معاملات پارلیمینٹ میں باہمی تعاون سے حل کریں

قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے درمیان مجالس قائمہ کی تشکیل کے سلسلے میں سمجھوتے پر اطمینان کا اظہار کیا اور بتایا ہے کہ تین قائمہ کمیٹیاں بن بھی گئیں اور ساتھ ہی مسودّاتِ قانون کمیٹی کو بھجوا دیئے گئے ہیں،سپیکر نے یہ بھی توقع ظاہر کی کہ اب قومی اسمبلی میں قانون سازی کا عمل شروع ہو جائے گا اور اتنے دن جو کام بند رہا ہے اس کی بھی تلافی ہو جائے گی کہ قائد حزبِ اختلاف محمد شہباز شریف نے قانون سازی کے سلسلے میں تعاون کا یقین دلایا ہے۔پارلیمینٹ قوم کا منتخب ادارہ ہے جس کا بنیادی کام ہی قانون سازی ہے، اور اس پارلیمینٹ میں حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف گاڑی کے دو پہیوں کی طرح ہوتے ہیں اور ان کے باہمی تعاون ہی سے بہتری ہوتی ہے۔ یوں بھی پارلیمینٹ کو بالادست کہا جاتا ہے تو اس کی بالادستی کے لئے جذبہ بھی ویسا ہی ہونا چاہئے اور یہ حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے باہمی تعاون ہی سے مشروط ہے۔ اگر پارلیمینٹ میں قواعد و ضوابط اور باہمی تعاون نہیں ہوتا تو پھر یہی ہوتا ہے جو پچھلے دِنوں ہوتا رہا ہے کہ قائمہ کمیٹیاں بن نہ سکیں اور قانون سازی ہو نہ سکی۔ اب یہ طے ہو گیا اور اس کا ثبوت قائد حزبِ اختلاف محمد شہباز شریف کا پی اے سی کے چیئرمین کی حیثیت سے بلامقابلہ انتخاب ہے۔یہ فضا برقرار رکھنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے باہمی مذاکرات کے دروازے وا رکھنا چاہئیں،پارلیمانی جمہوریت میں اکثریت و اقلیت کا دستور ہونے کے باوجود باہمی تعاون بہت ضروری ہوتا ہے اور اس کے لئے برداشت کا جذبہ لازم ہے، ملک اور قوم کو جو مسائل درپیش ہیں وہ بڑے گمبھیر ہیں، ان کو حل کرنے کے لئے بھی فریقین کو ٹھنڈے مزاج اور پارلیمانی اصولوں پر عمل کرنا ہوتا ہے، قوم توقع رکھتی ہے کہ تمام تر اختلافات کے باوجود پارلیمینٹ کا ماحول ایسا ہو گا، جہاں پارلیمانی اصولوں اور قواعد کے مطابق تعاون سے معاملات حل کرائے جائیں گے، حزبِ اختلاف پر زیادہ ذمہ داری ہے کہ وہ مشاورت سے کام لے۔