پنجاب اسمبلی: سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کی عدم موجودگی پر قائمقام سپیکر کا اظہار برہمی

لاہور(آئی این پی )پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں سیکرٹری سکولز ایجوکیشن عبد الجبار شاہین کی ایوان میں عدم موجودگی پر قائمقام سپیکر سردار شیر علی گورچانی کاسخت نوٹس اور اظہار بر ہمی سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کو فوری اسمبلی طلب کرتے ہوئے ان کی آمد تک اجلاس ملتوی کردیا‘ اپوزیشن کا پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف قرار داد پیش کر نے کی اجازت نہ ملنے پر ایوان میں شدید احتجاج ‘ (ن) لیگ اور تحر یک انصاف کی ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی اور قائمقام سپیکر نے اسی شور شرابے میں اجلاس آج جمعرات صبح دس بجے تک کیلئے ملتوی کر دیا۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز مقررہ وقت دس بجے کی بجائے ایک گھنٹہ 25منٹ کی تاخیر سے قائم مقام سپیکر سردار شیر علی گورچانی کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس کے ایجنڈے میں محکمہ سکولز ایجوکیشن کے بارے میں سوالوں کے جوابات دئیے جانے تھے ۔وقفہ سوالات کے آغاز پر ہی حکومتی بنچوں سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی میاں طارق محمود نے نکتہ اعتراض پر قائمقام سپیکر کی توجہ گیلری کی طرف مبذول کراتے ہوئے کہا کہ چیئر کی رولنگ کے باوجود سیکرٹری سکولز ایجوکیشن موجود نہیں ۔قائمقام سپیکر نے وزیر تعلیم رانا مشہود سے اس متعلق استفسار کیاجس پر وزیر تعلیم نے کہا کہ وہ ایک اہم میٹنگ میں شامل ہونے کی وجہ سے یہاں موجود نہیں تاہم ایڈیشنل سیکرٹری سکولز ایجوکیشن سمیت دیگر افسران موجود ہیں اور میں بھی مکمل تیار ی کے ساتھ آیا ہوں۔اس پر اراکین اسمبلی نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری تعلیم ارکان اسمبلی کو خاطر میں نہیں لاتے اور ا س اسمبلی کو بھی اہمیت نہیں دیتے ۔ جس پر قائمقام سپیکر نے کہا کہ میں یہ رولنگ دے چکا ہوں کہ جس محکمہ کے سوال و جواب ہوں گے اس کاسیکرٹری یہاں موجود ہو گااور اس پر وزیر اعلیٰ کی طرف سے بھی ہدایات ہیں ۔لیکن سیکرٹری سکولز ایجوکیشن نے اس پر عمل نہیں کیا جس کا مطلب ہے کہ وہ اس ایوان کو اہمیت نہیں دیتے ۔ بطور سپیکر میں رولنگ دے چکا ہوں وہ واپس نہیں ہوسکتی ، ارکان نے بھی سیکرٹری سکولز ایجوکیشن عبد الجبار شاہین کو طلب کرنے پر اصرار کیا جس پر قائمقام سپیکر نے اجلاس کی کارروائی روک دی اوروزیر تعلیم کو سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کو طلب کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اجلاس15منٹ کے لئے ملتوی کر دیا ۔ وقفے کے دوران سیکرٹری سکولز ایجوکیشن عبدالجبار شاہین اسمبلی پہنچ گئے ۔ڈاکٹر نوشین حامد کے سوال پر وزیر تعلیم نے ایوان کو بتایا کہ کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے وہ تمام ایجوکیٹرز جنہوں نے پیشہ وارانہ تربیت اور تین سال کا پیریڈمکمل کر لیا ہے، انہیں مستقل کیا جا چکا ہے اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زاید ایجوکیٹرز کو مستقل کیا جا چکا ہے۔قانون کے مطابق ان ایجوکیٹرز کو مستقل کرنے کے لئے کوئی علیحدہ سے آرڈر یا نوٹیفکیشن نہیں کیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کی وجہ سے سکولوں میں اساتذہ کی 96فیصد حاضری کو یقینی بنایا گیا ہے ،تعلیم کے معیار میں بہتری آئی ہے، سائنس اور آرٹس میں بی اے کرنیوالوں کی مودگی میں کامرس میں گریجوایشن کرنے کو نوکری نہیں دی جا سکتی۔ اجلاس کے دوران رکن اسمبلی علامہ غیاث الدین ،سردار شہاب الدین ،میاں طارق محمود سمیت دیگر نے ایوان میں سیکرٹری سکولزایجوکیشن کے رویے کے خلاف احتجاج کیا۔ اراکین نے کہا کہ کسی بھی محکمے کے یہ واحد سیکرٹری ہیں جن کے نا مناسب رویے کے خلاف تین مرتبہ موجودہ اسمبلی میں تحریک استحقاق آچکی ہیں ۔قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے نقطہ اعترا ض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب واحد صوبہ جہاں امیر اور غریب کے بچوں کیلئے الگ الگ سکول ہیں،حکومت نے سرکاری سکولوں کو ختم کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے اور پرائیویٹ سکولوں کی مکمل سرپرستی کی جارہی ہے ۔ اجلاس کے دوران حکومتی رکن ڈاکٹر فرزانہ نذیر نے بات کرتے ہوئے ارکانِ اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ دہرایا اور کہا کہ انہیں تمام ارکان اسمبلی نے یہ معاملہ اٹھانے کیلئے کہا ہے اور وہ سب کی نمائندگی کر رہی ہیں ، ہماری تنخواہوں باقی صوبوں کی اسمبلیوں کے ممبران سے کہیں کم ہیں جس پر تمام اراکین نے ڈیسک بجا کر ان کی تائید کی۔ وزیر قانونرانا ثنااللہ نے کہا کہ یہ درست ہے کہ پنجاب کے ارکان اسمبلی کی تنخواہیں دوسری اسمبلیوں کے ارکان سے کم ہیں لیکن حکومت اضافے میں رکاوت نہیں ۔وزیر اعلیٰ نے یہ معاملہ اس اسمبلی سے حل کرانے کی تجویز دی ہے ، اس معاملے پر کمیٹی کی کئی بار میٹنگ ہوچکی ہے ۔