اساتذہ کے تبادلوں میں بے ضابطگیاں، متعلقہ حکام خاموش

 لاہور(ذکا ء اللہ ملک)محکمہ سکولز ایجوکیشن نے حکومت پنجاب کی طرف سے اساتذہ کی ٹرانسفر پوسٹنگ پر پابندی کے احکامات ہوا میں اڑا دیے سیاسی اثرورسوخ اور رشوت کے باعث سرکاری سکولوں کے اساتذہ کے تقرر و تبادلے ہونے کا انکشاف تاہم وسائل اور طاقت نہ رکھنے والے اساتذہ کے لئے ٹراسفر پوسٹنگ پر پابندی اور قانون کی عمل داری کا راگ الاپا جاتا ہے۔ روزنامہ پاکستان کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ایگزیکٹیو ایجوکیشن آفس سے سرکاری سکولوں کے اساتذہ کے تقرر و تبادلے ایک منظم انداز سے کئے جاتے ہیں،ٹرانسفر ہونے والے استاد کو سکول سے ایگزیکٹیو ایجوکیشن آفیسر کی ڈسپوزل پر ای ڈی او آفس میں لایاجاتا ہے اور 2سے 3ہفتوں کے بعد اس ٹیچر کو من پسند جگہ پر ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے جسکے باعث مستحق اساتذہ ہر سال اپنے ٹرانسفر پوسٹنگ جیسے بینادی حق سے محروم ہو جاتے ہیں۔محکمہ سکولز ایجوکیشن کے ذرائع کے مطابق لاہور سمیت صوبہ بھر کے اساتذہ کی تقرر و تبادلوں پر پابندی کے باوجود ای ڈی او آفس کی جانب سے آرڈر نمبر 2121 اور لیٹر نمبر2-34 so(se-iv)کے تحت ثوبیہ الیاس (پرائمری سکول ٹیچر) کا تبادلہ گورنمنٹ پرائمری سکول برائے گرلز سے گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول باؤلی کیمپ،نسیم اختر کا تبادلہ گونمنٹ ایلیمنٹری سکول آرڈنئس سے گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول اتحاد ٹاؤن،اعظیم نعمت مسیح کو گونمنٹ ہائی سکول سلطانکی سے ٹرانسفر کرنے کے بعد گورنمنٹ ہائی سکول بچوکی ماجا میں پوسٹنگ کر دی گئی ہے جبکہ محمد ایوب (پی ایس ٹی) کو گورنمنٹ ماڈل پرائمری سکول کوٹ شادی رائیونڈ سے گورنمنٹ مڈل سکول بستی امین پورہ ،نقیب الرحمن کا تبادلہ گورنمنٹ پرائمری سکول واڑا کمہاراں سے گونمنٹ پرائمری سکول سلامت پورہ کیا گیا ہے جو کہ حکومت پنجاب کی جانب سے اساتذہ کی ٹرانسفر و پوسٹنگ کے احکامات کی نفی ہے۔اس حوالے سے رابطہ کرنے پر ایگزیکٹیو ایجوکیشن آفیسر لاہور پرویز اختر کا کہنا تھا کہ اساتذہ کی ٹرانسفر و پوسٹنگ پر پابندی کی خلاف ورزی نہیں کی گئی جبکہ سال 2014سے عائد پابندی پر قانونی حیثیت کے مطابق عمل کر رہے ہیں۔