محکمہ ایجوکیشن غیر رجسٹرڈ سکولوں کے خلاف کاروائی نہ کر سکا

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)محکمہ ایجوکیشن صوبائی دارالحکومت میں میعاری تعلیم کے نام پر پیسے بٹورنے والے ہزاروں کی تعداد میں قائم غیر رجسٹرڈ سکولوں اور نجی اکیڈمیوں کے خلاف کاروائی نہ کر سکا۔نجی سکول و اکیڈمیاں بچوں اور والدین کو لوٹنے میں مصروف جبکہ محکمہ تعلیم کاروائی سے گریزاں۔شہر لاہور کے نو ٹاؤنوں میں سب سے زیادہ راوی ٹاؤن،نشتر ٹاؤن، داتا گنج بخش ٹاؤن اور واہگہ ٹاؤن میں نجی اکیڈمیاں اورغیر رجسٹرڈ نجی سکول ہیں جنکا محکمہ ایجوکیشن سمیت لاہور تعلیمی بورڈ کے پاس کوئی ریکارڈ موجود نہیں اور یہ تعلیمی ادارے عرصہ دراز سے والدین کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔اطلاعات کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں 8ہزار کے قریب نجی اکیڈمیاں اور 4ہزار سے زائد غیر رجسٹرڈ سکول ہیں جنکے خلاف محکمہ تعلیم کاغذی کاروائی کے اعلاوہ کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتا۔گزشتہ سال سانحہ پشاور کے بعد حکومت پنجاب نے لاہور سمیت صوبہ بھر کے نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی انتظامات کو فول پروف بنانے کی ہدایات جاری کیں جسکے بعد غیر رجسٹرڈ نجی سکولوں اور نجی اکیڈمیوں نے سیکیورٹی کے نام پر بچوں کی فیسوں میں اضافہ کر دیا اور محکمہ ایجوکیشن کی طرف سے کوئی کاروائی نہ کی جا سکی۔تفصیلات کے مطابق محکمہ ایجوکیشن نے نجی سکولوں میں ناقص عمارتوں،طلباء پر تشدد،اور فیسوں کے بلا جواز اضافے سمیت نان رجسٹرڈ نجی سکولوں کے خلاف قانونی کاروائی کا فیصلہ کیا جس کے مطابق محکمہ ایجوکیشن کے ریکارڈ کے مطابق نان رجسٹرڈ نجی سکولوں کی تالہ بندی کر کے قانونی کاروائی کی جانی تھی جو باقاعدہ طور پر تاحال شروع نہ ہو سکی۔اس حوالے سے رابطہ کرنے پر ایگزیکٹیو ایجوکیشن آفیسر لاہور پرویز اختر خان نے کہا کہ گزشتہ برس غیر رجسٹرڈ سکولوں کے خلاف کاروائی کی گئی تھی بیشتر سکولوں کو شوکاز نوٹس جاری کئے گئے۔

جبکہ ریکارڈ نہ رکنے والے سکولوں کی تالہ بندی بھی کی جا چکی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ایجوکیشن آفیسرز پر مشعتمل کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو باقاعدگی سے سکولوں کے وزٹ کر رہی ہیں اور نشاندہی پر غیر رجسٹرڈ سکولوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے جبکہ زیادہ فیسیس لینے والی اکیڈمیوں کی تفصیلات اکھٹی کی جارہی ہے جسکے بعد انکے خلاف بھی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔