اعلیٰ عدلیہ پر مقدمات کا بوجھ کم ہونا چاہئے

سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ٹرائل کورٹس قانون کے مطابق فیصلہ کریں تو اعلیٰ عدلیہ پر مقدمات کا بوجھ نہ پڑے۔ فاضل جسٹس نے پولیس کے مؤقف کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کی طرف سے اپنے گناہ چھپانے کے لئے عموماً کہانیاں گھڑی جاتی ہیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پولیس کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے دو ملزموں کو بری کر دیا، یہ ملزمان پچھلے پانچ سال سے جیل میں تھے۔ فاضل جج نے دو ملزموں کو بری کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں ایک طرف پولیس کی طرف سے جھوٹی کہانیوں کی بنیاد پر مقدمات درج کرنے کا ذکر کیا ہے اور دوسری جانب اس حقیقت پر بھی روشنی ڈالی ہے کہ ٹرائل کورٹس قانون سے مطابق فیصلے کریں تو اعلیٰ عدلیہ سے انصاف کے حصول کے لئے اپیلوں کی بھرمار نہ ہو۔ عموماً وجہ یہی ہوتی ہے کہ متاثرہ فریق محسوس کرتا ہے کہ اسے انصاف نہیں مل سکا چنانچہ اعلیٰ عدالت (ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ) کا دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے۔ یوں اعلیٰ عدلیہ پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔جن دو ملزموں کو فاضل جج نے بری کرنے کا حکم دیا ہے، اُن کے بارے میں پولیس کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ پولیس اہلکار تو ہاتھ اٹھانے والوں سے خود ہی حساب برابر کرلیتے ہیں ۔ یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ پولیس اہلکار مسلح ہوں اور پھر بھی دو افراد پولیس کے ایک اہلکار کو قتل اور تین اہلکاروں کو زخمی کرکے فرار بھی ہوگئے۔ جہاں تک ٹرائل کورٹس کے قانون پر پوری طرح عمل کرنے کی بات ہے تو پولیس اہلکاروں کے قتل اور زخمی ہونے کے مقدمے میں ٹرائل کورٹ نے جو سزا سنائی تھی، اُسے ناکافی سمجھتے ہوئے پہلے ہائیکورٹ میں اپیل کی گئی، جسے مسترد کردیا گیا تو سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے اور پولیس ڈیپارٹمنٹ کی اپیل میں اختیار کئے گئے مؤقف سے اتفاق نہ کیا اور دونوں ملزموں کاشف اور جمشید کو بری کرنے کا حکم دیا، جو گزشتہ پانچ سال سے جیل میں تھے۔ اگر ٹرائل کورٹس میں مقدمات کا جائزہ لیا جائے تو وہاں مقدمات کی بھرمار ہوتی ہے۔ یہ شکایت عام ہے کہ پولیس اکثر نامکمل چالان پیش کرتی ہے۔ گواہوں کو بروقت پیش نہیں کیا جاتا عدالت بار بار سمن جاری کرتی ہے۔ پولیس میں رشوت اور سفارش کے مسائل موجود ہیں۔ وکلا کی بحث ملتوی ہوتی رہتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ماتحت عدلیہ میں ججوں کی کمی کا مسئلہ درپیش رہتا ہے جبکہ چند برسوں سے ججوں اور وکلا کے درمیان تنازعات بڑھ گئے ہیں۔ ججوں کو یہ شکایت رہتی ہے کہ بعض وکلا اپنی مرضی کا فیصلہ حاصل کرنے کے لئے دباؤ ڈالتے ہیں۔ اس ماحول میں قانون کے مطابق اور صحیح فیصلے کس حد تک ہوسکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ماتحت عدلیہ اور پولیس کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اعلیٰ عدلیہ پر بوجھ نہ پڑے۔ اس کے لئے مرحلہ وار عملی اقدامات ہونے چاہئیں۔