تعلیم ، صحت زراعت ، صاف پانی اور امن وامان کیلئے بجٹ کا 57فیصد مختص کیا ، عائشہ غوث

 لاہور(کامرس رپورٹر) صوبائی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کیلئے تعلیم، صحت، زراعت، صاف پانی کی فراہمی اورامن و امان کیلئے کل بجٹ کا 57 فیصد مختص کیا گیا ہے، تعلیم کیلئے رکھے گئے 312 ارب روپے میں ’’ پنجاب سٹرینتھنگ سکولز‘‘کا دو سالہ منصوبہ شامل ہے جس کے تحت اساتذہ کی تربیت، سکالر شپ پروگرام اور نجی شعبے سے ملک کر 19 لاکھ طلبہ کو تعلیمی سہولتیں فراہم کی جائینگی، صحت کے 27.3 ارب روپے سے تحصیل ہیڈ کوارٹرز کی سطح پرہسپتالوں میں آئی سی یو اور برن یونٹ سمیت صحت کی معیاری سہولتیں فراہم کریں گے، سی پیک منصوبے کے ذریعے پانچ لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہونگے، ٹیکس کلچر کے فروغ کیلئے آئندہ مالی سال نئی ٹیکس سکیمیں لے کر آ رہے ہیں،550 ارب کا ترقیاتی بجٹ صوبے کے مالی وسائل کو مد نظر رکھ کر دیا گیا ہے۔وہ گزشتہ روز ایوان وزیر اعلیٰ میں پر ہجوم پوسٹ بجٹ کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ ماضی کی طرح آئندہ مالی سال کا بجٹ نمبر گیم نہیں ہے بجٹ میں تعلیم ، صحت سوشل سیکٹرسمیت عام آدمی کو صاف پانی کی فراہمی جیسے منصوبے شامل کرنے سے یہ تاثر کافی حد تک زائل ہو گیا ہے، صاف پانی کی عدم دستیابی انسانی صحت کو درپیش مسائل کی سب سے بڑی وجہ ہے، آئندہ مالی سال صاف پانی فراہم کرنیوالی کمپنیوں کیلئے 30 ارب روپے اضافی رکھے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ بجٹ میں عوامی نمائندوں کی تجاویز شامل کی گئی ہیں جس کے نتیجے میں یہ مکمل طور پر عوامی بجٹ ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی پانچ اوّلین ترجیحات میں زراعت بھی شامل ہے، بدلتے ہوئے موسمی تخیرات اور عالمی سطح پر نا موافق حالات کے باعث کسان پس رہا ہے جسے ریلیف دینے اور صوبے کی زراعت کو ترقی دینے کیلئے 147 ارب روپے رکھے گئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے توانائیاں صرف کر رہے ہیں، چند ہفتے قبل اس سلسلے میں ایگری کلچرل کانفرنس منعقد کی گئی جس کی تجاویز کی روشنی میں آئندہ بجٹ میں بہترین منصوبہ بندی کے ذریعے ٹیوب ویل ، کھاد پر سبسڈی اور چھوٹے قرضوں سمیت زرعی معیشت کے فروغ کے منصوبے شامل کئے گئے ہیں جس کیلئے 100 ارب روپے کا اضافی پیکج رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں ٹیکس کلچر کے فروغ کیلئے رواں مالی سال ٹیکس ڈے منایا گیا اور کھانے پینے کے ہوٹلوں کیلئے ریسٹورٹنس انوائس مانیٹرنگ سسٹم متعارف ہوا جس کے نتیجے میں ٹیکس وصولیوں میں 30 فیصد اضافہ ہوا، آئندہ مالی سال بھی اسی طرز پر بیوٹی پارلرز اور دیگر شعبوں کیلئے نئی ٹیکس سکیمیں لے کر آ رہے ہیں ، پوسٹ بجٹ کانفرنس کے اختتامی سیشن میں مختلف سوالوں کے جواب میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ پن بجلی کے منصوبوں پر منافع کے حوالے سے وفاقی حکومت کیساتھ رابطے میں ہیں، گزشتہ برس کے 409 ارب کے ترقیاتی بجٹ میں سے 310 ارب روپے تک خرچ کر لینگے، عوامی مسائل کے مطابق سپلیمنٹری بجٹ زیادہ ہوتا ہے، پنجاب پر 533 ارب کے گردشی قرضے ہیں ، زراعت کے موجود حالات گزشتہ حکومتوں کی عدم توجہی کی وجہ سے ہیں، زرعی کمیشن بنایا ہے جس سے اس سیکٹر کے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی، دو سال بعد زرعی انکم ٹیکس وصول کرنے کی پوزیشن میں آ جائینگے، سکولوں کی نجکاری نہیں آؤٹ سورسنگ کر رہے ہیں، چھٹی سے دسویں کی بچیوں کا اعزازیہ 200 سے بڑھا کر 1000 ارب کر دیا ہے ۔ اس موقع پر صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے بھی مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اورنج لائن جیسے منصوبے میٹرو پولیٹن شہروں کی ضرورت ہوتے ہیں جنہیں پسماندہ علاقوں میں نہیں بنایا جا سکتا، اورنج لائن منصوبہ مکمل طور پر چینی حکومت کے تعاون سے بنایا جا رہا ہے، جس سے اڑھائی لاکھ مسافر استفادہ حاصل کرینگے جبکہ 147 ارب سے مکمل ہونیوالے اس منصوبے کی پانچ سال بعد مالیت 450 ارب ہو جائیگی۔وزیر زراعت ڈاکٹر فرخ جاوید نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں اور مختلف محرکات کے پیش نظر زرعی اجناس کی قیمتوں میں گراوٹ ہے اور پاکستان بھی عالمی تناظر میں اس سے متاثر ہوا ہے۔