اے پی ایس کے شہدا ء کو خراج عقیدت

epaper

آرمی پبلک سکول پشاور کے شہداء کی پہلی برسی آج منائی جا رہی ہے۔ اس دن کی مناسبت سے ملک بھر میں شہداء کی روح کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی، فاتحہ خوانی اور تعزیتی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا ،جس میں اعلیٰ شخصیات شریک ہوں گی۔ خیبر پی کے حکومت نے 15اور 16دسمبر کو عام تعطیل اور برسی کو سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کیا ہے۔ پنجاب حکومت کی طرف سے آرمی پبلک سکول پشاور کے شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ہفتہ شہداء منایا جارہا ہے۔ پشاور میں دو بڑی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا ،جن میں ایک تقریب آرمی پبلک سکول اور دوسری تقریب آرکائیوز لائبریری ہال میں منعقد ہوگی ،جس میں اعلی سیاسی قیادت، فوج کے اعلی حکام اور شہدا ء کے لواحقین شرکت کرینگے۔ سانحہ آرمی پبلک سکول کی پہلی برسی کے موقع پر ملک بھر میں ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے وزیراعظم نوازشریف نے اسلام آباد کے 122 سکولوں اور کالجوں کے نام شہدائے اے پی ایس کے ناموں سے منسوب کرنے کی منظوری دیدی ہے۔وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ دشمن نفرت اور انتہا پسندی چاہتے ہیں لیکن ہم برداشت کو فروغ دے کر ان کا جواب دیں گے۔ ہم علم دشمنوں کو بھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ آرمی پبلک اسکول کے شہید بچوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر جہالت کا مقابلہ کیا اور روشن خیالی کی بنیاد رکھی، شہدا کی یادیں مادر وطن کی بقا کے ساتھ جڑی ہیں اور شہدا کی یادوں کو وطن کی بقا سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔

گزشتہ برس 16 دسمبر کو پشاورکینٹ ایریا میں ورسک روڈ پر واقع آرمی پبلک سکول میں دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کے نتیجے میں 132 بچوں، 9 سٹاف ممبرز سمیت 141 افراد شہید اور 124 زخمی ہوگئے تھے۔ شہید بچوں کی عمریں 9 سے 16 سال کے درمیان تھیں، جبکہ 960 کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے کارروائی کر کے بڑی تعداد میں بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا۔ جوابی کارروائی میں 7 دہشت گرد مارے گئے ۔ یہ پاکستان کی تاریخ کی بدترین دہشت گردی تھی جس پر پورا ملک سوگ میں ڈوب گیاتھا۔ سقوط ڈھاکہ کے سانحہ والے روز سفاک دہشت گردوں نے خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے انتہائی حساس کینٹ ایریا میں وارسک روڈ پر واقع آرمی پبلک سکول میں معصوم بچوں کے ساتھ انسانی خون کی ہولی کھیل کر پوری قوم کو کرب و سوگ میں مبتلا کر دیاتھا۔ کالعدم تحریک طالبان کی درہ آدم خیل تنظیم نے اس اور سفاکانہ دہشت گردی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے شمالی وزیرستان میں جاری فوجی اپریشن کا ردعمل قرار دیاتھا۔بے شک آپریشن ضرب عضب میں سکیورٹی فورسز کو نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور دو ہزار سے زائد ملکی اور غیرملکی دہشت گردوں کو ان کے محفوظ ٹھکانوں اور گولہ بارود سمیت نیست و نابود کرکے قوم کو دہشت گردی کے ناسور سے مستقل نجات کی آس دلائی گئی ہے، مگر اس آپریشن کے ردعمل میں دہشت گردی کی کارروائیاں ہوتی رہیں۔ ملک میں سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی کی فضا قائم کرکے سکیورٹی فورسز کو آپریشن کے لئے یکسو کرنا ضروری تھا۔

سقوط مشرقی پاکستان میں بھارتی تربیت یافتہ پاکستان دشمن عناصر نے کلیدی کردار ادا کیا تھا اور دہشت گردی کا یہ واقعہ بھی 16 دسمبر کو پیش آیا۔یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ غیر ملکی حکمرانوں میں سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سب سے پہلے اس واقعہ پر اپنی ’’تشویش‘‘ کا اظہار کیوں کیا تھا؟ یہ حقیقت سب پر واضح ہے کہ پاکستان کی 22 سو کلو میٹر طویل افغان سرحد کے ساتھ بھارتی قونصل خانوں میں آج بھی پاکستان مخالف عسکریت پسندوں کو باقاعدہ تربیت دی جاتی اور اْنہیں جدید مہلک اسلحہ سے لیس کر کے پاکستان کے قبائلی علاقوں، صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقوں اور بلوچستان میں تخریب کاری کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ بھارت عملی طور پر ثابت کر رہا ہے کہ وہ اب بھی پاکستان کا دشمن نمبر ایک ہے۔ پاکستان میں امن و امان کی صورت حال کے مخدوش ہونے کی سب سے بڑی وجہ نائن الیون کے بعد کے حالات ہیں۔جب سے بھارت اور امریکہ افغانستان میں قدم جما کر بیٹھے ہیں۔ اس صورتحال میں جہاں تمام قومی سیاسی قیادتوں کو بہترین قومی مفادات میں اپنے ذاتی اور سیاسی اختلافات سے باہر نکل کر دہشت گردوں کیخلاف قومی اتحاد و یکجہتی کی فضا اجاگر کرنے کے لئے یکسو ہو جانا چاہیے۔ وہاں حکمرانوں کوافغانستان سے بھی پرزور احتجاج کرنا چاہیے کہ وہ اپنے ہاں پناہ دیئے گئے دہشت گردوں کو فوراً ہمارے حوالے کرے۔