گرمی کی شدت۔۔۔ نجی سکول اور چھٹیاں!

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا اور آج لاہور میں درجہ حرارت46سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ محکمہ موسمیات نے اس اور اگلے ہفتے میں سخت گرمی کی پیش گوئی کی ہے اور عوام کو حفاظتی تدابیر کے لئے کہا ہے۔ گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ بجلی کی لوڈشیڈنگ اور ٹرپنگ کی شکایات تو موصول ہوئیں۔ اب نجی سکولوں کے مالکان کے رویے کی بھی بات ہونے لگی ہے۔ ہمارے سٹاف رپورٹر کی اطلاع کے مطابق نجی سکولوں کے مالکان نے بچوں کے والدین کو چار ماہ کی فیس یکمشت ادا کرنے پر مجبور کرنا شروع کر دیا ہے کہ جون سے گرمیوں کی چھٹیاں ہونے والی ہیں، والدین یکمشت چار ماہ کی فیس ادا کرنے سے قاصر ہیں اور وہ دو دو ماہ کی دو اقساط میں ادا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ادھر سرکاری طور پر بتایا جا رہا ہے کہ اس بار گرمیوں کی چھٹیاں6جون سے31اگست تک ہوں گی۔ یوں قریباً پونے تین ماہ سکول بند رہیں گے۔ ادھر گرمی کی شدت میں اضافے کی وجہ سے والدین اور بچے شدید پریشان ہیں اور جلدی چھٹیوں کی توقع کر رہے ہیں کہ اس مرتبہ تو رمضان المبارک کا آغاز بھی7جون سے متوقع ہے۔اس طرح بچے اور والدین دہری پریشانی میں مبتلا ہیں، بہتر ہوتا کہ حکومت محکمہ موسمیات سے رپورٹ منگوا کر چھٹیوں کا فیصلہ کرتی اور اگر چند روز مزید بڑھائے جا سکیں تو اس میں مضائقہ نہیں ہونا چاہئے۔ اِسی طرح محکمہ تعلیم کو نجی سکولوں کے مالکان کی طرف سے چار ماہ کی فیس یکمشت وصول کرنے اور سمر کیمپ کے نام پر الگ سے خرچہ بڑھانے کا بھی خیال رکھنا چاہئے، صرف انتباہ یا پریس نوٹ سے کام نہیں چلے گا، عملی اقدام کی ضرورت ہے!