سکول:خیبرپختونخوا کی بچیوں کے لئے ایک محفوظ اور پُرسکون جگہ

خیبرپختونخوا کے قدامت پسند معاشرے میں چاردیواری، بالخصوص لڑکیوں کیلئے، تحفظ اور سلامتی کی علامت ہے۔ثقافتی ضرورت کے علاوہ خطے کی امن و امان کی صورتحال بھی بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کیلئے ایک محفوظ اور بے فکر ماحول کا تقاضا کرتی ہے۔ خیبر پختونخوا کی بچیوں کیلئے تعلیم کا ایک معاون ماحول پیدا کرنے کیلئے پہلی اور اولین ترجیح ایک ایسی محفوظ اور پرسکون جگہ فراہم کرنا ہے جہاں انہیں کسی مداخلت بیجا اور خلل اندازی کا خطرہ نہ ہو اور وہ نامطلوب خیال اور خدشے سے دُور، اور محفوظ و مامون رہیں۔علاقے کی ثقافتی روایات عزت و احترام اور حساسیت کی متقاضی ہیں یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت ایک ایسے ماحول کی فراہمی اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھتی ہے جہاں تعلیم و تدریس کا کام مثبت اور موثر طریقے سے انجام دیا جا سکے۔ خیبر پختونخواکی حکومت نے اپنے قول و فعل سے یہ ثابت کیا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم اس کی ترجیح ہے۔سکولوں میں غیر موجود سہولیات بشمول چاردیواری کی فراہمی کیلئے 8.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اس اقدام سے نہ صرف والدین کو اپنی بیٹیوں کے پردے کے بارے میں اطمینان حاصل ہو گا بلکہ طالبات بھی احساس تحفظ سے سرشار ہوں گی۔ اس خطیر رقم سے مالی سال 2015-16 میں صوبے کے تمام اسکولوں کی چاردیواری کی ضروریات پوری ہو جائیں گی۔

خیبر پختونخوا کی حکومت بچیوں کو تعلیم کی جانب راغب کرنے کیلئے متعدد اصلاحاتی اقدامات پر عمل پیرا ہے۔ انہی اقدامات میں سے ایک انتہائی کامیاب پیش رفت ایلیمنٹری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ذریعے لڑکیوں کیلئے کمیونٹی اسکولوں کا قیام ہے۔ گرلز کمیونٹی سکول ان بچیوں کیلئے خدمت انجام دے رہے ہیں جو اس بنا پر سکول سے باہر رہ گئی ہیں کہ ان کے والدین اپنی بیٹیوں کو دوردرازاور غیر معروف سرکاری اسکولوں میں بھیجنے سے ہچکچاتے رہے ہیں۔ کمیونٹی اسکول ان کی آبادیوں کے نزدیک واقع ہیں اور اس وقت صوبے کے24 اضلاع میں943 سے زائد کمیونٹی اسکول کام کر رہے ہیں۔ گرلز کمیونٹی سکول آبادی کے اندر واقع ہیں جن کے کمرے عطیات سے تعمیر کیے گئے ہیں اور تدریس کیلئے علاقے سے ہی اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ صوبے بھر میں 1,000 گرلز کمیونٹی سکول قائم کرنے کیلئے مالی سال 2014-15 میں 891.35 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔اس وقت صوبے کے 24 اضلاع میں 900 اساتذہ کے ساتھ 943 سے زائد کمیونٹی سکول تقریباََ 35,412 طالبات کو تعلیی زیور سے سرفراز کر رہے ہیں۔

لڑکیوں کیلئے تعلیمی وظائف کا موجودہ پروگرام بچیوں کے اسکولوں میں اندراج کو سہل بنانے اور ان کی تعلیم کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے حکومتی اقدامات کی ایک اور قابل ذکر مثال ہے۔حکومت نے اس پروگرام کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں مالی سال 2014-15 کیلئے 1.1 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ سال 2014-15 میں اب تک442,030 بچیاں تعلیمی وظائف کے اس پروگرام سے مستفید ہو چکی ہیں جبکہ سال 2015-16 میں مزید 465,000 طالبات کو یہ وظائف دئیے جائیں گے۔ اس اسکیم کے تحت صوبے کے 23 اضلاع ، ماسوائے توڑگھر اور کوہستان، میں جماعت ششم اور دہم میں داخل ہونے والی طالبات دو سال میں دو اقساط میں 2,400 روپے وظیفہ وصول کرنے کی اہل ہوں گی۔

وظیفہ پروگرام کے دوسرے مرحلے میں خاص طور پرتوڑگھر اور کوہستان شامل ہوں گے۔ اس مرحلے میں ضلع توڑگھر میں جماعت اول سے جماعت دہم میں داخل ہونے والی تمام بچیوں اور ضلع کوہستان میں جماعت ششم سے جماعت دہم تک کی تمام بچیوں کو وظیفہ دیا جائے گا۔وظیفہ کی رقم پرائمری سکول کی طالبات کیلئے 1,500 روپے ماہانہ اور جماعت ششم سے دہم تک کی طالبات کیلئے 2,000 روپے ماہانہ ہے۔تیسرا مرحلہ ’سپیشل انیشی ایٹیوپروگرام‘ ہے جو کہ موجودہ حکومت نے 2013-14 میں شروع کیا تھا جو خاص طور پر کم شرح داخلہ رکھنے والے سات اضلاع میں لڑکیوں کے اسکولوں میں بچیوں کے داخلہ کی شرح بڑھانے کیلئے تشکیل دیا گیا تھا۔ ان اضلاع میں ہنگو، پشاور، بٹگرام، اپر دیر، شانگلہ، سوات اور ٹانک شامل ہیں۔

والدین کو اپنے بچوں بالخصوص بچیوں کو اسکول بھیجنے کی طرف راغب کرنے کیلئے ایک اور قدم اٹھایا جا رہا ہے جس میں کم لاگت کے نجی اسکولوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے سرکاری تعلیم فراہم کی جائے گی۔ ’اقراء فروغِ تعلیم‘ ایک اور قدم ہے جس کا مقصد کم شرح داخلہ پر قابو پانا ہے اس میں خاص طور پر وہ علاقے شامل ہیں جہاں سرکاری اسکول دستیاب نہیں۔ اس پروگرام سے والدین اور بچیوں کو علاقے میں سرکاری اسکولوں کی عدم موجودگی یا سرکاری اسکول دور ہونے کی صورت میں بھی تعلیمی سہولیات حاصل ہوں گی اور بچیاں تعلیم سے بہرہ مند ہو سکیں گی۔2014 میں 5 سے 16 سال کی عمر کی مستحق بچیوں کیلئے تعلیم کا حصول آسان بنانے کیلئے اقراء فروغِ تعلیم واؤچر اسکیم شروع کی گئی تھی۔ پروگرام کے آغاز پر ضلع پشاور میں مستحق طالبات میں تقریباََ 1,500 واؤچر تقسیم کیے گئے اب یہ پروگرام چھ اضلاع مانسہرہ، کوہاٹ، پشاور، مردان، سوات اور ہری پور تک وسیع کر دیا گیا ہے اور ان اضلاع میں تقریباََ 30,000 مستحقین کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں کم لاگت کے پارٹنر پرائیویٹ اسکولوں میں داخلہ کیلئے ایجوکیشن واؤچر جاری کیے جائیں گے۔

ایک تعلیم یافتہ معاشرے کے قیام کیلئے لڑکیوں اور خواتین کا کردار بنیادی حیثیت کا حامل ہے یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت بالخصوص بچیوں کیلئے ایک ایسے تعلیمی ماحول کی تشکیل کیلئے کوشاں ہے جو نہ صرف صوبے کی ثقافتی روایات اور اقدارسے ہم آہنگ ہو بلکہ جہاں ہماری بچیاں بھرپور تحفظ اور سلامتی کے احساس کے ساتھ تعلیم حاصل کرتی رہیں۔