پاکستان ایجوکیشنل فار پرائیویٹ سکولز کے زیر اہتمام تعلیمی کانفرنس

لاہور(پ ر)2015ء کا آرڈیننس نجی تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی سازش ہے ایم شاہد نور پاکستان ایجوکیشنل فار پرائیویٹ سکولز کے زیر اہتمام ایک تعلیمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ صدارت مرکزی صدر ایم شاہد نور نے کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایم شاہد نور نے کہا کہ پرائیویٹ سکولوں کی جانب سے 2014ء میں اخراجات پورے کرنے کیلئے فیسوں میں معمولی اضافہ کیا گیا۔ مگر حکومت پنجاب کی جانب سے فیس واپس کرنے کے احکامات سراسر ظلم اور آئین کے منافی ہے۔

۔ جس کی وجہ سے پرائیویٹ سکول بند ہونے کی نوبت تک جا پہنچے ہیں۔ یہ فیصلہ موجودہ الیکشن میں عوام کی پذیرائی حاصل کرنے کا بہانہ تھا۔ جبکہ اس کے برعکس حکومت کے زیر سایہ تمام بڑے سکول مثلاً ایچی سن کالج، لارنس پبلک سکول گھوڑا گلی وغیرہ کی فیس ایلیٹ سکولوں سے بھی زیادہ ہے جبکہ آرٹیکل 25-A کے تحت حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو معیاری اور سستی تعلیم مہیا کی جائے۔

اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے قصور کے صدر مہر عاشق نے کہا کہ پرائیویٹ ادارے محدود وسائل اور مناسب فیس میں اعلیٰ معیار تعلیم دینے میں کوشاں ہیں جن کا منہ بولتا ثبوت ان اداروں کے بہترین نتائج ہیں۔

، جبکہ پرائیویٹ اداروں کو 2014 میں فیس نہ بڑھانے کا کوئی آرڈیننس موصول نہیں ہوا۔ کیونکہ پرائیویٹ اداروں کے سالانہ اخراجات 20 فیصد بڑھتے ہیں۔ جبکہ ادارے اپنی فیسوں میں 10 سے 15 فیصد اضافہ کرتے ہیں جبکہ موجودہ حکومتی اقدام سے اداروں کو نقصان سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ بعد ازاں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے صدر ڈاکٹر ندیم سحر نے کہا کہ موجودہ حکومت اپنے ترقیاتی کاموں کے علاوہ بہت سے پیکج متعارف کروا رہی ہے جیساکہ کسان پیکج ہے اور اربوں روپے فنڈز بھی جاری کئے جا رہے ہیں مگر ملک کا مستقبل بنانے والے اداروں کے ساتھ ناانصافی کی جار ہی ہے۔ تمام اداروں کو حکومت کی جانب سے تعاون اور ریلیف کی امیدیں وابستہ ہیں۔ تاکہ تمام تعلیمی ادارے اپنا مشن احسن طریقے سے انجام دے سکیں اور یہ سب اس فرسودہ آرڈیننس کو واپس لینے سے ہی ممکن ہے آخر میں وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا گیا کہ نجی تعلیمی ادارے جو 2000 سے کم فیس لے رہے ہیں اس آرڈیننس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے اور رجسٹریشن کے قوانین میں آسانی پیدا کی جائے۔ اجلاس میں رفیع الدین پراچہ، طاہر محمود، چوہدری عنصر، خواجہ کاشف، جاوید مغل اور کثیر تعداد میں نجی سکولوں کے سربراہان نے شرکت کی۔