لاہور ادبی میلہ تمام تر خدشات اور رکاوٹوں کے باوجود بہت زبردست ہوا، عوام کی گہری دلچسپی

لاہور پاکستان کا دل اور سب سے بڑا ثقافتی مرکز بھی ہے ہفتہ رفتہ میں یہاں تمام تر شبہات اور خدشات کے باوجود ثقافت کے رنگ جھلکے اور عوامی دلچسپی کے مظاہر سامنے آئے۔ اس سے پہلے کہ لاہور لٹریری فیسٹیول (لاہور ادبی میلہ) کا ذکر کیا جائے یہ گزارش ضروری ہے کہ اسی دوران مادری زبان کا عالمی دن بھی منایا گیا اور لاہور میں یہاں صحیح ماں بولی کے حق میں بہت اچھا مظاہرہ ہوا اور پنجابی کے حق میں مطالبات کئے گئے اسے بھی ہماری ثقافت ہی کا حصہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ایک مبارک دن تھا اس رو ز یہاں پاکستان پنجابی ادبی بورڈ کو ہوش آیا تو کونے کھدروں میں لگی پنجابی تنظیمیں بھی باہر آ گئیں۔

پنجاب کا یہ المیہ ہے کہ یہاں سے پنجابی بتدریج سفر پر ہے اور قومی زبان اردو نے اس کی بھی جگہ لے لی ہے۔ یہاں پنجابی بولی نہیں جاتی اور پنجابی ادب بھی محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ذریعہ تعلیم ہے جو یہاں قومی زبان ہے، پنجابی کو تعلیمی اداروں میں اہمیت ہی نہیں دی جاتی، یونیورسٹی کی سطح پر پنجابی سلیبس ہے اور یہاں گریجوایشن کے علاوہ ماسٹر بھی کیا جا سکتا ہے لیکن ان ڈگریوں کی اہمیت نہیں کہ پنجابی کے گریجوایٹ ملازمت کو ترستے ہیں، چنانچہ مادری زبان کے عالمی دن پر درجن بھر سے زیادہ تنظیموں نے متحد ہو کر ریلی نکالی تو عوام کو حیرت ہوئی۔ یہ ریلی لاہور پریس کلب سے اسمبلی ہال تک گئی، شرکاء نے ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے بھی ڈالے اور صوفیانہ کلام بھی پڑھا اور سنایا گیا۔ مقررین نے خطاب میں مطالبات کئے اور مظاہرین نے ان پر مشتمل پلے کارڈ لہرائے۔ بنیادی مطالبہ تھا کہ پنجابی کو تعلیمی سطح پر رائج کیا جائے اور گریجوایٹ کو ملازمتیں دی جائیں، عام لوگوں سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنی ماں بولی کو فروغ دیں اور پنجابی بولا کریں۔

لاہور ادبی میلہ ہوا اور خوب ہوا۔ اس کے باوجود ہوا کہ سیکیورٹی کے حوالے سے بہت بدنظمی بھی ہوئی اور بعض افسوس ناک واقعات بھی ہوئے یہ میلہ عالمی میلے کے طور پر منعقد ہوا اور اس کے انتظامات کی نوعیت بھی ایسی ہی تھی، پہلے تو یہ کنفیوژن ہوا کہ یہ میلہ لگے گا بھی کہ نہیں کہ انتظامیہ نے اجازت دے کر منسوخ کر دی کہ سیکیورٹی خدشات ہیں، پھر اس کی اجازت بھی دے دی گئی تاہم یہ میلہ تین سے دو دن کا ہو گیا۔یہ بین الاقوامی تھا کہ بیرون ملک سے مہمانوں کو دعوت دی گئی تھی اور وہ آئے بھی، تاہم بھارت کے حوالے سے بدحواسی کا بھی مظاہرہ ہوا۔ میلے کا مقام قدرتی طور پر ثقافتی مرکز الحمراء آرٹس سنٹر تھا، اس کے سبزہ زار میں میلہ سجا ہوا تھا، آرٹ گیلری میں پینٹنگز لگی ہوئی تھیں، کتابوں کے سٹال بھی تھے بہرحال تین سے دو دن تک محدود کرنے کے باوجود اس میں بہت دلچسپی لی گئی۔

بھارت سے پٹودی خاندان کی بہو شرمیلا ٹیگور شرکت کے لئے آئیں۔ مہیش بھٹ اور پوجھا بھٹ آ رہے تھے کہ ان کے ہوائی اڈے پر ان کو روک لیا گیا اور بتایا گیا کہ سیکیورٹی خدشات ہیں وہ پیغام دے کر واپس گئے اور ٹکٹ منسوخ کرائے، دوسری طرف انوپم کھیر ہیں جو بلاوجہ ایک ایشو کھڑا کئے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں بھارت میں پاکستان کے سفارت خانے نے ان کو ویزا نہیں دیا اور پاسپورٹ بھی واپس نہیں ہوا، دہلی میں پاکستانی سفارت خانے کی طرف سے کہا گیا کہ ویزا کے لئے تو درخواست ہی نہیں دی ویزا کیسے جاری ہو جاتا۔

بہرحال ذکر لاہور ادبی میلے کا ہو رہا تھا، انتظامیہ کی اجازت کے بعد الحمرا میں اہتمام کیا گیا تاہم اچانک سیکیورٹی کے حوالے سے تقریب کا مقام تبدیل کرکے سامنے والے ہوٹل آواری میں کر دیا گیا۔ بہرحال شائقین کو پریشانی یقیناًہوئی لیکن جوش میں کمی نہیں ہوئی۔ بتایا گیا کہ بہت اچھی محافل ہوئیں اور اعلیٰ سطح کی گفتگو اور بات بھی ہوئی۔ ادب کے ہر پہلو پر غور کرکے سفارشات مرتب کر دی گئیں۔

اس سب کے باوجود شرمیلاٹیگور کے ساتھ پیش آنے والا واقع تشہیر کا باعث بن گیا۔ ماضی میں تو یہ اصول رہا کہ ایسے مواقع پر جب ویزے جاری کئے جاتے تو ساتھ ہی پولیس رپورٹ سے بری الذمہ قرار دیا جاتا کہ ایسے حضرات کو آمد و روانگی میں پولیس کے پاس جانے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی لیکن یہاں الٹ ہوا کہ شرمیلا ٹیگور کو استثنیٰ نہ دیا گیا۔ ان کی آمد پر پولیس کو اطلاع دی گئی تاہم جب وہ واپس جانے لگیں تو ان کو روک لیا گیا کہ پولیس کی رپورٹ نہیں ہے۔ ان کو عزت تو دی گئی لیکن سرحد پار نہ جانے دیا گیا حکام نے فیکس کے ذریعے یہ کارروائی مکمل کی اور اس کے بعد خاتون سے کہا وہ اب جا سکتی ہیں تاہم نواب خاندان کی بہو کا بھی موڈ خراب ہو گیا اور انہوں نے اس روز جانا ملتوی کر دیا اور اگلے روز روانہ ہوئیں۔ یہ اچھا نہیں، ہمارے خیال میں تو ویزا دیتے وقت دھیان نہیں رکھا گیا، بہرحال تمام تر چھوٹی موٹی رکاوٹوں کے باوجود یہ میلہ خوب جما اور عوام نے بہت دلچسپی لی اور پھر میلے کی 70نشستوں میں تنقیدی اور تعمیری گفتگو ساتھ ساتھ رہی۔

یہاں پنجاب اسمبلی کا اجلاس بھی جاری ہے۔ اس اجلاس میں اس بار بہت ہنگامہ آرائی ہوئی اور برسراقتدار جماعت اور متحدہ حزب اختلاف کے درمیان معرکے ہوئے۔ وزیرقانون رانا ثناء اللہ اور قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید کے درمیان بھی جھونک ہوئی اور نعرہ بازی بھی ہوئی۔ میٹرو اورنج ٹرین کے حوالے سے بات ہوتی رہی۔ اراکین کا حق ہے کہ وہ بولیں اور پھر دفاع بھی کریں لیکن عوام جھگڑوں کو پسند نہیں کرتے احتیاط بھی ضروری ہے۔

***