائد زخمی ہوگئے‘ سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 7 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا‘ رات گئے تک آپریشن جاری رہا ‘ ‘ صدرممنون حسین اور وزیر اعظم نواز شریف نے واقعے کی مذمت ۔ وفا قی اور چا روں صو با ئی حکو متو ں کا تین روزہ سو گ کا اعلان ۔میڈیارپورٹس کے مطابق پشاور میں الیکشن کمیشن کے صوبائی صدر دفتر کے قریب ورسک روڈ پر واقع پاک فوج کی رہائشی کالونی سے متصل آرمی پبلک سکول میں نصابی سرگرمیاں جاری تھیں کہ سکیورٹی فورسز کی وردی میں ملبوس7 دہشت گردوں نے گھس کر فائرنگ کردی۔ فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز نے سکول سمیت پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر کارروائی شروع کردی جبکہ فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی ۔سیکورٹی فورسز نے سکول کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ۔سیکورٹی فورسز نے ورسک روڈ بند کرکے علاقے کا محاصرہ کر لیا ۔پولیس کے مطا بق 7 دہشت گرد دیوار پھلانگ کرسکول میں داخل ہوئے۔حملہ آوروں نے سکو ل میں داخل ہونے سے قبل اپنی گاڑی کو بھی آگ لگا دی،جبکہ 2دھماکے بھی کئے گئے۔ فائرنگ اور دھماکوں کے نتیجے میں 132بچوں سمیت 141افراد شہید جبکہ245 کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور 9 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان اور صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق غنی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے سکول میں موجود شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی۔ مشتاق غنی نے بتایا کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے بچوں اور سٹا ف کو بحفاظت سکول سے باہر نکال لیا ۔لاشوں اور زخمی بچوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور سی ایم ایچ منتقل کیا گیا جہاں زخمی بچوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ ۔سکول سے باہر آنے والے بچوں کا کہنا تھا کہ ان کے ایک ٹیچر بھی گولیوں کی زد میں آے ہیں ۔ایک عینی شاہد مدثرنامی شخص نے بتایا کہ سکو ل میں ایک فن فیئر ہورہا تھا کہ دہشت گردوں نے حملہ کردیا ۔ مدثر نے بتایا کہ سکول کے بڑے ہال آڈیٹوریم میں نویں اور دسویں جماعت کے طلبا کی ایک تقریب ہو رہی تھی جبکہ کچھ کلاسز میں بچوں کے امتحانات ہو رہے تھے اس لیے سکول میں بچوں کی تعداد معمول سے کم تھی۔جبکہ سکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دہشت گرد فورسز کی یونیفارم میں ملبوس ہوکر سکول میں داخل ہوئے اورفائرنگ کرتے ہوئے کلا سوں میں موجود اساتذہ اورطلبہ کو یرغمال بنا لیا ۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سکول سے کئی طلبہ اور اساتذہ کو سکول سے بحفاظت نکا ل لیا گیا ہے۔میڈیا پر خبریں آنے کے بعد بچوں کے والدین کی بڑی تعداد سکول پہنچ گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اعلامیہ جاری کیا کہ بچوں کو سکول کے پچھلے راستے سے نکالا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ سے زخمی ہونے والوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے‘ سکول میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ ہدف سکول کے بچے تھے۔برطانوی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے سکول کے بس ڈرائیور جمشید خان نے کہا ’ہم سکول کے باہر کھڑے تھے جب اچانک فائرنگ شروع ہو گئی۔ ہر طرف افراتفری تھی اور بچے اور اساتذہ کی چیخوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔مقامی ذرائع نے بتایا مسلح افراد سکول کے اندر داخل ہوئے اور فائرنگ کی ۔ ہم سکول کے باہر کھڑے تھے جب اچانک فائرنگ شروع ہو گئی۔ دریں اثناء صدر ممنون حسین اور وزیراعظم محمد نواز شریف نے پشاور میں سکول پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کی ان بزدلانہ کارروائیوں سے پاک فوج اور قوم کے حوصلے پست نہیں کئے جاسکتے۔علاوہ ازیں اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی‘ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن‘ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین‘ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان‘ مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین‘ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سمیت چاروں صوبائی وزرائے اعلی‘ گورنرز اور وفاقی وزراء اور دیگر سیاسی و سماجی و مذہبی راہنماؤں نے دہشت گردی کی اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے سوگوار خاندنوں سے اظہار ہمدردی کیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے آئی جی خیبر پختوبنخواہ سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ کی اطلاع ای ایم سی سنٹر میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے دوران ملی۔ آرمی چیف سکول پر دہشت گرد وں کے حملے کے بارے میں لمحہ بہ لمحہ معلومات حاصل کرکے ضروری ہدایات بھی جاری کرتے رہے۔ دہشت گرد حملے کی وجہ سے آرمی چیف دورہ کوئٹہ مختصر کرکے پشا ور پہنچ گئے علاوہ ازیں پشاور میں سکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ہاکی ٹیم کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب ملتوی کر دی۔ سیکرٹری پی ایچ ایف رانا مجاہد نے کہا کہ ہم سانحہ پشاور کے متاثرین کے ساتھ ہیں اور ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں، اس لئے ہاکی ٹیم کی استقبالیہ تقریبات ملتوی کر دی گئی ہیں۔ نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ وزیراعلی پرویز خٹک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئیکہا کہ ایف سی کی وردیوں میں ملبوس آٹھ سے دس دہشت گرد آرمی پبلک سکول میں داخل ہوئے جنہوں نے سکول میں بچوں کو یرغمال بنالیا اور فائرنگ کی جس کے نتیجے میں شہید ہونے والے بچوں کی تعداد 104 ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا جبکہ ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخواہ حکومت افسوسناک واقعہ پر تین روزہ سوگ کا اعلان کرتی ہے اور شہداء پیکیج کا اعلان بھی کیا جائے گا۔پاکستان باراورپنجاب بارکونسل نے سانحہ پشاور کے خلاف ملک بھر کی عدالتوں میں آج 17دسمبر کوہڑتال اور یوم سوگ منانے کا اعلان کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بچوں کو شہید کر کے دہشت گردوں نے اسلام دشمنی ثابت کر دی۔پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین برہان معظم ملک کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وکلاء برداری پشاور کے سکول میں دہشت گردوں کی طرف سے معصوم بچوں کو شہید کئے جانے کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہیں اور شہداء کے والدین سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے سکول میں بچوں کو شہید کر کے ثابت کیا ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہیں، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل نے ملک کی بار ایسوسی ایشنوں اور وکلاء تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ آ ج سانحہ پشاور کیخلاف یوم سوگ منائیں اور احتجاجاً عدالتوں میں پیش نہ ہوں، وائس چیئرمین برہان معظم ملک نے سانحہ پشاور کو وفاقی و خیبرپختونخواہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردوں کو گرفتار کر سخت سزا دی جائے۔ پاکستان بار کونسل نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کیلئے جامع حکمت عملی اپنائی جائے۔دریں اثناء چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بارکونسل چودھری طاہر نصراللہ وڑائچ اور لاہورہائیکورٹ بار کے صدر شفقت محمود چوہان سمیت دیگر بارعہدیداروں نے بھی پشاور میں بچوں کے سکول میں دہشت گردی کے واقعہ کی پرزورمذمت کرتے ہوئے شہید ہونیوالے بچوں کے ورثاء کیساتھ اظہاریکجہتی کے لئے آج مکمل ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ وکلاء رہنماؤں نے کہا کہ عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ اوریوم سیاہ منایا جائے جائے گا۔ ہائیکورٹ بار کے صدرشفقت محمود چوہان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کو درخواست کی ہے کہ ہائیکورٹ میں دائرہونیوالی درخواستوں کی سماعت آج بدھ کی بجائے کل جمعرات کو کی جائے۔ ان کا کہناتھا کہ بدھ کو ہائیکورٹ میں صرف عبوری ضمانت کی درخواستوں کی سماعت ہوسکے گی جس میں وکلاء کی جگہ صرف سائلین پیش ہوسکیں گے۔اطلا عا ت کے مطا بق آرمی پبلک سکول میں بدترین دہشت گردی کے دوران وہاں سکول پرنسپل بھی موجود تھی جو کہ لاپتہ تھی جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے سارا دن آپریشن جاری رکھا اس دوران سکول کی عمارت میں کھڑکیوں ،روشن دانوں ،واش رومز اور دروازوں کے پیچھے بچوں کو نکال کر والدین کے حوالے، زخمی بچوں کو ہسپتالوں اور شہید ہونیوالوں کو سی ایم ایچ روانہ کیا تاہم رات گئے سکول کی پرنسپل طاہرہ قاضی کی لاش برآمد کرکے سکول کو کلیئر قرار دیدیا اور سکول کو انتظامیہ کے حوالے کردیا ۔