17لاکھ طلبا ء کو گھروں کے نزدیک میٹرک تک مفت تعلیم کی سہولت فراہم کر دی ، قمر الا سلام

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے شفافیت ، میرٹ اور حسن انتظام پر مبنی پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ماڈل کے ذریعے صوبے میں 17لاکھ ضرورت مندطلبا ء و طالبات کو انکے گھروں کے نزدیک پارٹنر سکولوں میں میٹرک تک مفت تعلیم کی سہولت مہیا کر دی ہے۔ ان منصوبوں کی افادیت کی پیش نظر انہیں مزید وسعت دی جا رہی ہے جس سے صوبے میں مفت تعلیم حاصل کرنے والے طلبا ء طالبات کی کل تعداد 20لاکھ تک پہنچ جائے گی۔یہ بات خوش آئند ہے کہ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن فروغ تعلیم کے منصوبے "پڑھو پنجاب ، بڑھو پنجاب"کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ بات چےئرمین پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن انجینئر قمر الا سلام راجہ نے ایجوکیشن وؤچر سکیم اور فاؤنڈیشن ایسسٹڈ سکول پروگرام سے منسلک سکولوں کے ضلعی رابطہ اجلاس سے گزشتہ روز راولپنڈی کے ایک ہوٹل میں خطاب میں کہی ۔ اجلاس میں دس مختلف اضلاع کے سکول پارٹنرز کے علاوہ پروگرام ڈائریکٹرز نے شرکت کی ۔ قمر الاسلام نے کہا کہ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے مفت تعلیم کے منصوبوں سے منسلک سکولوں کو بہترین تعلیمی سہولتیں مہیا کی ہیں جن سے ان کا مجموعی معیار بہتر ہوا ہے ۔

اس طرح طالبعلموں کو خوشگوار تعلیمی ماحول میں کوالٹی ایجوکیشن ملی ہے ۔ ہماری کوشش ہے کہ صوبے کے تمام آؤٹ آف سکول اور ڈراپ آؤٹ بچوں کو تعلیم کے ذریعے بحال کیا جائے ، پنجاب سے جہالت کے اندھیروں کا خاتمہ ہمار ا مشن ہے اور اس مشن کی کامیابی میں پارٹنر سکول اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔ قمر الاسلام نے مزیدکہا کہ محکمانہ قواعدوضوابط پر موثر عمل در آمد کو یقینی بنایا جائے گاتاکہ ادارہ جاتی ڈسپلن کے ساتھ ساتھ شفافیت اور میرٹ کی بالادستی بھی برقرار رہے ۔ اس حوالے سے یہ بات اہم ہے کہ پیف نے معروضیت کے ساتھ اپنے پارٹنرز کا اعتماد برقرار رکھا ہے ۔اس طرح یہ ادارہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کابہترین ماڈل بن کر ابھرا ہے جسے ملکی و بین الاقوامی اعتماد حاصل ہے۔ انہوں نے سکول پارٹنرز سے کہا کہ پیف قوانین پر مکمل عمل در آمد کیا جائے اور آؤٹ آف سکول بچوں کی رجسٹریشن کی جائے تاکہ ضرورت مند بچوں کی تعلیم کے عمل کو مزید مہمیز ملے ۔انہوں نے بتایا کہ مزید آؤٹ آف سکول بچوں کی تعلیم کو یقینی بنانے کی غرض سے فاؤنڈیشن ایسسٹڈ سکول پروگرام کے فیز آٹھ سے منسلک سکولوں کو پرائمری سطح پرداخلوں کی اجازت دے دی گئی ہے۔اگلے مرحلے میں نویں فیز سے منسلک ہونے والے سکولوں کو بھی مستقبل میں اس بات کی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے ایجوکیشن وؤچر سکیم سے منسلک سکولوں سے کہا کہ وہ تعلیمی وؤچر کو مقدس امانت سمجھتے ہوئے مستحق اور آؤٹ آف سکول بچوں کی نشاندہی کریں تاکہ 2018تک سو فیصد انرولمنٹ کا ہدف بر وقت حاصل کیا جا سکے ۔ تقریب سے پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا۔