نواز شریف کی کمزور خارجہ پالیسی کے نقصانات سامنے آنے لگے ہیں، عبدالعلیم

لاہور( نمائندہ خصوصی)تحریک انصاف سنٹرل پنجاب کے صدرعبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ نواز شریف کی کمزور خارجہ پالیسی کے نقصانات سامنے آنے لگے ہیں، سابق وزیر اعظم نے وزارت خارجہ اپنے قبضے میں رکھتے ہوئے کسی محاذ پر ملکی مفاد کی جنگ نہیں لڑی،کوئی واضح پالیسی اختیار کرتے تو آج امریکہ کو دھمکیوں کی جرات نہ ہوتی عبدالعلیم خان نے چئیرمین سیکرٹریٹ میں پارٹی رہنماؤں و اراکین اسمبلی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے حکومت کو وراثت سمجھتے ہوئے وفاق اور پنجاب کی اہم ترین وزارتوں کے قلمدان اپنے خاندان کے پاس ہی رکھے لیکن توجہ کرپشن کے ذریعے دولت کے انبار لگانے اور اداروں کو ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کرنے پر مرکوز رہی، انہوں نے کہا کہ کرپٹ وزیر اعظم کے دورمیں پاکستان خارجہ امور میں انتہائی کمزور ہوا،اب کٹھ پتلی حکومت اور برائے نام وزیر اعظم کے تحت کسی ٹھوس پالیسی کی توقع نہیں کی جاسکتی،انہوں نے کہا کہ ملک میں بجلی کا نظام تباہ کرنے والے خواجہ آصف وزارت خارجہ میں کیا گل کھلاسکتے ہیں؟ عبدالعلیم خان نے کہا کہ سب جانتے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بے بنیاد مطالبات کا بھی جواب چین نے دیا،پاکستان میں نواز شریف کی قائم کردہ ’’ڈمی‘‘ حکومت سوچتی رہ گئی۔عبدالعلیم خان نے کہا کہ جس حکومت کا قائم مقام وزیر اعظم فیصلوں کیلئے نااہل ہونے والے نواز شریف کا محتاج ہے،کئی وزراء اور ارکان اسمبلیوں اور دفاتر کے بجائے ایک خاندان کی جی حضوری میں مصروف ہیں،باقی نواز لیگ میں دھڑے بندی کیلئے سرگرم ہیں،اس کی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں پر کیا توجہ ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کا بیان قومی غیرت کی غمازی اور عوامی سوچ کی ترجمانی کرتا ہے،ملکی دولت لوٹ کر غیر ملکی بینکوں میں بھرنے والوں کو پاکستان کی ساکھ سے زیادہ اپنے اولاد کے اثاثے بچانے کی فکر ہے،امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کیسے کرینگے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت اقتدار میں آکر ٹھوس خارجہ پالیسی متعارف کروائے گی،کرپشن فری ملک اپنے پیروں پرکھڑا ہوگا تو کسی کو دھمکیاں دینے کی جرات نہیں ہوگی عبدالعلیم خان سے چئیرمین سیکرٹریٹ میں صوبائی سیکرٹری اطلاعات سید صمصام بخاری ، ایم پی اے شعیب صدیقی ،سابق ایم پی اے آجاسم شریف اور پارٹی رہنماؤں جمشید امام بٹ ،یامین ٹیپوسے ملاقاتیں کیں اور لاہور کے حلقہ این اے120کے ضمنی الیکشن کے حوالے سے مختلف امور پر مشاورت کی ۔