ایس او پیز پر عمل درآمدکرنیوالے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کیخلاف کارروائی کیلئے ’’شکنجہ‘‘ تیار

لاہور (لیاقت کھرل) صوبے بھر میں سیکیورٹی کے حوالے سے جاری ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرنے والے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اور مالکان کے خلاف کارروائی کے لئے شکنجہ تیار کرلیا گیا ہے، جس میں پہلے مرحلہ میں سیکیورٹی کے اعتبار سے انتہائی حساس قرار دئیے جانے والے ادارے کٹیگریز میں شامل 1000 تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی کے انتظامات کاجائزہ لیا جائیگا جس کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خفیہ ٹیمیں چھاپے ماریں گئیں، جبکہ دوسرے مرحلہ میں بی کٹیگریز میں شامل تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی کا جائزہ لیاجائے گا ۔ ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری ایک سرکلر کے مطابق سکولوں کی سیکیورٹی کی کلیئرنس محکمہ پولیس ، ضلعی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے حاصل کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اس میں تعلیمی اداروں کو مزید سیکیورٹی گارڈز بھرتی کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ کے حکم پر محکمہ تعلیم اور محکمہ پولیس کے درمیان طے پانے والے معائدہ میں رواں ماہ کے آخر تک دس ہزارسے زائد سیکیورٹی گارڈز کو تربیت دی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سکولوں میں ایس او پیز کے مطابق سیکیورٹی کے انتظامات کو مکمل کرنے کے بعد کالجز اور یونیورسٹیوں تک دائرہ کار کو مزید بڑھایا جائے گا۔ سکولوں کے لئے ایس او پیز میں تبدیلی میں سیکیورٹی گارڈ کا جرائم سے پاک ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس میں سپیشل برانچ اور متعلقہ ڈی پی اوز اور تھانے سے سیکیورٹی گارڈ کا کردار اور ریکارڈ کی مکمل چھان بین کی جائے گی جبکہ سپیشل برانچ کی ٹیمیں اور تھانے کا بیٹ افسر مقامی طور پر محلے دار اور معززین سے تصدیق کر کے رپورٹ مرتب کرنے کے پابند ہوں گے، جبکہ اسلحہ کے کوائف محکمہ داخلہ اور متعلقہ ڈی سی اوز سے کلیئرنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ جس کے بعد سیکیورٹی گارڈ کو بھرتی کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نئے فیصلہ کے تحت لاہور، گوجرانوالہ اور راولپنڈی ، جنوبی پنجاب کے اضلاع میں قائم 2500 سے زائد ایسے تعلیمی ادارے ہیں جنہیں انتہائی حساس قرار دیا گیا اور ان تعلیمی اداروں سے ٹریننگ کے لئے آنے والے سیکیورٹی گارڈز کے تربیتی پروگرام کو پہلے مکمل کروانے کا حکم اور ترجیح دی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اضلاع اور علاقوں میں ایسے سکولز بھی قائم ہیں جنہیں محکمہ داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رپورٹ پر انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے جس میں لاہور،راولپنڈی اور گوجرانوالہ کے اضلاع کے سکولز سمیت اسلام آباد میں واقع سکولز بھی شامل ہیں جس میں حفاظتی نقطہ نظر سے ان سکولوں کو سیکیورٹی کے حوالے سے انتظامات کو غیر تسلی بخش قرار دے کر انتہائی حساس قرار دیا گیاہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے بھر کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کے انتظامات کو ایس او پیز کی طرز پر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم انتہائی حساس قرار دئیے جانے والے سکولز کو کیٹگریز میں تبدیل کر کے ان کی سیکیورٹی کی کلیئرنس سپیشل برانچ اور ڈی پی اوز سے بھی کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی کومزید فول پروف بنانے کے لئے اداروں کے ارد گرد مشکوک افراد کی نقل و حرکت کے لئے نجی سکولوں کے سٹاف کو بھی اس حوالے سے تربیت دی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی نہ بنانے الے سرکاری و نجی سکولوں کی انتظامیہ اور مالکان کے خلاف ایکشن لیا جائے گا اور اس کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خصوصی ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے سیکرٹری تعلیم عبدالجبار شاہین نے ’’ پاکستان‘‘ کو بتایا کہ حساس قرار دئیے جانے والے اے پلس کیٹگری میں شامل سکولوں کی پہلے مرحلہ میں سیکیورٹی کو فول پروف بنا دیا گیا ہے ہے جبکہ دوسرے مرحلہ میں اے کیٹگریز کے سکولوں پر توجہ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے ہیں جس میں ڈی سی اوز، ڈی پی اوز سمیت تمام متعلقہ محکموں نے اپنی اپنی کارروائی شروع کر دی ہے جبکہ ای ڈی اوز کو بھی اس حوالے سے خصوصی ٹاسک دئیے گئے ہیں اور رواں ماہ کے آخر تک ناقص سیکیورٹی کے حامل، غیر تربیت یافتہ سیکیورٹی گارڈز بھرتی کرنے والے سکولوں کو سیل کیاجائے گا۔