ترکی میں صدر اردوان اور ان کی جماعت کی کامیابی

ترکی کے صدارتی انتخابات میں رجب طیب اردوان ایک مرتبہ پھر صدر منتخب ہو گئے ہیں۔98فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد انہوں نے 53فیصد ووٹ حاصل کئے تھے ان کے مد مقابل امیدوار اینجو محرم نے جو اپوزیشن جماعتوں کے متفقہ امیدوار تھے 30فیصد ووٹ حاصل کئے، ترک پارلیمان کے 600رکنی ایوان میں حکمران جماعت اور اس کے اتحادیوں نے 350نشستیں حاصل کرکے واضح اکثریت برقرار رکھی ہے۔ ترک صدر نے اپنی کامیابی کا اعلان کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 90فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ دنیا کو جمہوریت کا سبق ہے۔ بیلٹ سیکیورٹی اور ووٹنگ کی آزادی ترک جمہوریت کی آزادی کا مظہر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترک عوام نے مجھے صدر کا مینڈیٹ دیا ہے۔اگرچہ صدر اردوان کی مدت ابھی باقی تھی لیکن انہوں نے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات قبل از وقت منعقد کراکے عوام سے تازہ مینڈیٹ حاصل کر لیا۔ ووٹروں کا ٹرن آؤٹ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ان کے حامیوں اور مخالفوں نے انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اپوزیشن جماعتیں بھی بہت متحرک رہیں اور ان کے متفقہ امیدوار نے 30فیصد ووٹ حاصل کرکے ایسے اندازے غلط ثابت کر دیئے جن میں کہا جا رہا تھا کہ وہ زیادہ ووٹ حاصل نہیں کر پائیں گے۔ دنیا بھر کے میڈیا میں صدر اردوان کی کامیابی کے امکانات تو ظاہر کئے جا رہے تھے لیکن تقریباً ہر جائزے میں یہ کہا جا رہا تھا کہ پارلیمنٹ میں ان کی جماعت کو اکثریت حاصل نہیں ہو پائے گی۔ غالباً انہی جائزوں سے متاثر ہو کر پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بھی یہی بات آگے بڑھائی جا رہی تھی کہ پارلیمنٹ میں اردوان کی جماعت کو اکثریت حاصل نہیں ہوگی لیکن اندازوں کے برعکس اے کے پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتیں واضح اکثریت سے جیت کر پارلیمنٹ میں آ گئی ہیں اور اگلے پانچ سال تک صدر اردوان کو بظاہر کوئی بڑا چیلنج درپیش نہیں ہوگا۔

صدر اردوان نے ترکی کے تاریخی شہر استنبول کے میئر کی حیثیت سے شہرت پائی اور اپنی اسی کامیابی کے بل بوتے پر آگے بڑھے اور 2002ء میں الیکشن جیت کر وزیراعظم بن گئے، تین بار وزیراعظم رہنے کے بعد انہوں نے نظامِ حکومت میں تبدیلی کرتے ہوئے صدر بننا پسند کیا اورریفرنڈم جیت کر صدر کے آئینی اختیارات میں اضافہ بھی کیا۔ وزیراعظم اور صدر کے طور پر انہوں نے جو کامیابیاں حاصل کیں اور ترکی کو جس انداز میں قوموں کی برادری میں سربلند کیا اس سے عالمی مدبر سیاست دان کے طور پر ان کا قد کاٹھ بہت بڑھ گیا۔ ترک عوام ان سے کس حد تک متاثر اور ان کے لئے محبت کے کتنے گہرے جذبات رکھتے ہیں اس کا اظہار ناکام فوجی بغاوت میں کھل کر ہوا اور ان کے غیر مسلح حامیوں نے اپنی قوتِ بازو سے فوج اور ایئر فورس کے ایک حصے کی بغاوت ناکام بنا دی۔صدر اردوان کا خیال تھا کہ اس بغاوت کے پیچھے ترک سکالر فتح اللہ گولن کا کردار ہے جو خود تو امریکہ میں مقیم ہیں لیکن سوشل ورک اور دوسری رفاہی سرگرمیوں کی بنیاد پر ان کی جماعت کے کارکنوں نے اپنا اثر و رسوخ دفاعی اداروں اور عدلیہ تک بڑھا لیا تھا بغاوت میں ان کا بڑا کردار تھا اسی بناء پر صدر اردوان نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ فتح اللہ گولن کو ان کے حوالے کیا جائے تاہم امریکہ اس ضمن میں لیت و لعل سے کام لیتا اور ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کرتا رہا جس کی وجہ سے دونوں ملکوں میں اختلافات کی خلیج وسیع ہو گئی، کئی یورپی ملک بھی اردوان کی پالیسیوں کے نکتہ چین بن گئے۔ اندرونِ ملک بھی فتح اللہ گولن کے حامیوں کی کمی نہ تھی۔ ناکام بغاوت کے بعد جب اردوان نے باغیوں پر مضبوط ہاتھ ڈالا اور فوج کے بڑے بڑے عہدیداروں کو سزائیں سنائیں یا انہیں برطرف کیا تو اس پر اندرون اور بیرون ملک نکتہ چینی بھی ہوئی، یونیورسٹیوں سے بڑی تعداد میں اساتذہ بھی برطرف کئے گئے یہاں تک بیرونِ ملک گولن تحریک کے زیراثر جو سکول کام کررہے تھے ان کے اساتذہ بھی زیر عتاب آ گئے ججوں کو بھی برطرف کیا گیا جو گولن تحریک کے زیر اثر بتائے جاتے تھے اور ان کے فیصلوں سے یہ بات جھلکتی تھی۔

بغاوت کی ناکامی کے بعد اردوان ترکی کے ایک نئے مردِ آہن کے طور پر سامنے آئے اپنی کامیابی کے بعد انہوں نے مخالفین پر سخت ہاتھ ڈالا وسیع پیمانے پر ہونے والی برطرفیوں اور گرفتاریوں پر اندرون اور بیرون ملک نکتہ چینی بھی ہوئی احتجاج بھی ہوئے کہیں کہیں ان احتجاجوں میں تشدد بھی درآیااور اردوان کو ڈکٹیٹر تک کہا جانے لگا۔ ان کی پالیسیوں میں آمرانہ جھلک بھی تلاش کی گئی ان کی اور ان کے خاندان کی کرپشن کی داستانیں بھی پھیلائی گئیں، ان میں کتنی صداقت تھی اور فسانے کا رنگ کہاں تک تھا اس بحث میں پڑے بغیر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پروپیگنڈے کے محاذ پر صدر اردوان پر الزامات کا ایک طوفان کھڑا کیا گیا انہوں نے جو صدارتی محل بنایا اس کے تذکرے بھی میڈیا میں کئے گئے اور کہا گیا کہ ترکی کے صدر کو ایسے عالیشان محل کی ضرورت نہیں تھی، ان مخالفتوں اور نکتہ چینی کے طوفانوں کے علی الرغم صدر اردوان اپنے پروگرام کے مطابق آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے محسوس کر لیا کہ اب بہترین موقع ہے کہ وہ عوام سے نیا مینڈیٹ حاصل کریں چنانچہ انہوں نے پورے اعتماد سے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کر دیا اور نتیجے سے معلوم ہو گیا کہ ان کا پُراعتماد لہجہ بلاوجہ نہیں تھا انہیں کامیابی کا یقین تھا۔ وہ نہ صرف خود کامیاب ہوئے بلکہ ان کی جماعت نے بھی پارلیمنٹ پر اپنی گرفت اور واضح برتری قائم رکھی۔ اب وہ جو بھی تبدیلیاں کرنا چاہیں گے ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ترکی میں انتخابات برسراقتدار حکومت ہی کراتی ہے۔ نگران حکومتوں کا کوئی روگ ترکی نے نہیں پالا ہوا، جب پہلی مرتبہ اے کے پارٹی انتخابات جیت کر برسراقتدار آئی تھی اس وقت اس کے مخالفوں کی حکومت تھی اور اسی حکومت کے ہوتے ہوئے اس نے کامیابی حاصل کی تھی، اب چونکہ ایک ہی جماعت سولہ سال سے مسلسل کامیابی حاصل کرتی آ رہی ہے تو مخالف جماعتیں اس پر آمرانہ طور طریقے اختیار کرنے کا الزام بھی لگاتی ہیں تاہم صدر اردوان کے حامیوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے اور وہ مختلف مواقع پر اپنی اس حیثیت کو سامنے بھی لاتے رہے اور ثابت بھی کرتے رہے ہیں۔ اب ایک بار پھر انہوں نے کامیابی حاصل کرکے اس بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ ابھی ان کے مد مقابل کوئی کرشماتی شخصیت نہیں آئی ویسے تو ہر کمال کو کبھی نہ کبھی زوال آ ہی جاتا ہے اور اردوان بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں لیکن اس وقت وہ اپنی مقبولیت کی معراج پر ہیں اور اپنے ملک کے منتخب نمائندے کے طور پر دنیا میں ترکی کا وقار بلند کر رہے ہیں، انہیں تازہ کامیابی مبارک، پاکستان کے ساتھ ترکی کے تعلقات برادرانہ اور مثالی ہیں جو ان کے اس نئے دور میں مزید مستحکم ہوں گے۔