تربت میں تین روزہ کامیاب چلڈرن لٹریچر فیسٹول کاانعقاد

کراچی(پ ر) ادارہ ء تعلیم و آگاہی کی طرف سے تربت کے بلوچستان ریذیڈنشل کالج(بی آر سی) میں پہلی بار تین روزہ چلڈرن فیسٹول(سی ایل ایف)منعقد کیا گیا۔یہ فیسٹول، جس کا افتتاح کمانڈر سدرن کمانڈ کی اہلیہ بیگم عاصم باجوہ نے جمعہ،3 مارچ کو کیا تھا ،پیر،5 مارچ کو اختتام پذیر ہوا۔اس فیسٹول میں تربت، پنجگور اور پسنی جیسے دور دراز علاقوں کے بچوں کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی۔سابق وفاقی وزیرزبیدہ جلال نے اس فیسٹول کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا جبکہ ڈائریکٹر جنرل ایف سی ساؤتھ کی اہلیہ اور دیگر خواتین بھی اس میں شریک ہوئیں۔چلڈرن لٹریچر فیسٹول کی بانی اور ادارہ ء تعلیم و آگاہی کی ٹرسٹی بیلا رضا جمیل نے اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ" یہ دیکھ کر بہت حوصلہ افزائی ہوئی کہ تربت اور دوسرے علاقوں کے بچے باشعور ہیں اور بہتر تعلیمی سہولتوں تک رسائی چاہتے ہیں۔ تربت میں کامیاب فیسٹول کا انعقاد، خواب کو تعبیر مل جانے کے مترادف ہے" ۔سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال نے کہا کہ بلوچستان روایات کا مرکز ہے۔" میری قلعہ، مہر گڑھ اور نانی مندر ہزاروں سالوں سے ہمارے حقیقی ورثے اور بلوچ تہذیبوں کے رسم و رواج کی عکاسی کر رہے ہیں" ۔انھوں نے کہا کہ ان تاریخی روایات کو آگے بڑھانا اور بچوں میں شعور بیدار کرنا ضروری ہے۔گزشتہ چلڈرن ایونٹ2011 میں ہوا تھا اور ہم اس قسم کے مزید فیسٹولز کے لیے مل جل کر کام کریں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں امن اور برداشت کو فروغ دینے کے لیے پڑھنے کی عادت کو فروغ دینا اور نصاب میں تبدیلی کرنا ہو گی۔فیسٹول کے دوران بی آر سی کے مختلف ہالز میں بچوں کے شعور میں اضافہ کے لیے متعدد سیشنز کا اہتمام کیا گیا۔ان سیشن ہالز کو میری قلعہ، حاجی جلال خان رند، مہر گڑھ، گل خان نصیر، پرنسس آف ہوپ، عطا شاد، سید ظہور شاہ ہاشمی ، شاہ تمپ، ملا فضل، میر چاکر خان اور گدان جیسی مقامی روایات سے منسوب کیا گیا تھا۔سیشن" آج کے ریڈر کل کے لیڈر" میں رمانہ حسین، زبیدہ جلال اور راحیلہ بقائی نے پر جوش طلبہ کو مطالعہ کی اہمیت سے آگاہ کیا اور بتایا کہ مطالعہ کس طرح نہ صرف ان کی سوچ کو وسیع کرتا ہے بلکہ دل و دماغ کو بھی کھولتا ہے۔آن لائن ای بکس کی دستیابی سے کتابوں تک رسائی آسان ہو گئی ہے۔اس سیشن کے ماڈریٹر خورشید حیدر تھے۔ممتاز صحافی اور مصنفہ زبیدہ مصطفیٰ نے بھی ایک سیشن میں اظہار خیال کیا جس کا عنوان تھا "سنو، دیکھو اور بولو" ۔یہ سیشن خاصا فعال رہا کیونکہ بچوں نے مصنفہ سے کئی سوال پوچھے۔آکسفرڈ یونیورسٹی پریس(OUP) کی راحیلہ بقائی نے شرکا کو بتایا کہ صرف کتاب لکھ کر شائع کر دینے سے آگے بھی بہت کچھ ہے انھوں نے کہا کہ کتاب سازی کو بھی ایک فن سمجھا جا سکتا ہے اور انھوں نے ان مختلف مراحل کی تفصیل بتائی جو کتاب کی تیاری میں پیش آتے ہیں۔فیسٹول کا اہم پہلو عاطف بدر تھے جنھوں نے بچوں کو تھیٹر پراڈکشن کے مختلف مراحل کے بارے میں بتایا۔بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کی طرف سے مدارس میں باضابطہ تعلیم کے بارے میں ایک خصوصی سیشن کا انتظام کیا گیا۔اس میں زبیدہ جلال، اورنادر گل بڑیچ(سی ای او ،بی آر ایس پی) نے حصہ لیا۔اس سیشن میں باضابطہ تعلیم کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا تاکہ انتہا پسند بیانیہ کا مقابلہ کیا جا سکے۔سی ایل ایف تربت کا ایک اور دلچسپ پہلوبے مثال 3D امیجز اور سینڈ آرٹ تھا، جس میں امیجز اصلی لگتے تھے۔بی آر سی کے گراؤنڈ میں زبیر مختار، بہار علی گوہر اور حسین زیب کی تخلیقات کی نمائش کی گئی، ان تینوں کا تعلق پسنی سے ہے۔جوش و خروش سے سرشار طلبہ نے تصاویر کی نمائش بلوچ موسیقی کے روائتی آلات کی تیاری اور مقامی کشیدہ کاری کے اسٹالز میں بہت دلچسپی لی۔اختتامی تقریب کی مہمان خصوصی ،چیف آف آرمی اسٹاف کی اہلیہ بیگم قمر باجوہ تھیں،انھیں زبیدہ جلال اور بیلا رضا جمیل نے خوش آمدید کہا ۔ مہمان خصوصی نے تعلیم حاصل کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور مکران کی پٹی پر ایسے شاندار فیسٹول کا انتظام کرنے پر آرگنائزرز کی تعریف کی ۔ انھوں نے مختلف اسٹالز کا دورہ کیا اور جیتنے والے طلبہ میں انعامات تقسیم کئے۔