چائلڈ لیبر میں اضافہ کی رپورٹ وزیر اعلیٰ کو پیش، 15مارچ سے کریک ڈاؤن

لاہور ( لیاقت کھرل ) ضلعی حکومت اور محکمہ لیبرکی مبینہ چشم پوشی ،فرائض سے غفلت اور مک مکاکے باعث فیکٹریوں ،کارخانوں اور دکانوں پر چائلڈ لیبرنے زور پکڑلیاہے وزیراعلیٰ پنجاب کوپیش کی جانے والی خفیہ رپورٹ میں سب سے زیادہ کارخانوں ،ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس پرچائلڈلیبرکاانکشاف سامنے آیاہے ۔وزیراعلیٰ پنجاب کوچائلڈلیبرکے خلاف کام کرنے والی ایک این جی او نے ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں لاہورمیں واقع کارخانوں ،ریسٹورنٹس ،ہوٹلوں اور موٹرسائیکل ریپئرنگ اور پنکچرلگانے والی دکانوں پر پچیس ہزار نوسو دوبچوں کاذکرکیاگیاہے ۔جن کی عمریں سات سال سے لے کرسولہ سال سے کم بتائی گئی ہیں ۔ این جی او کی جانب سے سروے میں انڈسٹری ایریاکوٹ لکھپت ،باغبانپورہ اور کاہنہ سمیت شہرکے مختلف علاقوں میں واقع بارہ سو پانچ کارخانوں کا ذکرکیاگیاہے ۔ چائلڈلیبرکو باقاعدہ ممانعت اور جرم قراردینے کے باوجود محکمہ لیبرنے چشم پوشی سے کام لے رکھاہے۔ اس حوالے سے محکمہ لیبرکے ڈائریکٹر چوہدری محمد نصراللہ نے پاکستان کو بتایاکہ چائلڈلیبرایکٹ 2016 کے نئے قانون کے تحت چھ ماہ قیداور پچاس ہزار روپے جرمانہ مقررکیا گیا ہے۔ اس بارے وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی ایک این جی او نے خفیہ رپورٹ پیش کی ہے جس کو کارروائی کا حصہ بنا یا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئے لیبر قانون کے تحت کارخانہ دار اور دکان مالکان کوقانون کی خلاف ورزی کامرتکب ہونے پر گرفتارکرکے سزادلوائی جاسکتی ہے پندرہ مارچ سے باقاعدہ کریک ڈاون شروع کیاجارہاہے ۔