سعودی عرب اور ایران کی کشیدگی بڑھتی رہے گی؟

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ عالمی برادری نے مداخلت نہ کی تو ایران سے جنگ چھڑ سکتی ہے،عالمی طاقتیں خطے میں نئی جنگ روکنے کے لئے ایران پر دباؤ ڈالیں۔ اگر ایران کو محدود رکھنے کی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو آئندہ دس پندرہ سال میں اس کے ساتھ جنگ چھڑ جانے کا امکان ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کی شام میں موجودگی ہی کے ذریعے ایران کو خطے میں اپنا اثرو رسوخ پھیلانے سے روکا جا سکتا ہے۔ شام میں اگر طویل مدت کے لئے نہیں تو درمیانی مدت کے لئے فوج ضرور رکھی جانی چاہئے۔ ایران کو محدود رکھنے کے لئے اس پر پابندیاں عائد کرنا ضروری ہے،اخوان المسلمون دہشت گردوں کی پرورش کرنے والی جماعت ہے، ہمیں دہشت گردوں اور انتہا پسندی سے نجات حاصل کرنی ہے۔اُن کا کہنا تھا اگر ہم یمن میں آپریشن نہ کرتے تو خطے کے لئے بہت بڑا مسئلہ پیدا ہوتا۔ 2015ء میں جنگی مداخلت کا فیصلہ نہ کیا جاتا تو آج یمن دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا، آدھے حصے پر حوثی باغیوں کا قبضہ ہوتا اور دوسرے آدھے حصے پر القاعدہ قابض ہو جاتی۔انہوں نے اِن خیالات کا اظہار اپنے دورۂ امریکہ کے دوران جریدے’’ ٹائم‘‘ کے ساتھ انٹرویو میں کیا۔

ولی عہد شہزادہ محمد جب سے اِس عہدے پر متعین ہوئے ہیں اور اُنہیں یقین ہو گیا ہے کہ سعودی مملکت کے اگلے فرمانروا وہی ہوں گے اُس وقت سے وہ بعض دور رس تبدیلیاں متعارف کرا رہے ہیں ،جن کا اب تک سعودی عرب میں کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا تھا، خصوصی طور پر عورتوں کے متعلق بعض سخت قوانین نرم کئے جا رہے ہیں، عورتوں کو ڈرائیونگ کی اجازت دے دی گئی ہے اور خواتین کی کھیلوں کی بھی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے،انٹرٹینمنٹ پروگراموں کو وسعت دی جا رہی ہے، سینما گھر تعمیر کئے جا رہے ہیں اور بہت سے ایسے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں،جو اب تک سعودی عرب میں شجر ممنوعہ سمجھے جاتے تھے، اُن کے بعض اقدامات پر نکتہ چینی بھی ہو رہی ہے۔ گزشتہ دِنوں بعض دولت مند شہزادوں کو زیر حراست رکھ کر اُن سے بڑی بڑی رقوم وصول کی گئیں، جو اِن شہزادوں نے بیرون مُلک رکھی ہوئی تھیں۔سعودی شاہی خاندان اب بہت زیادہ پھیل چکا ہے، اب تک شاہ عبدالعزیز کے فرزند ہی فرمانروائی کرتے آ رہے تھے۔ شہزادہ محمد بن سلمان کے تخت سنبھالتے کی صورت میں ایک نیا دور شروع ہو جائے گا کہ شاہ عبدالعزیز کا پہلا پوتا مملکت کا انتظام سنبھالے گا،لیکن شاہی خاندان میں اختلافات کی خبریں بھی عام ہیں، حالیہ گرفتاریاں اسی کا شاخسانہ تھیں۔

شہزادہ محمد بن سلمان کے اقدامات میں آنے والے دور کی تصویر دیکھی جا رہی ہے اور سعودی امور پر گہری نگاہ رکھنے والے عالمی امور کے مبصرین کا خیال ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات جو اِس وقت بھی کشیدہ ہیں ان کے دور میں مزید خراب ہو سکتے ہیں اور عین ممکن ہے جنگ کی نوبت بھی آ جائے، خود شہزادہ محمد بن سلمان کے اپنے خیال میں ’’اگر دُنیا نے مداخلت نہ کی تو اگلے دس پندرہ برسوں میں دونوں ممالک میں جنگ چھڑ جانے کا امکان ہے‘‘۔ اِس سوچ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بہتری کے کوئی آثار نہیں، دونوں ممالک میں اِس وقت سفارتی تعلقات بھی نہیں ہیں اور ان کی بحالی کی تمام تر کوششیں اب تک ناکام چلی آ رہی ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ کے دورۂ سعودی عرب کے دوران دونوں ملکوں میں بڑے پیمانے پر دفاعی سازو سامان کی خرید و فروخت کے سودے ہوئے تھے اب تعاون کا سلسلہ مزید دراز ہو رہا ہے اور سعودی عرب ایران پر پابندیوں کا بھی مطالبہ کر رہا ہے،اِس معاملے میں وہ صدر ٹرمپ کے ایران مخالف فیصلوں کا حامی نظر آتا ہے جو ایران کے ساتھ نیو کلیئر ڈیل پر نظرثانی چاہتے ہیں اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں وہ معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔امریکہ کا خیال ہے کہ نیو کلیئر معاہدے سے ایران کو فائدہ ہوا ہے اور وہ اپنے میزائل پروگرام کو جاری رکھے ہوئے ہے اِسی پس منظر میں سعودی عرب کا خیال ہے کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار بنائے تو سعودی عرب بھی پیچھے نہیں رہے گا،اگر اس کی نوبت آتی ہے تو یہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لئے بدقسمتی کی بات ہو گی، ایران کا اب تک کا سرکاری موقف تو یہی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہ صرف بنانا نہیں چاہتا، بلکہ اس کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا فتویٰ بھی موجود ہے کہ جوہری ہتھیار بنانا حرام ہے۔ اسی بنیاد پر ایران اپنے لئے پُرامن جوہری پروگرام جاری رکھنے کے حق کا طلب گار ہے تاہم اگر ایران اور سعودی عرب میں جاری کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے اور حالات جنگ کی طرف جاتے ہیں تو اِسے مسلم اُمہ کی بدقسمتی سے ہی تعبیر کیا جائے گا۔

اب اگر شہزادہ محمد عالمی طاقتوں کی ’’مداخلت‘‘ کی بات کرتے ہیں تو غالباً اُن کا خیال ہے کہ اگر امریکی فوج شام میں آ جائے گی تو اِس سے حالات کی بہتری میں مدد ملے گی،لیکن کیا انہوں نے اِس سے پہلے اِن خطوں کی تاریخ کا مطالعہ نہیں کیا جہاں امریکی فوج جا چکی اور جنگیں بھی لڑ چکی، تازہ ترین تو عراق ہے، جو امریکی بمباریوں اور امریکی فوج کی آمد سے کھنڈروں میں تبدیل ہو چکا ہے، امریکی فوج اِس خطے کی تاریخ کو فراموش کر کے یہاں آ تو گئی تھی اور صدام حسین کو اقتدار سے محروم بھی کر دیا تھا،لیکن جن لوگوں کو اُن کی جگہ برسر اقتدار لایا گیا وہ مُلک میں کوئی استحکام نہیں لا سکے، بلکہ اس کی تباہی و بربادی میں اضافہ ہی ہوا۔امریکہ سالہا سال سے بشار الاسد کو ہٹانے کے لئے کوشاں ہے اُسے اِس میں تو کامیابی نہیں ہوئی۔البتہ اس کوشش میںیہ مُلک بھی عراق ہی کی طرح کھنڈر بن گیا یہاں تک کہ داعش وجود میں آئی اور اس نے دونوں ممالک کے کچھ حصوں پر اپنا اقتدار بھی قائم کر لیا۔اب شہزادہ محمد کی اگر یہ خواہش ہے کہ امریکی فوج شام میں آجائے تو نہ جانے ان کے ذہن میں کیا ہے کہ یہ فوج کوئی کرشمہ کر کے علاقے میں امن قائم کر سکے گی یا ایرانی اثرو رسوخ کو محدود کر دے گی،حالانکہ ایسی امید لگانا محض خوش فہمی ہو سکتی ہے۔ایران پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ بھی اپنی جگہ بڑا عجیب ہے،ایران سالہا سال سے پابندیوں کا مقابلہ کر رہا ہے اس کے باوجود ایرانی حکومت امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں ہوئی، نہ ہی اس نے اسرائیل کے متعلق اپنی پالیسی تبدیل کی ہے،اب سعودی عرب کے اِس مطالبے کے نتیجے میں اگرایران پر مزید پابندیاں لگا دی جاتی ہیں تو ان سے کسی مثبت تبدیلی کی خواہش اور امید رکھنا سیاسی ناپختگی کی دلیل ہے۔

شہزادہ محمد نے اخوان المسلمون کو بھی کھلے الفاظ میں دہشت گرد قرار دے دیا ہے، اِس سے پہلے سعودی عرب اخوان کو کچلنے کے لئے مصری صدر السیسی کی مدد کرتا رہا ہے، اب وہ دوبارہ صدر منتخب ہو گئے ہیں اور شہزادہ محمد جیسے نوجوان رہنما اُن کے ساتھ ہیں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مسلمان اُمہ آنے والے عشروں میں کس طرح باہم دست و گریباں رہے گی،خطے میں بعض ممالک سعودی عرب کے ساتھ ہیں تو کئی دوسرے ایران کے حامی ہیں۔ یہ دو واضح کیمپ ہیں اِس طرح مسلمان مُلک باہم تقسیم رہیں گے اور اُن کے اتحاد کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو گا، او آئی سی بدستور خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہے گی۔ اِن حالات میں مسلمانوں کے حالات بدلنے کی امیدیں خاک میں ملی رہیں گی اور مسلمانوں کی سیاہ بختی میں اضافہ ہی ہو گا اور اگر سعودی عرب اور ایران میں جنگ شروع ہو جاتی ہے تو تباہی و بربادی کے حجم کا اندازہ لگانا مشکل نہیں، ایسے میں کیا کوئی مُلک آگے بڑھ کر ہونی کو ہونے سے روک سکتا ہے؟