تعلیم اور تبدیلی کے تقاضے

epaper

میرے ایک دوست کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے اور وہ ایک تعلیمی ادارے کا سربراہ ہے۔جانے والے گورنر جناب رفیق رجوانہ کا تعلق بھی چونکہ جنوبی پنجاب سے تھا۔

اس لئے میرے دوست سے ان کے تعلقات انتہائی خوشگوار تھے۔پنجاب کے وزیر ہائر ایجوکیشن کچھ ایکٹیو ازم کا شکار تھے اور ہر ادارے میں غیر ضروری مداخلت ان کا شغل تھا۔ ہائر ایجوکیشن کے افسران اور یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر ان سے بہت تنگ تھے۔

میرے دوست نے اس حوالے سے گورنر رجوانہ صاحب سے بات کی اور مشورہ دیا کہ بہتر ہے آپ گورنر ہاؤس میں فارغ بیٹھنے کی بجائے تعلیم کے محکمے میں کچھ کام کریں۔گورنر رجوانہ خوش ہوئے اور کہا،’’میں آئینی اختیارات تک محدود رہوں گا۔ تم اپنا مشورہ اپنے پاس رکھو، دونوں ہنسنے لگے اور بات ختم ہو گئی۔

تعلیم کا محکمہ بڑا حساس محکمہ ہے۔ پوری قوم کے مستقل کی تعمیر نو اسی شعبے کی ذمہ داری ہے۔ مرکز میں تعلیم کی وزارت ایک سابقہ بیوروکریٹ شفقت محمود صاحب کو دی گئی ہے۔ بھلے آدمی ہیں۔

مگر چال ڈھال سے کچھوے کو عزیز تر جانتے لگتے ہیں۔ پھرتی ان کے مزاج میں نہیں ۔ تعلیم کا محکمہ بڑی تیزی سے ریفارمز کا متقاضی ہے۔ اگر تعلیم ٹھیک ہو جائے تو لوگوں کے مزاج، اندازاور فکر سب ٹھیک ہو جائیں گے۔

تعلیم کی اصلاح کا نظام بڑا مربوط ہونا چاہیے۔ سب سے پہلے اس نظام کے موجودہ حالات کے تناظر میں ضروریات کو جاننا ضروری ہے ۔ہم نے تعلیم کے ضرورت سے زیادہ بٹوارے کر دیے ہیں ۔ ابتدائی تعلیم۔ مڈل ، ہائی، ہائر سیکنڈری، اور پھر ہائر ایجوکیشن، فنی تعلیم اور پھرتعلیم بالغاں ۔

ان سب کا نظام چلانے کے لئے الگ الگ محکمے، حتیٰ کہ وزیر اور سیکرٹری بھی الگ کر دئیے ہیں۔ ان محکموں میں آپس میں جو ربط ضروری ہے وہ بھی کہیں نظر نہیں آتا۔

مختلف مافیا اپنے اپنے دلچسپی کے شعبوں پر قابض ہیں اور اپنے شعبے کی اہمیت کو اس انداز سے اجاگر کرتے ہیں کہ وزرا اور سیاستدان ان کی دلفریب جال سے باہر نکل ہی نہیں سکتے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن پی ایچ ڈی مافیا کا ترجمان ہے۔ اس کمیشن کے باوا آدم جناب ڈاکٹر عطاالرحمان نے اپنی فنکاری اور خوبصورت گفتگوکے زور پر ایجوکیشن فنڈ کا بڑا حصہ سمیت لیا تھا یہ کہہ کر کہ ریسرچ کے لئے فنڈز درکار ہیں۔

یقیناً درکار ہیں مگر جو فنڈ لئے ان سے کیا ریسرچ ہوئی کوئی نہیں جانتا۔البتہ اس فنڈ کی مدد سے بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا۔ڈاکٹر عطاالرحمان پہلے مائیکرو ٹیکنالوجی میں خود کفالت کی بات کرتے رہے پھر نانو ٹیکنالوجی میں مہارت کی نوید دی، لیکن عملی طور پر پاکستان میں نہ تو مائیکرو ہے اور نانو تو ایک خواب سے زیادہ کچھ نہیں۔ اپنی پسند کے ریسرچرز کو البتہ بڑی بڑی مشینیں ،بہت سی یونیورسٹیوں میں ریسرچ کے نام پر خریدنے کے لئے ،فنڈ مہیا کئے گئے ۔

ہر مشین کے ساتھ جو لٹریچر آیا اس کی مدد سے ایک شاندار مقالہ لکھا گیا۔ مشین چلانے کے لئے مہارت اور ماہرشخص نہ تھا، نہ ہے اور نہ ہوگا۔ایسی بہت سی انتہائی قیمتی مشینیں آج زنگ آلود نیلام ہونے کی منتظر ہیں۔ ایسے اشخاص کی ضرورت ہے جو یہ سب راز دروں جانتے ہوں۔ جن کو کوئی فنکار اپنی چرب زبانی اور داؤ پیچ سے مرعوب نہ کر سکے۔

دوسرا ہائر ایجوکیشن کمیشن کی سرکاری یونیورسٹیوں میں غیر ضروری مداخلت اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں کو غیر ضروری چھوٹ بھی پوری طرح سمجھنے اور ان معاملات کو صحیح خطوط پر لانے کی ضرورت ہے۔ ہائر ایجو کیشن کمیشن نے جو فنڈ دیے ان کا حساب بھی لیا جائے۔

تعلیم بالغاں اور ابتدائی تعلیم پر دوست ممالک ہمارے انتہائی معاون اور مدد گار ہیں۔ وہاں فنڈز کے صحیح استعمال کا یقینی بنانا حکومت کا کام ہے۔ فنی تعلیم اور کمرشل تعلیم پر بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

لوگوں میں اس تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا بھی حکومت کا بنیادی نصب العین ہونا چاہیے۔ پرائیویٹ تعلیمی ادارے جس انداز میں عوام کو لوٹ رہے ہیں اس کا سدباب بہت ضروری ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن اس معاملے میں مکمل ناکام ہے۔

اول تو حکومت کے ہوتے کسی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی کوئی ضرورت نہیں اور اگر بنانا بھی ہے تو ایک ایجو کیشن کمیشن بنایا جائے جو تعلیم کے ہر شعبے کے لئے اپنی سفارشات دے،تاکہ بنیاد سے لے اوپر تک ہر جگہ تعلیم کی بالادستی نظر آئے۔

تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لئے ماضی میں جب بھی کوئی کمیٹی یا کمیشن بنایا جاتا رہاہے اس میں کلاس روم ٹیچر کو کبھی نمائندگی نہیں ملی۔ سکول ، کالج، یونیورسٹی اور ٹیچر کی بہتری کے حوالے سے ماہر تعلیم بن کر کمیٹیوں اور کمیشنوں میں سجے سجائے وہ لوگ بیٹھے ہوتے ہیں جنہوں نے شاید اپنی سروس کے ابتدائی چند ماہ تدریس کی کوشش کی ہوتی ہے اور ناکامی سے گبھرا کر یا افسری کے شوق میں کسی دفتر کا رخ کیا اور پھر کبھی پلٹ کر کسی تعلیمی ادارے کو نہیں دیکھا یا ممبران بیوروکریسی کے وہ لوگ ہوتے ہیں جو محکمہ تعلیم سے وابستہ ہوتے ہیں۔

ان لوگوں کو زمینی حقائق کا پتہ ہی نہیں ، وہ خاک اصلاح کر پائیں گے۔ایجوکیشن سے ایسے عہدوں پرجانے والے لوگ تو عموماً اصلی بیوروکریٹ سے بھی بدتر رویہ اپناتے ہیں اور سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں موجود اپنے ساتھیوں حتیٰ کی سینئرز سے بھی اچھا رویہ نہیں رکھتے،لیکن اہل اقتدار سے اس طرح بچھ بچھ کر ملتے ہیں کہ لگتا ہے کہ ان سے بہتر کوئی نہیں اور اہل اقتدار بھی بس ایسے ہی ہیں کہ ان کے دام فریب میں آسانی سے آ جاتے ہیں۔ اس لئے میری گذارش ہے کہ ہر جگہ کلاس روم ٹیچر کی نمائندگی ہی ان تمام مسائل کے حل کی بنیادی چابی ہے جو حکومت کو ایک بڑی بنیادی تبدیلی کے لئے درکار ہیں۔

ابتدائی تعلیم کے لئے قائم بہت سے پرائیویٹ تعلیمی ادارے ایک تو طلبا سے فیس حد سے زیادہ وصول کرتے ہیں۔ ہر کلاس کے فقط ایک بچے کی فیس کے برابر استاد کو تنخواہ دیتے ہیں۔ دوسرے دو بچوں کی فیسیں باقی تمام اخراجات کے لئے کافی ہوتی ہیں۔

اگر کلاس میں پچیس بچے ہوں تو بقیہ بیس بائیس بچوں کی فیسیں ان کا ذاتی منافع ہوتا ہے۔ دوسرے یہ ادارے خود کو این جی او ظاہر کرکے بہت سی غیر ملکی امداد بھی وصول کرتے ہیں۔ضروری ہے کہ پرائمری سے ہائر ایجوکیشن تک ہر مرحلے کی زیادہ سے زیادہ فیس کی حد مقرر ہونی چائیے، تاکہ لوگوں کو لوٹ مار سے بچایا جا سکے۔

ابتدائی کلاسوں کے سلیبس کو مختصر اور ہمارے اسلامی، اخلاقی اور معاشرتی تقاضوں کے مطابق مرتب کرنا بہت ضروری ہے۔ ابتدائی کلاسوں کے اساتذہ کو ایسی تربیت بھی دی جائے کہ وہ بچے کے رحجان کو سمجھ کر اس کے مطابق اسے اگلی کلاسوں کے لئے تیار کر سکیں۔

مسائل انتہائی زیادہ ہیں اور ان کے لئے خاصی لمبی بحث درکار ہے،لیکن سب سے پہلے حکومت کو ایسے اشخاص تلاش کرنا ہوں گے جو واقعی تعلیم کو موجودہ حالات کے تناظر میں سمجھتے، تبدیلی کے تقاضوں کو جانتے اور صحیح معنوں میں درد دل سے کام کرنا جانتے ہوں۔امید ہے حکومت تعلیم کے شعبے پر خصوصی توجہ دے گی۔