دوسری سالانہ صنفی مساوات رپورٹ جاری

لاہور (پ ر) پنجاب کمیشن برائے حقوق خواتین نے 06 مارچ 2017ء کو دوسری سالانہ پنجاب صنفی مساوات رپورٹ 2017ء جاری کر دی، کمیشن کی چیئرپرسن فوزیہ وقار نے رپورٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ کمیشن کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پہلی مرتبہ جامع انداز سے صوبہ پنجاب میں مرد اور عورت ،صنفی مساوات کے حوالے سے اعداد و شمار اکٹھے کئے گئے اور پہلی رپورٹ 2016ء جاری ہوئی اور موجودہ دوسری رپورٹ اسی سلسلے کی کڑی ہے جو پچھلے سال کی رپورٹ سے منسلک ہے جو عورتوں سے متعلق 7 اہم موضوعات بارے پچھلے سالوں سے موازنہ پیش کرتی ہے۔ جو پالیسی ساز اداروں اور حکومتی سربراہان کو صوبہ پنجاب میں عورتوں کے حقو ق و تحفظ و پاسداری سے متعلق مثبت اقدامات کیلئے راہنماثابت ہوگی۔

فوزیہ نے مزید بتایا کہ صوبہ پنجاب میں لڑکیوں میں خواندگی کے تناسب میں قدرے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو سال 2007-08ء میں 48 فیصد سے بڑھ کر سال 2014-15ء میں 55 فیصد ہوا۔ مزید یہ کہ 2013ء سے 2015ء کے دوران ، بیس لاکھ خواتین ووٹرز الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹر ہوئیں۔ یہ مثبت رجحانات، صوبہ پنجاب میں عورتوں کی سیاسی،سماجی اور معاشی خودمختاری کی کامیابی میں راہ ہموار کرنے کی امید دکھائی دیتے ہیں۔یہ رپورٹ صوبہ پنجاب میں حکومت کے عورتوں کیلئے شعبہ تعلیم، صحت، آبادیات، گورننس، انصاف و معاشی مواقعوں کیلئے کئے گئے خصوصی اقدامات کا مجموعہ اورانکے کلیدی نتائج کا تجزیہ بھی پیش کرتی ہے۔2016ء کی رپورٹ موجودہ تازہ ترین نتائج کیلئے ایک اچھا ریفرنس ثابت ہوئی ہے جو سال 2012ء سے لیکر2016ء کا موازنہ بھی ہے۔ اس رپورٹ کا خاص مقصد آئندہ کیلئے صنفی برابری پر مشتمل پالیسی سازی اور بجٹ سازی کیلئے ایڈووکیسی کرنا ہے۔ ضلع کی سطح پر بھی یہ تجزیاتی رپورٹ حکومت کیلئے راہنمائی مہیا کریگی کہ وہ مزید بہتری سے علاقائی آبادی کی ضروریات کو سمجھتے ہوئے پالیسی اور ترقیاتی پروگرام ترتیب دے۔