رلیمانی کمیٹیوں کو نیپ کی صوبائی سطح پر موثر نگرانی کرنیکی ضرورت ہے: پلڈ اٹ

لاہور(پ ر) 20نکاتی قومی ایکشن پلان پر پلڈاٹ کے زیرا ہتمام پنجاب کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے حوالے سے ورکشاپ کا اجلاس گزشتہ روزلاہور میں منعقد ہوا۔ ورکشاپ کا مقصد پارلیمنٹرینز کو قومی ایکشن پلان کے اہم نکات سے آگاہ کرنا تھا۔ اس کے علاوہ شراکت داروں کیسا تھ نیپ کے پنجاب میں عملدرآمد کی موجودہ صورتحال سے متعلق معلومات کاتبادلہ تھا۔ اس موقع پر پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئر مین مخدوم سید مسعود عالم کا کہنا تھا کمیٹیوں کی کوششوں کے نتیجے میں دہشتگردی کیخلاف قانون ساز ی کی گئی ، کمیٹی کے پاس ایسے کوئی اختیارات نہیں ہیں کہ از خوداجلاس طلب کریں اور حکومتی ادروں کو قابل احتساب بنائیں جس کے باعث نیپ کی نگرانی کے عمل پر سمجھوتہ ہوتا نظر آتا ہے ۔ مسلم لیگ ن کے اسمبلی میں پارلیمنٹری سیکرٹری داخلہ رانا محمد افضال کا کہنا تھا پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بڑی قیمت ادا کی ہے لیکن اسکی قربانیوں کو تسلیم نہیں کیا گیا، انہوں نے عام شہریوں کے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں کر دار کو تسلیم کرنے پر زور د یتے ہوئے داخلہ کمیٹی کے کر دار کو بھی سراہا۔اس موقع پررکن صوبائی اسمبلی چوہدری لعل حسین کاکہناتھا پارلیمنٹرینزبیشتر اراکین اسمبلی قانون سازی اور نگرانی میں زیا دہ کردار ادا کرتے نظر نہیں آتے کیونکہ انہیں اپنے حلقوں کے روزانہ کے مسائل کا سامنا ہے،تاہم یہ مسئلہ بلدیاتی اداروں کو مضبوط بناکر نمٹا یاجاسکتا ہے ۔جبکہ سینئرسیکرٹری پنجاب اسمبلی رائے ممتاز حسین بابر کا کہنا تھا کمیٹیوں کے پاس اجلاس طلب کرنے کے حوالے سے اختیارات نہ ہونے کے باوجود بہت سے مثبت اقدامات اٹھائے گئے جس کے باعث موثرنگرانی ہوسکی ہے ۔اس موقع پر تسنیم نورانی کاکہنا تھا پنجاب میں قومی ایکشن پلان پر عملدآمد کی صورتحال قدرے بہتر ہے ۔ قومی سطح پر انسداد دہشتگردی کے خصوصی ادارہ نیکٹاکو بھر انداد میں فعال نہیں کیا گیابلکہ بے شمار مسائل پیدا کئے گئے۔اس موقع پر مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا پارلیمانی کمیٹیاں ہی نگرانی کی ذمہ دار ہوتی ہیں، میڈیا کوریج اس نوعیت کی کمیٹیوں کی کارکردگی پرمثبت اثرات مرتب اور عوامی نمائندوں کے اعتماد میں اضافہ کرسکتی ہے ۔ پلڈاٹ کے صدر احمد بلا ل محبوب کا کہناتھا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اعداد وشمار پر مبنی سلسلہ وار کارکردگی رپورٹس جاری کر نی چاہیے جبکہ پارلیمانی کمیٹیوں کو بھی اپنا کر دار اادا کرناچاہیے ۔ پاکستان میں دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے اتحاد سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے 20نکا ت پر مشتمل قومی ایکشن پلان ملک میں دہشتگردی کا روڈ میپ فراہم کرتا ہے ۔