امریکہ کا پُرانا موقف، پرانے مطالبات

امریکہ کی جنوبی اور وسط ایشیائی امور کی نائب وزیر ایلس ویلز نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ تعمیری اور مثبت تعلقات چاہتا ہے پاکستان میں موجود دہشت گرد پراکسی گروپوں کا خاتمہ ضروری ہے، پاکستان خطے کا اہم ملک ہے اور اسے ایک اہم کردار ادا کرنا ہے اُن کا کہنا تھا کہ ہم جنوبی ایشیا کی حکمتِ عملی پر مکمل طور پر کاربند ہیں کہ ہم خطے میں نان سٹیٹ ایکٹرز یا دہشت گردوں کی ہر قسم کی کارروائیوں کا خاتمہ چاہتے ہیں امریکہ پاکستان میں نئی حکومت کے ساتھ مل کر چلنے کا خواہاں ہے عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد وزیر خارجہ مائیک پامپیو نے پاکستان کا دورہ کیا اور نئی حکومت کے ساتھ تعمیری اور مثبت مذاکرات کئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی نئی حکومت نے امریکہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ دہشت گرد گروپ جو افغانستان میں امریکی افواج کونشانہ بناتے ہیں انہیں پاکستان میں پناہ نہیں دی جائیگی ہم عمران خان کے اُن بیانات کا خیرمقدم کرتے ہیں جس میں انہوں نے ہمسایوں کے ساتھ امن کی بات کی ہے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اقتصادی تعلقات کی بحالی سب سے اہم ہے، انہوں نے ان خیالا ت کا اظہار برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

ایلس ویلز نے اپنے اس انٹرویو میں بھی کہا اور اس سے پہلے بھی امریکہ کا یہ موقف سامنے آتا رہتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کا خاتمہ ضروری ہے جبکہ پاکستان امریکی حکام کو یہ باور کراتا رہتا ہے کہ اس کی سرزمین پر کوئی بھی دہشت گرد موجود نہیں، بلاامتیاز کارروائی کرکے ایسے تمام گروہوں کا خاتمہ کیا جاچکا ہے، اس کے برعکس پاکستان کو ایسی دہشت گردی کی کارروائیوں کا سامنا ہے جن میں افغانستان سے آنے والے دہشت گرد ملوث ہوتے ہیں یہ بات افغان حکومت کے علم میں بھی بار بار لائی جاچکی ہے اور وہاں متعین امریکی افواج کو بھی اس سے آگاہ کیا جاچکا ہے پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف براہ راست کارروائیاں کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے بہت سے اقدامات بھی کئے ہیں جن سے اُن کی آزادانہ نقل و حمل ممکن نہیں رہ گئی، افغانستان کے ساتھ سرحد پر دوہزار کلو میٹر طویل باڑ بھی اسی لئے لگائی جا رہی ہے تاکہ کوئی دہشت گرد نہ تو افغانستان سے آسکے اور اگر پاکستان میں کوئی دہشت گرد موجود ہیں تو انہیں بھی کسی کارروائی کی صورت میں فرار کا موقع نہ ملے لیکن حیرت کی بات ہے کہ جو باڑ لگائی جارہی ہے افغان حکام اسے بھی پسند نہیں کرتے اور حال ہی میں چمن بارڈر پر لگائی جانے والی باڑ کے ایک حصے کو نقصان بھی پہنچایا گیا جب باڑ لگانے کا کام شروع کیا گیا تھا تو افغان حکام نے اس کے راستے میں بھی روڑے اٹکائے تھے اور کوشش کی تھی کہ یہ کام آگے نہ بڑھ سکے حالانکہ یہ باڑ پاکستانی علاقے میں لگائی جارہی ہے اور اس پر جو اخراجات اُٹھ رہے ہیں وہ سب پاکستان کررہا ہے یہ کوئی آسان کام بھی نہیں ابھی تک اس پراجیکٹ کی تکمیل بھی نہیں ہوسکی اور مزید کئی ماہ تک یہ کام مکمل ہوگا لیکن بدقسمتی ہے کہ افغانستان کی جانب سے ایک مفید مطلب منصوبے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں حالانکہ اس ضمن میں افغان حکام کو پاکستان کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے تھا۔

پاکستان نے دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے جتنی جانی قربانیاں دی ہیں اس کاعشرِ عشیر بھی دنیا کا کوئی ملک پیش نہیں کرسکا امریکی حکام اس سے پوری طرح باخبر ہیں اور کبھی کبھار اس کا اعتراف اور تحسین و تعریف بھی کرتے رہتے ہیں، لیکن جب امریکہ یہ مطالبہ کرتا ہے کہ دہشت گردوں کی پراکسی کارروائیاں ختم کی جائیں تو یہ اُن تمام کوششوں کی نفی کے مترادف ہے جو پاکستان نے سال ہا سال تک جاری رکھیں اور خون کے دریا سے گزر کر حالات کو بہتر بنایا، پاکستان اس سے پہلے بھی امریکی حکام کو کہہ چکا ہے کہ اگر اس کے خیال میں اب بھی کہیں دہشت گرد رو پوش ہیں جو پاکستان کے علم میں نہیں توان علاقوں کی نشاندہی کی جائے امریکی فوجی افسر سرحدی علاقوں کا دورہ بھی کرچکے ہیں معلوم نہیں انہوں نے کسی ایسے علاقے کی نشاندہی کی یا نہیں لیکن اگر امریکی معلومات کے مطابق واقعی کوئی علاقہ ’’دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ‘‘ ہے تو اس کی نشاندہی کرتے ہی کوئی قدم اٹھایا جاسکتا ہے ایلس ویلز نے کہا کہ مائیک پامپیو کے دورے میں بھی یہ معاملہ پاکستان کے ساتھ اُٹھایا گیا تھا ظاہر ہے اس سلسلے میں پاکستان نے بھی اپنا موقف بتایا ہوگا ضرورت تو اس بات کی ہے کہ امریکی حکام پاکستان کے ساتھ مل بیٹھ کر زمینی حقائق کے مطابق اس معاملے پر غور کریں اور پھر اگر کسی اقدام کی ضرورت ہے تو وہ اُٹھائیں اس طرح غیر معین عرصے تک ایک ہی بات کی تکرار کرتے چلے جانے سے تو مسائل حل نہیں ہوں گے۔

امریکی نائب وزیر نے وزیر اعظم عمران خان کی ہمسایوں کے ساتھ امن کی بات کو تو سراہا ہے لیکن امریکہ کو معلوم ہے کہ پاکستان کے ہمسائے میں واقع بھارت کا کیا رویہ ہے اور کس ملک کا آرمی چیف پاکستان کو تسلسل کے ساتھ جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے اور کبھی سرجیکل سٹرائیک کی ڈھینگیں مارتا ہے، مقبوضہ کشمیر کی صورت حال بھی امریکہ سے پوشیدہ نہیں ہے وہاں دہشت گردی کا بازار گرم ہے اور جنازوں پر بھی آنسو گیس پھینکی جا رہی ہے۔ ان حالات کے باوجود پاکستان کا یہ کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ جنگ کا آپشن نہیں ہے اور پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکہ میں موجود ہوتے ہوئے بھی یہ بات کہی ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ بھارت کو مذاکرات پرآمادہ کرے اب اگر بھارت تعلقات کی بہتری پرآمادہ نہیں اور اس مقصد کے لئے مذاکرات کے لئے بھی تیار نہیں تو پھر خطے میں امن کا خواب کیسے پورا ہوگا امریکہ نے تو بھارت کو افغانستان میں بھی نیا کردار سونپ دیا ہے معلوم نہیں وہ اس نئے کردار کے ذریعے بھارت سے کیا امیدیں لگائے بیٹھا ہے حالانکہ اس نے اپنی افواج افغانستان بھیجنے سے انکار کردیا ہے اور اگربھیج بھی دے تو جس ملک میں نیٹو کی افواج مل کر امن قائم نہیں کرسکیں وہاں بھارت کی افواج کیاکرشمہ دکھا سکتی ہیں لیکن امریکہ نے بھارتی کردار سے کچھ امیدیں تو وابستہ کی ہوں گی اب ان کے نتیجے کا انتظار کرنا چاہئے امید ہے اس نتیجے سے امریکہ مایوس ہو گا تاہم امریکہ اگر جنوبی ایشیا میں امن طاقت کے زور پر لانا چاہتا ہے تو ایسا ممکن نہیں افغانستان میں امن بھی جنگ کے ذریعے نہیں ٹھونسا جاسکتا۔