ذکر ایک سروے کا

epaper

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کی آئیڈیاز ٹیم نے 2018ء کے عام انتخابات کے حوالہ سے ایک سروے رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق آئندہ وزیراعظم بھی نواز شریف ہی ہوں گے جبکہ مسلم لیگ (ن) بھاری اکثریت حاصل کرے گی۔ لمز یونیورسٹی کی ٹیم نے لاہور کے حلقہ 121، قومی اسمبلی کے حلقہ 122 اور 124 میں گھر گھر جاکر مذکورہ سروے مکمل کیا اور انتہائی چھان بین کے بعد رپورٹ جاری کی ہے۔ سروے کے مطابق وزیراعظم نواز شریف دیانتدار ترین سیاستدان قرار پائے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو بھی دیانتداری اور شفافیت میں لگ بھگ اتنے ہی ووٹ ملے ہیں،جتنے نواز شریف کے ہیں۔ سروے رپورٹ میں صاف صاف کہا گیا ہے کہ یقیناًوزیراعظم نواز شریف آئندہ دنوں میں لوڈشیڈنگ، کرپشن اور مہنگائی نام کے جنات کو بوتل میں بند کرلیں گے اور ملک کے مقبول ترین لیڈر کے طور پر ابھریں گے۔صاحبو! ہم اس سروے کو ’’لاہوریوں‘‘ کی رائے کہہ کر رد کرتے ہیں۔ دل کو سکون دینے کیلئے ایک لمحہ سوچ لیتے ہیں کہ یہ شہر نواز شریف اور شہباز شریف کی ’’جنم بھومی‘‘ ہے جبکہ اس شہر کے باسی نواز، شہباز ’’فوبیا‘‘ کا شکار ہیں لیکن لمز یونیورسٹی بارے کیا رائے قائم کریں جو انٹرنیشنل لیول کی بڑی یونیورسٹی ہے اور دنیا بھر میں لمز یونیورسٹی کا علیحدہ معیار اور الگ ساکھ ہے۔کیا اس بات کا تصور کیا جاسکتا ہے کہ نمل یونیورسٹی نواز، شہباز فوبیا میں مبتلا ہوکر دونوں سیاسی لیڈروں کی بے جا پذیرائی کرے گی، غلط سلط سروے رپورٹ شائع کرے گی اور یوں اپنے معیار اور ساکھ کو داؤ پر لگا دے گی؟

لمز یونیورسٹی کی انتظامیہ ایسا ’’رسک‘‘ نہیں لے سکتی جس سے زمانے بھر میں اس کی سبکی ہو اور کسی ایک حکومت کی خیر خواہی میں اپنے ادارے کو بدخواہی کانشانبنا دے۔ یقیناًہم سمجھتے ہیں کہ لمز کی سروے ٹیموں نے جو اعداد و شمار اور کوائف اکٹھے کئے انہیں من و عن شائع کیا اور یوں وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ شہباز شریف کے حق میں فیصلہ آیا لیکن ہمیں اس موقع پر بے چارے عمران خان پر ترس آ رہا ہے۔ کپتان صاحب یہ بات دانت پیس پیس کے کر رہے ہوتے ہیں، دیکھنے اور سننے والے ایک لمحہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کپتان جیسا کھرا، سچا، سنجیدہ اور محب وطن سیاستدان دوسرا کوئی نہیں مگر لاہوریوں کا کیا کیا جائے کہ انہوں نے موجودہ سروے میں عمران کو رنگ بدلنے والا، پینترے بدلنے والا، بیانات بدلنے والا غیر سنجیدہ سیاست دان قرار دیا ہے اور عندیہ دیا ہے کہ 2018ء کے الیکشن میں تحریک انصاف کے ’’حصے‘‘ میں کچھ نہیںآئے گا۔

لمز یونیورسٹی کا سروے کپتان کیلئے کسی صدمے سے کم نہ ہوگا‘ انہیں کبھی طالبان کی حمایت، کبھی مخالفت کے اپنے بیانات رہ رہ کر یاد آتے ہوں گے اور وہ اس وقت کو بھی کوس رہے ہوں گے جب انہوں نے پی ایس ایل فائنل لاہور میں کرانے کا مطالبہ کیا اور بعدازاں پی ایس ایل فائنل کے لاہور میں انعقاد کو ’’پاگل پن‘‘ قرار دیا۔ عمران خان کو حق حاصل ہے کہ وہ لمز یونیورسٹی کے اس سروے کو بھی ’’پھٹیچر‘‘ کہہ دیں اور لمز کی آئیڈیاز ٹیم کے ممبرز کو ’’ریلو کٹے‘‘ قرار دے دیں مگر سروے رپورٹ پڑھنے کے بعد وہ اپنے خاص انداز میں جھنجھلائے ضرور ہوں گے اور ساتھ ہی ان کے دل میں اس وسوسے نے بھی ضرور جنم لیا ہوگا کہ مذکورہ سروے کے بعد ان کے سرمایہ دار ساتھی انہیں چھوڑ نہ جائیں اور یوں امیر ترین تحریک انصاف ’’کنگال ترین‘‘ نہ ہو جائے۔

ترس تو خیر سے آصف علی زرداری پر بھی بہت آ رہا ہے جو لاہور فتح کرنے کیلئے آئے دن بحریہ ٹاؤن میں ڈیرہ ڈال لیتے ہیں اور جیالوں کو بحریہ دسترخوان سے کھلا پلا کر اس زعم میں مبتلا ہیں کہ ایک دن نواز، شہباز کی چولیں ہلاکر لاہور کے چیئرنگ کراس میں ’’تخت لاہور‘‘ پر بیٹھے ہوں گے مگر لمز سروے نے ان کی تمام امیدیں خاک میں ملا دی ہیں، آس کے طوطے ہاتھوں سے پھُر کرکے اڑا دیئے ہیں اوراب سابق صدر سخت مایوسی کے عالم میں ’’ظالم‘‘ لاہوریوں کو کوسنے دے رہے ہوں گے کہ ’’سنگدلان لاہور‘‘ نے انہیں اور ان کے ہونہار پُتر کو 2 فیصد بھی دیانتدار نہیں سمجھابے شک آصف علی زرداری کو یہ گیت رہ رہ کر یاد آ رہا ہوگا۔’’اب یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں آئے گا‘‘سیانے کہتے ہیں کہ ’’جس دی کوٹھی دانے، اس دے کملے وی سیانے‘‘ بے شک وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی کوٹھی میں ذہانت، محنت‘ مشقت، حب الوطنی، نیک نیتی اور جنون بھرے لاکھوں من دانے ہیں۔ ملک و قوم کی خدمت کا لازوال جذبہ دونوں بھائیوں کی گھٹی میں شامل ہے اور اسی جذبے نے انہیں پاکستان کے مقبول ترین لیڈر بنا دیا ہے۔ اقوام عالم میں دونوں بھائیوں کا شمار نہ صرف بہت آگے کے نمبروں میں ہے بلکہ دنیا بھر کے بہت سے لیڈر آئے دن اپنے بیانات میں نواز شریف، شہباز شریف کے ٹیلنٹ کا حوالہ دیتے رہتے ہیں۔ ماضی گواہ ہے کہ دونوں بھائیوں کو طرح طرح کے سکینڈلز میں الجھانے کی کوشش کی گئی، ’’ضیاء باقیات‘‘ جیسے طعنے بھی سننے کو ملے۔

دو مرتبہ منتخب وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کو نہ صرف توڑا گیا بلکہ جیلوں، عدالتوں، سزاؤں کے خوف میں مبتلا کرنے کی بھی بارہا کوشش کی گئی۔ گرفتاریوں اور جلاوطنی کا گھناؤنا کھیل کسی بھی لیڈر کو سیاست سے کنارہ کش ہونے کا خوب درس دیتا ہے لیکن نواز، شہباز کی ثابت قدمی، جرأت اور حب الوطنی نے ثابت کیا ہے کہ جن کے پاس جنون ہوتا ہے وہ سیاست کی غلام گردشوں میں الجھے بغیر اپنا لوہا منوا لیتے ہیں۔ لمز یونیورسٹی کے سروے کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ ہم دنیا کی 23 ویں مضبوط معیشت بن چکے ہیں اور 2018ء کے اختتام تک کئی سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے دنیا کی 16 ویں ایسی مملکت بننے کی طرف گامزن ہیں جو معاشی لحاظ سے نامور ممالک میں شامل ہوگی۔ یقیناًآئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور مختلف ممالک کے سامنے کشکول اٹھائے کھڑے پاکستان کو مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے خودانحصاری کی جرأت سے ہمکنار کیا ہے۔ پاکستان اس وقت کسی ملک کا مرہون منت ہے اور نہ ہی کسی عالمی ادارے کا بھکاری، اب یہ ایسا پاکستان ہے جس کے سی پیک کو ایک عالم للچائی نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ دہشت گردیوں میں بری طرح زخمی پاکستان اس قابل ہوگیا ہے کہ نہ صرف اپنے پاؤں پر کھڑا ہوسکے بلکہ دنیا کو یہ میسج بھی دے سکے کہ جن ممالک کو طرح طرح کے روگ لاحق ہیں وہاں نواز شریف اور شہباز شریف جیسے لیڈر پیدا کرلو، سارے روگ مٹ جائیں گے، ہر طرح کے سوگ خوشیوں اور خوشحالی میں بدل جائیں گے۔