تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کے مسائل اور انکا حل‘‘ کے موضوع پر کانفرنس

لاہور(فلم رپورٹر)پاکستان مذہبی دھشت گردی کا شکار ہے۔ دفاعی طریقوں کی بجائے اصل وجوہات جاننے کے بعد جامعہ حکمت عملی سے دھشت گردی کی روک تھام کے اقدامات کئے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار سابق آئی جی پنجاب پولیس شوکت جاوید نے ٹیک سوسائٹی کلب میں ’’تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کے مسائل اور انکا حل‘‘ کے موضوع پر ہونیوالی 51 ویں کانفرنس کے دوران کیا۔ کانفرنس میں سابق وزیر مملکت قیوم نظامی، زرعی سائنسدان ڈاکٹر محمد صادق، ڈاکٹر حسیب اللہ، منظور احمد شیخ، پروفیسر ڈاکٹر عطیہ عبد اللہ، پروفیسر ڈاکٹر مبشرہ حمید، سلمان عابد، سابق مشیر آئی ایم ایف خالد محمود سلیم، جمیل بھٹی سابق آڈیٹر جنرل پنجاب، جمیل گشکوری، انجینئیر محمود الرحمن چغتائی، پروفیسر مشکور احمد اور ڈاکٹر اکرام کوشل نے بھی اظہار خیال کیا۔ شوکت جاوید نے کہا کہ پاکستان میں ہونیوالی دھشت گردی اسلام کی اپنی اندرونی لڑائی ہے جس میں بیرونی سازشوں کا عنصر بہت کم ہے۔ مختلف مذہبی گروہ اپنا اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں جسکا حل ایسے عناصر کا مکمل خاتمہ ہی ہے۔ روس کے خلاف جنگ میں ایسے مذہبی گروہوں کو جہاد کے نام پر افغانستان میں ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہونے کا موقعہ مل گیا۔ روس کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے بعد ایسے عناصر متبادل مقصد حیات و روزگار نہ ملنے کی وجہ سے انھوں نے پاکستان میں اندرونی دھشت گردی پر کام شروع کردیا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں لوگوں کو بنیادی ضروریات زندگی خاص طور پر جان و مال کا تحفظ، تعلیم اور صحت جیسی سہولیات فراہم نہ ہونے اور تعلیم کو بزنس بنا لینے کی وجہ سے دھشت گردی کے مسائل میں اضافہ ہوا۔ قانون کا نظام اتنا پیچیدہ ہے کہ جرائم پیشہ افراد کو قانونی طور پر سزائیں دلوانا بہت مشکل ہے جس کی وجہ سے پولیس مقابلوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ شوکت جاوید نے دھشت گردی کے مسئلہ کا حل بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک اندرونی سیکیورٹی کا ادارہ جامعہ قومی حکمت عملی بنانے کے بعد اسکو پھیلائے اور جہادی تنظیموں کو متبادل مقصد حیات و روزگا ر فراہم کیا جائے۔ ممکنہ ٹارگٹس کی جسقدر ہوسکے حفاظت کی جائے، دھشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کرنیوالے نیٹ ورکس کو ختم کیا جائے، انکو ہتھیاروں کی سپلائی بند کی جائے اور انکا مواصلاتی نظام ختم کیا جائے۔ پروفیسر ڈاکٹر مبشرہ حمید نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو باہر سے زیادہ اندر سے خطرہ ہے کیونکہ اب دھشت گرد تعلیمی اداروں میں سرایت کر چکے ہیں۔ سلمان عابد نے کہا کہ دھشت گردی کے خلاف جامعہ حکمت عملی بنانے کیلئے ذمہ دار اور اہل سیاسی قیادت کا فقدان ہے۔ قیوم نظامی نے کہا کہ عسکری کے ساتھ ساتھ دھشت گردی کے خلاف نظریاتی ہتھیار بھی استعمال کیا جائے۔ بدقسمتی سے آج تک کسی سیاسی جماعت نے دھشت گردی کے خلاف کوئی اجلاس نہیں بلایا۔ دھشت گردی کے واقعات روکنے کیلئے 1122 کی طرز پر ریپڈ ریسپانس فورس بنائی جائے۔ ڈاکٹر محمد صادق نے کہا کہ بدقسمتی سے سیاسی قیاد ت کی طرف سے عوام کو اپنے مسائل حل ہوتے نظر نہیں آرہے ، وہ مایوسی کا شکار ہیں اور پر امن انقلاب کے خواہاں ہیں۔