لمز یونیورسٹی میں ڈیری انڈسٹری سے متعلق نئی تحقیق پیش

لاہور(شہزاد چودھری)دودھ کے عالمی دن کے موقع پر لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) نے پروفیسر عابد امین برکی کی تحقیق بعنون 'پاکستان کا ڈیری سیکٹر :ماضی کے اسباق سے مستحکم ڈیری صنعت کی تعمیر' (Lessons from the Past to Build a Resilient Dairy Industry)متعارف کرائی ۔ اس ضمن میں دودھ کے عالمی دن لمز یونیورسٹی میں بدھ کو تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈیری سیکٹر کے تمام اسٹیک ہولڈرز، یو ایچ ٹی ملک پروسیسرز کے نمائندے، کاروباری ڈیری فارمرز، لائیو اسٹاک اور ڈیری ماہرین اور معروف ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔ یہ تحقیق پاکستان کے ڈیری سیکٹر کا مکمل تجزیہ ہے اور اس سے معیشت کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے اور جی ڈی پی میں لائیو اسٹاک کا تعاون 12 فیصد ہے یعنی 3015 ارب روپے ہے۔ اس موقع پر لمز کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ایس سہیل ایچ نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا، "لمز صف اول کی یونیورسٹی ہے جو ریسرچ پر بہت زور دیتی ہے۔ ڈیری سیکٹر سے متعلق یہ تحقیق ہمارے لئے اہم ہے کیونکہ یہ لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی لاتی ہے اور ان پر اثرات مرتب کرتی ہے ۔ ڈیری ایک بنیادی شعبہ ہے جس میں دودھ ہر عمر کے افراد کی غذائیت کا اہم ترین کردار ہے۔ اس انڈسٹری کو درپیش معاشی مسائل حل کرنا اس کی ترقی کے لئے ضروری ہے ۔ یہ رپورٹ ڈیری انڈسٹری کی ترقی کے لئے پالیسی بنانے اور حکمت عملی اختیار کرنے کے لئے ایک ٹھوس سائنسی تحقیق پیش کرتی ہے۔ "اس موقع پر ٹیٹرا پیک پاکستان کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر اسد عباس نے خطاب کرتے ہوئے کہا، "پاکستان مستحکم طور پر غیر روایتی شعبے کے ساتھ دودھ پیدا کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے۔ یہ روایتی شعبہ بدستور اعداد و شمار سے محروم، غیرمنظم اور پیداوار و مارکیٹنگ کے پرانے طور طریقوں میں گھرا ہوا ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے صحیح پالیسیوں پر کام کیا جائے تو اس سیکٹر میں ترقی کے بھرپور مواقع موجود ہیں اور پاکستان ڈیری مصنوعات میں عالمی سطح پر اپنا مقام بنا سکتا ہے۔ "انہوں نے مزید کہا، "پاکستان میں غذائی قلت بالخصوص خواتین اور بچوں میں خطرناک شرح سے اضافہ ہورہا ہے۔ ہمارے 24 فیصد بچے عدم بڑھوتری کا شکار ہیں اور ان میں 50 فیصد سے زائد بچے وٹامن اے اور ڈی کی کمی کے نتیجے میں مختلف بیماریوں سے نبرد آزما ہیں۔

دودھ بنیادی غذائیت کا ایک منفرد اور قدرتی پیکیج ہے اور صرف یہی ایک چیز غذائی قلت کا مقابلہ کرنے کے لئے بہترین ہے۔ "اپنے تحقیقی کام کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر عابد امین برکی نے بتایا، "ملک میں کارپوریٹ ڈیری فارمز کی ترقی کو فروغ دینے میں 2007 کی پالیسی کارآمد ہے۔ تاہم ابتدائی طور پر ان فارمز کے انفراسٹرکچر کی لاگت نئے کارپوریٹ ڈیری فارمز کے لئے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ حکومت کو اپنی لائیو اسٹاک ڈیولپمنٹ پالیسی برائے 2007 کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس سیکٹر میں تبدیلیوں سے منسلک رہے کیونکہ اس سیکٹر سے نہ صرف ملازمت کے مواقع پیدا ہوتے ہیں بلکہ ڈیری خوراک بھی پیدا ہوتی ہے۔ "پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن چیئرمین بابر سلطان نے کہا کہ برانڈڈ دودھ پر ٹیکس کی تجویز ڈیری سیکٹر کے لئے نقصان دہ ہوسکتی ہے کیونکہ پروسیسر پھر لازمی اس بوجھ کو صارفین پر منتقل کریں گے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ٹیکس کو زیرو ریٹنگ پر جاری رکھے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد جیتنے کے لئے کئی سالوں سے زیر التوا سیلز ٹیکس ریفنڈز کی مد میں بھاری رقم واپس کی جائے۔