وائس چانسلرز کی مدت ملازمت کم کرنے پر تعلیمی ماہرین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی

لاہور(خبر نگار) حکومت کی جانب سے سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی مدت ملازمت چار سال سے کم کر کے دوسال کرنے پر یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز اور تعلیمی ماہرین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور حکومت سے یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کی مدت ملازمت کو چارسال ہی برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔اس حوالے سے ایک سرکاری یونیورسٹی کے وائس چانسلرکا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی مدت ملازمت چار سال سے کم کر کے دوسال کرنا بہت بڑا ظلم اور تعلیم کے شعبہ کے ساتھ مذاق ہوگا۔جبکہ اس حوالے سے تعلیمی ماہرین اور اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر حسن مبین عالم اور جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمود حسین نے کہا ہے کہ اس سے جامعات میں انتظامی امور کمزور ہو کر رہ جائیں گے،دوسالہ مدت ملازمت انتہائی کم عرصہ ہے اوراس سے تعلیم کے شعبہ میں ترقی کا پہیہ رک کر رہ جائے گا۔اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔حکومت وائس چانسلرز کے ڈیپوٹیشن (مدت ملازمت) کے عرصہ کو چار سال ہی رکھے اور اس میں کمی وبیشی نہ کرے۔اگر ایسا کیا گیا تو شدید مذمت اور اوراحتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔دوسری جانب محکمہ تعلیم کے شعبہ ہائر ایجوکیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے فی الحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور جن یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز بھرتی کیے جارہے ہیں ان کیلئے فی الحال مدت ملازمت چار سال ہی رکھی گئی ہے۔