7ہزار ماہانہ پر ٹیچر کی بھرتی پڑھو پنجاب کے نعرے کی نفی ہے،خدیجہ فاروقی

لاہور(لیڈی رپورٹر ) مسلم لیگ( ق) کی رکن صوبائی اسمبلی خدیجہ عمرفاروقی صدر مسلم لیگ شعبہ خواتین پنجاب نے محکمہ سکولز ایجوکیشن پنجاب کی طرف سے سکولوں میں اساتذہ کی کمی پوری کرنے کیلئے نان سیلری بجٹ سے ایسے سکولوں میں2 ٹیچرز بھرتی کرنے کی منظوری دیتے ہوئے انہیں نان سیلری بجٹ سے 7ہزار ماہانہ تنخواہ کی منظور ی پر پنجاب اسمبلی میں تحریک التوائے کار جمع کرواد ی ۔انہوں نے تحریک التوائے کار جمع کروانے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سکولوں میں 7ہزار ماہانہ پر ٹیچرز کی بھرتی پڑھو پنجاب ، بڑھو پنجاب کے نعرے کی عملی نفی ہے کیونکہ پنجاب میں مزدوروں کی کم از کم تنخواہ 13000ہزار روپے کا نوٹیفیکیشن جاری ہوچکا ہے جبکہ سکولوں میں پڑھے لکھے تعلیم یافتہ ٹیچرز کی تنخواہ 7000روپے مقرر کرنا تعلیم کے ساتھ مذاق ہے ۔

خدیجہ فاروقی نے کہا کہ ٹیچرز کو7ہزار روپے ماہانہ معاوضہ سے تعلیم کا معیار کس طرح بلند ہوسکتا ہے اتنی کم تنخواہ دینا ٹیچرز کا استحصال ہے 7ہزار روپے سے زائد تو ایک گھر کا بجلی کا بل آتا ہے ہوشربا مہنگائی کے اس دور میں قلیل تنخواہ میں ٹیچرز یوٹیلٹی بل بھی ادا نہیں کرسکتے گھر کے دیگر اخراجات کس طرح پورے کرینگے۔ذہنی و معاشی پریشانیوں میں مبتلا ٹیچرز کس طرح بچوں کو پڑھائیں گے ۔ سکولوں میں 7 ہزار روپے ماہانہ دیکر اساتذہ کا مذاق اڑایا جارہا ہے اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو ٹیچنگ لائن میں آنے کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے ۔انہوں نے تحریک التوائے کار میں مطالبہ کیا کہ سکولوں میں ٹیچرز کی کمی کو پورا کرنے کیلئے ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے اور ریگولر اساتذہ کی بھرتی عمل میں لائی جائے اور انہیں ریگولر ٹیچرز کے مطابق تنخواہوں کی ادائیگی کی جائے تاکہ وہ دلجمعی سے تعلیم کے شعبہ میں خدمات سرانجام دے سکیں ۔