ملزمان کے حقِ آزادی کے لئے اعلیٰ عدلیہ کا فیصلہ

پاکستان سپریم کورٹ کے جسٹس دوست محمد خان نے قرار دیا ہے کہ اگر الزام کے مطابق جرم دکھائی نہ دے رہا ہو تو ملزم کو زیر حراست نہیں رکھا جاسکتا۔ فاضل جج نے مقدمۂ قتل کی سماعت کرتے ہوئے عینی شاہد کی عدم موجودگی اور وجۂ عناد پیش نہ کئے جانے پر ملزم کی ضمانت منظور کرلی۔ جسٹس دوست محمد خان نے لاء پوائنٹ واضح کرتے ہوئے پولیس تفتیش اور پھر ماتحت عدلیہ میں ملزموں کے حق ضمانت سے روایتی انداز میں گریز کی غلط روایت کی نشاندہی کی ہے۔ عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ وقوعہ اور شہادتوں کے حوالے سے پولیس تفتیش میں ملزموں سے تقریباً مجرموں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ قتل کے مقدمات ہوں یا لڑائی جھگڑے کی ایف آئی آر مخالف پارٹی کو بے بس کرنے اور پیروی سے روکنے کے لئے بے گناہ افراد کو بھی ملزم قرار دے کر پولیس کے ہتھے چڑھا دیا جاتا ہے اور وہ بلاوجہ جیل میں سڑتے رہتے ہیں۔ جسٹس دوست محمد خان نے ملزم کی ضمانت کو منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ محض الزام عائد ہونے پر کسی کے حق آزادی کو سلب نہیں کیا جاسکتا۔ تفتیشی افسر کے لئے الزام کو ثبوت کے ذریعے جرم سے جوڑنا لازم ہے۔

ہمارے ہاں پولیس تفتیش عموماً جانبدار (رشوت یا سفارش کی وجہ سے) اور ناقص ہوتی ہے۔ عدالتوں میں مقررہ وقت پر چالان مکمل پیش نہیں کئے جاتے۔ جج صاحبان کی طرف سے آئے روز تفتیشی افسروں کی سرزنش بھی کی جاتی رہتی ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پولیس کے اعلیٰ حکام اس بنیادی کمزوری اور خامی پر توجہ نہ دیتے ہوئے ناقص تفتیش اور تاخیر سے چالان پیش کرنے پر کوئی ایکشن نہیں لیتے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس دوست محمد خان نے عینی شاہد نہ ہونے اور ملزم پر الزام کے حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت شامل نہ کرنے پر ضمانت منظور کرلی۔ ملزم کے گھر سے مقتول کی لاش برآمد ہوئی مگر کوئی ثبوت وقوعہ کے حوالے سے ایسا نہ تھا کہ ملزم نے ہی قتل کیا تھا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ درست پولیس تفتیش اور بروقت چالان پیش کرنے کو یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ تفتیشی نظام کو تربیت کے حوالے سے بہتر بنایا جائے۔ غلط اور ناقص تفتیش کے ذمے داران کے خلاف سخت کارروائی کی روایت کا آغاز ہونا چاہئے۔