تعلیم کا کردار

epaper

جناب احمد ندیم قاسمی نے ایک ایسے امریکی دانشور کا ذکر کیا ہے ،جس نے چند برس راولپنڈی میں ایک تقریب میں افریقی اور ایشیائی ممالک بشمول پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ وہ اس وقت تک سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے نہیں بڑھ سکتے جب تک وہ ثقافت سے متعلق اپنے موجودہ تصورات کو ترک نہیں کرتے ۔ اپنے اس خیال کو انہوں نے اس دلیل سے مستحکم کرنے کی کوشش کی کہ آپ مادی قدروں کو اہمیت دیئے بغیر مادے کی ترقی کے بارے میں سوچ ہی کیسے سکتے ہیں۔ اور آج کی ترقی یافتگی اور پسماندگی کا اصل معیار یہ ہے کہ متعلقہ علاقے میں کتنی ترقی ہوئی ہے یا نہیں ہوئی ہے۔ اس دانشور کو یہ بتایا گیا تھا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی ہمارے مذہبی عقائد سے متصادم نہیں ہوتے، بلکہ ہمارے لئے تو یہ علوم مذہبی طور پر بھی ضروری ہیں۔ پھر انہیں بتایا گیا کہ ماضی میں مسلمان سائنس دان پوری دنیا کے لئے مشعل راہ رہتے تھے ،مگر انہیں اپنے مذہبی عقائد ادا کرنے کے لئے ثقافتی تصورات سے دست کش ہونے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔

دنیا میں کسی قوم نے کسی شعبے میں تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کی، مگر بعض اوقات اس مقدس پیشے کی چند کالی بھیڑوں کے متعلق ایسی ہوش رُبا داستانیں سننے کا موقع ملتا ہے کہ پاکستان کی پسماندگی اور جہالت کی وجہ سمجھ آ جاتی ہے۔ ڈاکٹر اجمل نے لکھاکہ انہیں کچھ عرصہ لاہور ریجن میں ڈائریکٹر آف ایجوکیشن کے طور پر کام کرنے کا موقعہ ملا تھا۔انہوں نے مشاہدہ کیا تھا کہ وہ ٹیچر جو ڈیپوٹیشن پر ڈائریکٹوریٹ آتے تھے اور تدریس کی بجائے انتظامی امور انجام دے رہے تھے وہ اپنے سابقہ ساتھیوں کے ساتھ زیادہ کرختگی، بے رخی اور بے عزتی سے پیش آتے تھے۔ مجھے یہ دیکھ کر انتہائی دکھ ہوا کہ وہ لیکچرر جو ایڈمنسٹریٹر بن گئے تھے ان کے مزاج میں باقاعدہ ایڈمنسٹریٹروں کی نسبت کہیں زیادہ رعونت اور آمریت تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ایڈمنسٹریشن ان کا گھٹیا کام تھا اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں گھٹیا پن کو ضرور محسوس کرتے تھے۔

لاہور کی ایک بڑی یونیورسٹی میں مجھے ایک انتظامی افسر نے ایک خوفناک کہانی سنائی۔ ان کے بقول اس یونیورسٹی کے سائنس کے شعبہ میں ایک صاحب پی ایچ ڈی کر رہے تھے۔ وہ اپنے سپروائزر کی بہت زیادہ خدمت کرتے رہتے تھے۔ اس لئے ان کا پی ایچ ڈی کام مکمل ہو گیا۔ سپروائزر کی رپورٹ کے ساتھ ان کا مقالہ شعبہ امتحانات کو پہنچا دیا گیا۔ شعبہ امتحانات نے اس مقالے کو بیرون ملک ممتحن کے پاس بھجوا دیا۔ اس دوران ایک دن وہ ریسرچر سلام کرنے کے لئے اپنے سپروائزر پروفیسر کے پاس پہنچ گئے۔باتوں باتوں میں پروفیسر صاحب نے بتایا کہ وہ کراچی جا رہے تھے۔ ہونہار شاگرد نے انہیں بتایاکہ ان کا ایک بڑا بھائی کراچی میں رہتا ہے اور اگر وہ پسند فرمائیں تو وہ انہیں میزبانی کا شرف بخش سکتے ہیں۔ پروفیسر صاحب نے آمادگی کا اظہار کیا۔ ریسرچرنے اپنے بڑے بھائی سے کہا ان کے پروفیسر صاحب کراچی تشریف لا رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کی رہائش اور شہر میں آمد و رفت کا شایان شان انتظام کیا جائے۔ ان کے بڑے بھائی نے انہیں ایئرپورٹ سے لیا ان کی زبردست خاطر مدارت کی۔ ڈرائیور سمیت گاڑی ان کے استعمال میں رہی۔ اپنے گھر میں ان کی رہائش کا بندوبست کیا۔ کھانے پینے کا خصوصی طور پر خیال رکھا گیا۔

چند دن گزارنے کے بعد وہ واپس لاہور آئے اور انہوں نے اپنے شاگرد کو طلب کیا۔ ان کے بھائی کی مہمان نوازی کی تعریف کی اور پھر کہا کہ انہیں اپنے بیٹے کے لئے ان کے بھائی کی بیٹی بہت پسند آ گئی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ شادی ہو جائے۔ شاگرد نے وضاحت کی کہ ان کی بھتیجی کی پہلے ہی منگنی ہو چکی ہے۔ اس لئے یہ شادی نہیں ہو سکتی، مگر پروفیسر صاحب یہ سن کر آپے سے باہر ہو گئے۔ انہوں نے اپنے شاگرد کی خوب خبر لی اور کہا کہ منگنی ہی ہوئی ہے شادی تو نہیں ہوئی۔ وہ یہ منگنی ختم کرائے اور شادی کا اہتمام کرے۔شاگرد نے معذرت کی کیونکہ وہ اپنے بڑے بھائی کو اس پر قائل کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ پروفیسر نے کوئی دلیل سننے کی بجائے خفا ہونا زیادہ پسند فرمایا۔

چند ماہ بعد اس ریسرچر کی بیرون ملک سے رپورٹیں آ گئیں جن میں اس کے کام کو غیر معمولی قرار دے کر اس کے لئے پی ایچ ڈی کی ڈگری کی سفارش کی گئی تھی۔ پروفیسر صاحب اپنے شاگرد کے تھیسس کے حق میں رپورٹ بھجوا چکے تھے، مگر اب وہ ناراض تھے کیونکہ ان کا شاگرد ان کے بیٹے کے لئے اپنی بھتیجی کے رشتے کا اہتمام نہیں کر سکا تھا اور پھر زبانی امتحان کا مرحلہ آ گیا۔ ناراض پروفیسر نے ایکسٹرنل ایگزامینر کو ریسرچر کو فیل کرنے پر آمادہ کر لیا۔ اور پھر حیرت انگیز طور پر تمام رپورٹس اور تحقیقی کام کو نظر انداز کرکے ریسرچر کو فیل کر دیا گیا۔ طویل عرق ریزی اور جانفشانی کے ساتھ کام کرنے کے بعد ریسرچر ڈاکٹر بننے کی امید لگائے بیٹھا تھا۔ جب اسے فیل ہونے کی اطلاع دی گئی تو اسے ہارٹ اٹیک ہو گیا۔ یونیورسٹی کے عملے کو اندازہ تھا کہ ریسرچر کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ پروفیسر صاحب نے اپنی انا پرستی کی بھینٹ ایک معصوم کو چڑھا دیا تھا۔اتفاق سے اس واقعہ کی اطلاع اس وقت کے کنٹرولر امتحانات کو مل گئی۔ انہوں نے وائس چانسلر کو اس سے آگاہ کیا۔ پی ایچ ڈی کے رولز کے مطابق پی ایچ ڈی کے کام کے سلسلے میں انٹرنل اور ایکسٹرنل ممتحنین کی رپورٹس بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ اور زبانی امتحان ایک اعتبار سے فارمیلٹی ہوتے ہیں ،جس میں اس امر کا تعین کیا جاتا ہے کہ تحقیقی کام متعلقہ ریسرچر نے ہی کیا، مگر پی ایچ ڈی قوانین زبانی امتحان کی اہمیت کے معاملے میں خاموش ہیں۔ کنٹرولر امتحانات نے معاملہ ایڈوانس بورڈ آف سٹڈیز کے سپرد کیا۔ جہاں اس کے انٹرنل ایگزامینر کے ساتھ ایکسٹرنل ایگزامینر کو بھی تبدیل کر دیا گیا۔ نئے سرے سے زبانی امتحان ہوا اور اس ریسرچر کو پی ایچ ڈی کی ڈگری مل گئی ،مگر ڈاکٹر بننے سے پہلے وہ دل کا مریض بن چکا تھا اور یہ مرض اس معزز پروفیسر نے دیا تھا ،جس کی وہ بے پناہ عزت کرتا تھا۔

یونیورسٹیوں کے معاملات کو اندر سے جاننے والے ہمارے ایک دوست اکثر شکوہ کرتے ہیں کہ ایڈوانس بورڈ آف سٹڈیز کے اجلاس میں پاکستان کے انتہائی اعلی دماغ اکٹھے ہوتے ہیں ،مگر اکثر وہ فیصلہ کرتے ہوئے تحقیقی کام کو دیکھنے کی بجائے صرف یہ دیکھتے ہیں کہ یہ کام کس سپروائزر کی نگرانی میں ہو رہا ہے۔ اگر ایڈوانس بورڈ آف سٹڈیز کے اراکین کو سپروائزرناپسند ہے تو ریسرچر کو اس کی سزا ملتی ہے۔ پاکستان کی یونیورسٹیوں میں آپ کی ایسے بے شمار لوگوں سے ملاقات ہوگی جو اپنے معزز پروفیسروں کی بڑی بھیانک کہانیاں سنائیں گے۔ مجھے یہ کہانیاں سن کر اکثر اشفاق احمد یاد آتے ہیں جو کہا کرتے تھے کہ ہماری تعلیم کا تعمیرِ کردار میں کوئی کردار نہیں ہے۔ اس لئے پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان ان پڑھ لوگوں نے نہیں، بلکہ پڑھے لکھے لوگوں نے پہنچایا ہے۔

کردار کا یہ معاملہ صرف محکمہ تعلیم میں ہی نہیں ہے، بلکہ مجھے سب سے زیادہ دکھ اس وقت ہوتا ہے جب میرے ایک انتہائی قابلِ احترام اور مذہبی دوست میرے پاس تشریف لاتے ہیں اور مجھے ایک ایسی تقریب میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں جہاں تبلیغ اسلام پر لیکچر ہوتا ہے۔ میں ان سے صرف ایک سوال کرتا ہوں اور وہ یہ سن کر اکثر ناراض ہو جاتے ہیں۔ میں ان سے عرض کرتا ہوں کہ مجھے ان کے تقوی اور دین سے محبت پرکوئی شبہ نہیں ہے۔ اور لاہور میں ان کی جماعت کی تبلیغ سے فیض حاصل کرنے والوں کی جماعت کے لاکھوں افراد موجود ہیں۔ وہ مجھے چند ایسے افراد کے ایڈریس دے دیں جو اچھے انسان بھی ہوں۔ ان سے دوستی کی جا سکے۔ ان کے سٹوروں سے چیزیں خریدی جا سکیں۔ اور ان کی دیانتداری اور خلوص پر فخر کیا جا سکے۔ میری یہ بات سن کر وہ ناراض ہو جاتے ہیں ،مگر مجھے اکثر ان کی ناراضگی میں اپنے اس سوال کا جواب مل جاتا ہے کہ جس علم کی تبلیغ کی جا رہی ہے اس سے کردار کی تعمیر کی کوئی صورت نہیں اور ہم بہت نیک نظر آنے کے ساتھ ساتھ بہت بددیانت ، بدتمیز اور شقی القلب بھی ہو سکتے ہیں۔

ابراہم لنکن نے اپنے بیٹے کے استاد کو کہا تھا کہ وہ اسے زندگی میں ناکام ہونے کا ہنر بھی سکھائے۔ میری خواہش ہے کہ ہمارے ملک میں ایسے استاد اور تعلیمی ادارے بھی ہوں جو اپنے طالب علموں کو اپنے حقوق کے لئے لڑنے کی بجائے دوسروں کے حقوق دینے کا درس بھی دیں۔ اسلام میں اپنے حقوق کے لئے لڑنا اچھی بات ہے، مگر دوسروں کے حقوق غصب کرنا اسلام میں سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔