کرکٹ کا امتحان پھر شروع؟

پاکستان اور آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان آج سے متحدہ عرب امارات(دبئی) میں ٹیسٹ سیریز شروع ہو رہی ہے،اِس میں دو ٹیسٹ میچ ہوں گے، دونوں ٹیمیں اپنے اپنے طور پر تیاری کر چکی ہیں۔یہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی ہوم سیریز ہے، جو حسب معمول مُلک کے اندر نہیں باہر ہو ر ہی ہے۔یوں بھی آج کل عرب امارات میں کرکٹ کا میلہ سجا ہوا ہے اور کئی مقابلے ہو رہے ہیں،پاکستان کرکٹ ٹیم ایشیا کرکٹ کپ میں بدترین کارکردگی کے بعد اب آسٹریلیا سے نبرد آزما ہو گی، ہم تو پہلے بھی دُعا کرتے اور اب بھی دُعا گو ہیں،لیکن ایشیا کپ میں جو کچھ ہوا اس نے بہت مایوس کیا ہے۔ اِس پر یہ بھی افسوس ہوا کہ تمام کھلاڑیوں کو ہدفِ تنقید بنایا گیا،فیلڈنگ، باؤلنگ اور بیٹنگ کی ناکامی کا ذکر کیا گیا،لیکن کپتان سرفراز احمد کو معاف کر دیا گیا جیسے وہ ’’مقدس گائے‘‘ ہو، حالانکہ اُس نے خود اپنی بری کارکردگی کا اعتراف کیا۔کرکٹ ٹیم نے جو کارکردگی دکھائی،کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ سرفراز احمد کی کارکردگی بہت بڑا سوالیہ نشان بنی کہ وکٹ کیپنگ بھی معیاری نہیں تھی،اِس کے باوجود اِس پر تنقید کی بجائے اُس کی حمایت کی گئی۔اِس کا اندازہ کچھ اِس طرح لگائیں کہ محمد عامر ناکام ہوا تو اُسے ٹیم سے باہر بٹھا دیا گیا جو درست فیصلہ ہے کہ اُسے اپنی فارم بحال کر کے ہی ٹیم میں واپس آنا ہو گا یہ نہیں کہ ٹیم پر بوجھ ثابت ہو، ہمارے پاس نوجوان باؤلروں کی کمی نہیں،اُن کو موقع ملے گا تو کچھ کر کے بھی دکھائیں گے جیسے محمد عباس سے توقعات وابستہ کی گئی ہیں، مگر کیا سرفراز احمد کو اِس سیریز سے باہر نہیں بٹھایا جا سکتا تھا؟ شاید نہیں کہ اُس کی تو حمایت بہت ہے، مکی آرتھر اور انضمام الحق نے واضح کر دیا کہ سرفراز آئندہ ورلڈکپ تک کپتان رہے گا۔اِس کا اندازہ ایک اور حمایت سے لگائیں کہ ٹیم مینجمنٹ، کوچ اور سلیکشن کمیٹی نے اوپننگ جوڑی کے مسئلے پر محمد حفیظ کو واپس طلب کیا تو شاہد آفریدی میدان میں آ گئے اور حفیظ کی طلبی پر حیرت ظاہر کر کے تنقید کر دی،ساتھ ہی کہا سرفراز کو ہی کپتان رہنا چاہئے،یہ کیا خطرہ اور کیا لابی ہے، غور کر لیں! ہم تو ٹیم کی کامیابی ہی کی دُعا کرتے ہیں کہ مُلک کے نام کا بھی سوال ہے۔