تعلیمی بورڈز کا انٹر میڈیٹ کے سالانہ امتحانات کے شیڈول کا اعلان

لاہور( لیاقت کھرل)صوبے بھر کے تعلیمی بورڈز نے انٹر میڈیٹ کے سالانہ امتحانات سال 2016ء کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے جس میں تعلیمی بورڈ لاہور سمیت صوبے بھر کے تمام تعلیمی بورڈز کے زیر اہتمام انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات 7 مئی سے شروع ہوں گے، ممکنہ دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظر امتحانی مراکز کے ارد گرد دفعہ 144 کا نفاذ، سیکیورٹی کی ذمہ داری ایلیٹ فورس کے سپرد، جبکہ امتحانی عملے کے کوائف کی جانچ پڑتال اور کلیئرنس قانون نافذ کرنے والے اداروں سے لازمی قرار دے دیا گیا۔ ’’پاکستان‘‘ کو تعلیمی بورڈز کی کمیٹی (پی بی سی ) کے ذرائع نے بتایا ہے کہ صوبے بھر کے تعلیمی بورڈز کی کمیٹی پنجاب بورڈز کمیٹی ( پی بی سی) کے چیئرمین محمد نصراللہ ورک نے انٹر میڈیٹ کے سالانہ امتحانات کے شیڈول کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے جس کے تحت تعلیمی بورڈ لاہور سمیت پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز کے زیر اہتمام انٹرمیڈیٹ پارٹ ون اور پارٹ ٹو کے امتحانات 7 مئی سے شروع ہوں گے جس میں 7 مئی سے پارٹ ٹو جبکہ 26 مئی سے پارٹ ون کے امتحانات کے شیڈول کا اعلان کیا گیا ہے۔ تعلیمی بورڈ لاہور سمیت صوبے بھر کے تمام تعلیمی بورڈز کے زیر اہتمام انٹر میڈیٹ کے ہونے والے امتحانات کے لئے 3900 امتحانی مراکز کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جس میں تعلیمی بورڈ لاہور کے زیر اہتمام ہونے والے امتحانات میں پارٹ ون اور پارٹ ٹو میں تین لاکھ 25 ہزار امیدوار شرکت کریں گے جس کے لئے تعلیمی بورڈ لاہور نے 500 امتحانی مراکز قائم کر کے حتمی شکل دے دی ہے۔ اسی طرح دوسرے نمبر پر تعلیمی بورڈ گوجرانوالہ کے زیراہتمام ہونے والے پارٹ ٹو امتحانات میں تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار جبکہ پارٹ ون میں ڈیڑھ لاکھ ، تیسرے نمبر پر تعلیمی بورڈ فیصل آباد کے زیر اہتمام 400 سے زائد امتحانی مراکز ہیں، پارٹ ون اور پارٹ ٹو کے دو لاکھ 30 ہزار کے قریب امیدوار شرکت کریں گے اور اسی طرح تعلیمی بورڈ ملتان کے زیر اہتمام پونے ۳ لاکھ کے قریب امیدوار پارٹ ون اور پارٹ ٹو میں شرکت کریں گے۔تعلیمی بورڈز کی کمیٹی کے چیئرمین محمد نصراللہ ورک کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں امتحانی مراکز کے ارد گرد دفعہ144 کا نفاذ اور ممکنہ دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظر امتحانی مراکز کے ارد گرد سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کرنیکا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں امتحانی مراکز کے ارد گرد سیکیورٹی کیمرے نصب ہوں گے۔ امتحانی عملے اور امیدواروں کی چیکنگ میٹل ڈٹیکٹرز سے اور واک تھرو گیٹ نصب کئے جائیں گے جبکہ کمانڈوز اور ایلیٹ فورس سے نگرانی کروانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ امتحانی عملے کے کوائف کی جانچ پڑتال اور کلیئرنس خفیہ ادارروں سے کروائی جائے گی۔ اس حوالے سے پی بی سی کمیٹی کے چیئرمین محمد نصراللہ ورک نے ’’ پاکستان‘‘ کو بتایا کہ انٹر میڈیٹ کے حالیہ امتحانات میں پہلے کی نسبت سیکیورٹی انتہائی سخت ہو گی۔ امتحانی مراکز کے اردگرد دفعہ 144 کا نفاذ ہو گا۔ نقل مافیا کا مکمل خاتمہ جبکہ کسی قسم کے واقعات کی روک تھام کے لئے امتحانی مراکز کی نگرانی قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت ایلیٹ فورس اور کمانڈوز پولیس سے بھی مدد حاصل کی جائے گی۔