انڈونیشی صدر کا بصیرت افروز خطاب

انڈونیشیا کے صدر جوکو دیدودو نے کہا ہے کہ مسلمان مُلک دہشت گردی اور تصادم سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، دہشت گردی کے 70فیصد واقعات اسلامی مُلکوں میں ہوئے، 60فیصد سے زیادہ جنگیں اور تصادم مُسلمان ملکوں میں ہو رہے ہیں، دنیا کے 67 فیصد مہاجرین مسلمان ہیں جو اپنے ملکوں سے دہشت گردی اور تصادم کے باعث ہجرت کرنے پر مجبور ہیں، عالمی امن کے لئے ہر کِسی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، پاکستان کی طرح انڈونیشیا بھی امن کے لئے کوشاں ہے۔ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دوستی نئی نہیں، دونوں ملکوں کے درمیان کئی مشترکہ اقدار ہیں، ہم نے پاکستان کی آزادی کی تحریک کی حمایت کی تھی اور بان�ئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے 1945ء میں انڈونیشیا کی آزادی کی بھرپور حمایت کی تھی۔ پاکستان اور انڈونیشیا کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے، دونوں ڈی 8 گروپ اور او آئی سی کے رُکن ہیں، دونوں فلسطینیوں کی آزادی کی مسلسل حمایت کر رہے ہیں، انڈونیشیا میں تمام اقلیتیں پُرامن طور پر رہ رہی ہیں، ہمیں اپنے اندر برداشت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انڈونیشیا کے صدر نے کہا کہ میرا یقین ہے کہ جمہوریت ہمارے مفادات کے تحفظ کا بہترین ذریعہ ہے، صرف جمہوریت کے ذریعے استحکام اور امن برقرار رکھا جا سکتا ہے، جمہوریت کے ذریعے ہی معاشی ترقی ممکن ہے، ہماری سالانہ ترقی کی شرح 5فیصد سے زیادہ ہے، انڈونیشیا کی معیشت دُنیا کی بیسویں بڑی معیشت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جنگیں کِسی کے مفاد میں نہیں، جنگیں اور تصادم انسانیت کی اعلیٰ اقدار کو ختم کر دیتے ہیں۔ وہ اپنے دورہ پاکستان کے دوران پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

انڈونیشیا اس وقت مُسلمان دُنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، مختلف ادوار میں یہ مُلک جمہوری اور غیر جمہوری تجربات سے گُزرا ہے، جمہوریت کے نام پر آمریت بھی یہاں قائم رہی لیکن اب وہاں جمہوری سفر ہموار طریقے سے جاری ہے۔ صدر دیدودو نے مسلمان دُنیا کا جو نقشہ اپنی تقریر میں کھینچا ہے، اس سے مسلمان مُلکوں کی زبوں حالی کی ایک تصویر سامنے آتی ہے۔ دو تہائی سے زیادہ دہشت گردی مسلمان مُلکوں میں ہوتی رہی ہے اور بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ مُسلم دنیا میں اس دہشت گردی میں ایسے گروہ ملوث ہیں جو اپنے ناقص فہم اسلام کی وجہ سے اسلامی تعلیمات کی من مانی تعبیرات کرتے ہیں اور اس فِکر کے باعث پُرامن لوگوں کو خون میں نہلاتے ہیں، عراق اور شام اسی وجہ سے تباہ و برباد ہوئے جہاں لاکھوں لوگ جان کی بازی ہار گئے، عظیم الشان تاریخی عمارتیں کھنڈر بن گئیں۔ یہاں تک کہ مقدس مقامات، مساجد اور بزرگ ہستیوں کے مزارات کو بھی نقصان پہنچا جس کی وجہ سے معیشت برباد ہو کر رہ گئی۔ لاکھوں لوگ خانہ جنگی کی وجہ سے عمر بھر کے لئے معذور ہو گئے اور زندگی اُن پر بوجھ بن گئی، ایسے لوگ اب مسائل جھیلنے کے لئے زندہ ہیں اور اُن کی دیکھ بھال کے لئے جس قِسم کے وسائل درکار ہیں، وہ دستیاب نہیں ہیں، ان کے لئے ہسپتال ہیں، نہ دوائیں، خوراک کی بھی قلت ہے، ایسے ہی حالات میں لاکھوں لوگ سفر کی ناقابل برداشت صعوبتیں برداشت کرکے دوسرے مُلکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے، بڑی تعداد میں راستے میں ہی موت کی وادی میں چلے گئے جو کِسی نہ کِسی طرح کِسی مُلک میں پناہ لینے پر کامیاب ہوئے، اُن کی زندگی بھی جہنم زار بنی ہوئی ہے۔ یہ سارے مصائب جھیلنے والے مُسلمان ہیں اور مُسلمانوں ہی کے پیدا کردہ حالات کے باعث انہیں یہ دن دیکھنا پڑے۔

عراق و شام کے بعد یمن ایک ایسا مُلک ہے جو مُسلمانوں کے اپنے ہی اعمال کے نتیجے میں تباہی سے دوچار ہوا، باغیوں نے ایک ہنستے بستے مُلک پر تباہی نازل کی اور اب لاکھوں لوگ بھوک اور بیماری کے عذاب سے دوچار ہیں۔ باغیوں نے سعودی عرب میں مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات کو بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا، یمن سے سعودی عرب پر آئے روز میزائل داغے جاتے ہیں جنہیں کامیابی کے ساتھ مار گرایا جاتا ہے۔ تصور کیا جا سکتا ہے کہ اگر یہ میزائل نشانوں پر لگتے تو کتنے وسیع پیمانے پر تباہی و بربادی پھیلتی، اِن باغیوں کی سرپرستی بھی بدقِسمتی سے مُسلمان ممالک ہی کر رہے ہیں اور بیرونی دنیا اُن کی بے بسی کا تماشا دیکھ رہی ہے۔

صدر انڈونیشیا نے دہشت گردی کے بارے میں جو ہولناک اعداد و شمار پارلیمینٹ کے اجلاس سے خطاب کے دوران پیش کئے ہیں وہ مُسلمان مُلکوں کی قیادتوں اور عوام کی توجہ کے طالب ہیں، انہیں یہ سوچنا چاہئے کہ آخر تباہی و بربادی مسلمانوں ہی کا مقدر کیوں ہے؟ اُنہوں نے بڑی بصیرت افروز بات یہ کہی ہے کہ جنگیں اور تصادم انسانی اقدار کو تباہ کر دیتی ہیں، اُن کے اس خیال کو سامنے رکھتے ہوئے مُلکوں کو باہمی تصادم سے گریز کرنا چاہئے لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ دنیا کے بُہت سے خطوں میں مُسلمان مُلک ہی باہمی آویزشوں میں مُبتلا ہیں جن کا نزلہ بھی مسلمانوں پر ہی گر رہا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی جو وارداتیں ہوتی ہیں، اس کے لئے تربیت یافتہ دہشت گرد افغانستان سے آتے ہیں اور اُنہوں نے جن کیمپوں میں تربیت پائی ہوتی ہے وہ بھی مُسلمانوں کے زیر نگرانی چل رہے ہوتے ہیں۔ پاک افغان سرحد پر جو واقعات ہو جاتے ہیں، اُن میں بھی نقصان مُسلمانوں کا ہی ہوتا ہے، خود افغانستان کے اندر دہشت گردی کے جو ہولناک واقعات ہو رہے ہیں، اُن میں بھی مُسلمانوں کا خون بہتا ہے۔ خون بہانے والے بھی مسلمان کہلاتے ہیں، ہمارا کشت و خون اسلام کے نام کو بدنام کر رہا ہے۔ اس تمام تر خونریزی کا سارا ملبہ غیر مسلم قوتوں پر نہیں ڈالا جا سکتا، اگر مسلمان مُلکوں کی قیادتیں خداداد بصیرت سے کام لے کر غیر مُسلموں کے عزائم کو نہیں بھانپتیں اور اُن کے درپردہ منصوبوں کا ادراک نہیں کرتیں تو اس میں قصور کِس کا ہے اس پر بھی مل بیٹھ کر غور کرنا چاہئے۔

اللہ تعالیٰ نے مُسلمان ملکوں کو ہر قِسم کے وسائل سے نواز رکھا ہے۔ اگر ان کا استعمال فلاحِ انسانیت کے لئے کیا جائے تو مسلمان ممالک کے شب و روز بھی بدل سکتے ہیں اور وہ غیر مسلموں کی اعانت کے محتاج بھی نہیں رہیں گے۔ اگرچہ مسلمان ملکوں نے اپنی ایک تنظیم بھی بنا رکھی ہے لیکن یہ اتنی کمزور واقعہ ہوئی ہے کہ دو مُسلمان مُلکوں کے باہمی تنازعات کو ہی خوش اسلوبی سے نہیں سلجھا سکتی۔ مُسلمان ملکوں میں نہ صرف باہمی رقابت موجود ہے بلکہ یہ خدشہ بھی رہتا ہے کہ اُن کا آپس میں تصادم ہی نہ ہو جائے، سعودی عرب اور ایران مُسلم دنیا کے دو بڑے مُلک ہیں، اسلامی انقلاب کے بعد ایران پر عراق نے حملہ کر دیا اور ساڑھے آٹھ سال تک یہ بلامقصد جنگ لڑی جاتی رہی، دنیا بھر کے مسلمان سربراہوں نے جنگ بندی کی کوششیں کر دیکھیں مگر کامیابی نہ ہوئی، پھر خود ہی دونوں ملک تھک ہار گئے، بعد میں عراق پر امریکہ نے دو جنگیں مسلط کر دیں اور مُلک کھنڈرات کا ڈھیر بن گیا، ایران کی قیادت نے اگرچہ مُلک کو سنبھال لیا اور عراق کے بعد کِسی دوسرے ملک کو اس پر جارحیت مسلط کرنے کا حوصلہ نہ ہوا تاہم امریکہ اور اسرائیل اسے دھمکیاں دیتے رہتے ہیں، سعودی عرب کو بھی سالمیت کے مسائل درپیش ہیں اور اس کی بنیادی وجہ یمن کا بحران ہے جس کے باعث سعودی عرب کو اپنے سارے وسائل اسلحے اور گولہ بارود کی خریداری پر صرف کرنے پڑتے ہیں، دہشت گردی کے خلاف اسلامی ملکوں کی مُشترکہ فورس بھی بنانا پڑی۔ یہی وسائل اگر مسلمان ملکوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی پر خرچ ہوتے تو مسلمان مُلکوں سے غربت اور بے چارگی ختم کرنے میں مدد ملتی، اس پس منظر میں صدر انڈونیشیا کے خطاب کی روشنی میں مسلمان ممالک کی قیادت کو اپنی دانش کو کام میں لا کر نئی راہیں متعّین کرنی چاہئیں۔