بھارت کا افغان امن میں کوئی کردار نہیں

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے افغانستان میں اتحادی فوج کے سربراہ جنرل آسٹن سکاٹ ملر نے ملاقات کی اور افغانستان میں مفاہمتی عمل، علاقائی و سرحدی سیکیورٹی اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بات چیت کی گئی، مسئلہ افغانستان کا سیاسی حل نکالنے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بارڈر سیکیورٹی بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ آرمی چیف نے اتحادی افواج کے سربراہ کو بتایا کہ پاکستان، افغانستان میں امن کا حامی ہے، افغانستان میں امن پاکستان کے لئے انتہائی اہم ہے۔ دوسری جانب دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ افغانستان کے لئے امن کوششوں میں بھارت کا کوئی کردار نہیں،پاکستان افغانستان میں پائیدار امن و استحکام کی غرض سے مصالحتی عمل کے لئے تعمیری کوششیں جاری رکھے گا۔

افغانستان میں قیام امن کی جو کوششیں مختلف سطحوں پر ہو رہی ہیں اُن کا نتیجہ تو اپنے وقت پر نکلے گا،لیکن اتنا ضرور ہے کہ بظاہر ہر معاملہ آگے کی جانب سرکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چار ممالک کے حالیہ دورے میں افغانستان، چین، روس اور ایران کے وزرائے خارجہ اور دوسرے حکام کے ساتھ جو ملاقاتیں کیں اُن کا مقصد بھی افغانستان میں قیام امن کی راہ ہموار کرنا تھا،اِن تمام ممالک کا افغانستان کے امن میں کوئی نہ کوئی کردار ہے اور اب تو امریکی صدر ٹرمپ بھی تسلیم کرنے لگے ہیں کہ ان ممالک کے افغانستان میں مختلف النوع مفادات ہیں،اِس لئے اِن سب کی خواہش ہے کہ افغانستان میں امن کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو جائے، لیکن بھارت کا نہ صرف کوئی کردار نہیں بلکہ وہ اس کی راہ میں کانٹے بونے کی کوششیں کر رہا ہے۔ خود امریکہ نے بھی طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا آغاز کر رکھا ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہنے کی امید ہے،ان مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ امریکہ نے افغانستان سے اپنی نصف فوج واپس بُلانے کا اعلان کر دیا ہے،اِس سے پہلے وہ شام سے بھی اپنی فوج واپس بُلانے کا آغاز کر چکا ہے، اور صدر ٹرمپ نے اپنے تازہ ترین دورۂ عراق میں تو صاف گوئی سے یہ بھی کہہ دیا کہ امریکہ ہمیشہ کے لئے دُنیا کا پولیس مین بن کر نہیں رہ سکتا۔

اچھی بات ہے کہ امریکی قیادت کو بالآخر یہ خیال آ ہی گیا، کہ وہ دُنیا کا پولیس مین نہیں ہے،لیکن اگر اب تک وہ یہ کردار ادا کرتا چلا آ رہا ہے تو یہ اس پر کسی دوسرے مُلک نے تو نہیں تھوپا تھا، بلکہ امریکہ نے یہ کردار خود ہی خوشی خوشی قبول کیا تھا اور اِس کا مقصد دُنیا بھر میں اپنی چودھراہٹ قائم کرنا تھا۔ امریکہ کے بارے میں جو یہ تاثر پیدا ہو گیا تھا کہ وہ دُنیا کے ہر مُلک کا ہمسایہ ہے اس کا مفہوم بھی یہی ہے کہ ہر خطے میں اپنی افواج بھیج دیتا ہے، خلیج کی جنگ میں اُس نے اپنا کردار خود تشکیل دیا اور دو مرتبہ اِس خطے میں اپنی افواج بھیجیں۔ اب بھی امریکی افواج عراق میں موجود ہیں، پھر وہ شام میں گھس آیا اور اپنا مشن بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ قرار دیا۔یہ مقصد تو اب تک حاصل نہیں ہو سکا،لیکن شام میں وسیع تباہی و بربادی ضرور ہو گئی، اب امریکہ یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ شام میں اُس نے داعش کو شکست دے دی ہے۔ باقی ماندہ کام ترکی مکمل کرے گا۔شام سے فوجوں کی واپسی کا اعلان اتنا اچانک تھا کہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کو بھی اس پر مستعفی ہونا پڑا،کیونکہ شام سے فوج واپس بُلانے کے معاملے پر وہ اپنے آپ کو صدر ٹرمپ کی رائے سے متفق نہ کر سکے، دو دِن بعد ہی انہوں نے افغانستان سے آدھی امریکی فوج واپس بُلانے کا اعلان کر دیا۔

افغانستان کی جنگ میں امریکہ سترہ برس سے براہِ راست اُلجھا ہوا ہے، آغاز میں اُس نے وہاں سے طالبان کی حکومت تو ختم کر دی اور تختِ کابل پر اپنا پسندیدہ مہرہ بھی بٹھا دیا،لیکن اس تمام عرصے میں افغانستان میں مالی اور جانی نقصانات اتنے زیادہ تھے کہ امریکی تھنک ٹینک سوچتے تو ہوں گے کہ یہ سب کچھ جس مقصد کے لئے کیا گیا تھا کیا وہ حاصل ہو پایا اور اربوں روپے افغانستان کی جنگ میں جھونکنے کے بعد کیا حاصل ہوا۔غالباً اسی احساس نے صدر ٹرمپ کو یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کیا ہے کہ امریکہ عالمی پولیس مین کے کردار سے دستبردار ہو جائے، دراصل جو طاقتیں بھی اپنے لئے ایسا کردار منتخب کرتی ہیں اُنہیں اس مقصد کے لئے بھاری رقوم خرچ کرنا پڑتی ہیں جیسا کہ امریکہ کرتا رہا ہے۔ اب اگر وہ اِس کردار سے اُکتا گیا ہے تو شاید اس کی ایک وجہ اربوں ڈالر کے وہ اخراجات ہوں جو اسے افغانستان میں برداشت کرنے پڑے اور اب جنہیں صدر ٹرمپ غیر ضروری تصور کرتے ہیں۔اُن کا نیٹو سے بھی یہی اختلاف ہے کہ وہ اپنے حصے کے اخراجات ادا نہیں کرتی۔

امریکی جنرل آسٹن نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے جن موضوعات پر تبادل�ۂ خیال کیا ہے اُن میں سرحد کی سیکیورٹی کا معاملہ اہمیت رکھتا ہے۔ یہ سرحد ایسی ہے کہ سفری دستاویزات کے بغیر افغان اور پاکستانی باشندے بلا روک ٹوک یہاں سے آتے جاتے رہے ہیں، لیکن اب چند برس سے اس کے بغیر داخلہ ممکن نہیں ر ہا۔ مزید براں سرحد پر باڑ بھی لگائی جا رہی ہے اور اِس باڑ میں تھوڑے تھوڑے فاصلے کے بعد حفاظتی قلعے بھی بنائے جا رہے ہیں۔ یہ کام ایک برس بعد تکمیل کو پہنچ جائے گا تو سرحد سے غیر قانونی آمدو رفت رُک جائے گی۔ صدر ٹرمپ نے میکسیکو کی سرحد کے ساتھ جو حفاظتی دیوار بنائی ہے ، وہاں سے غیر قانونی باشندے آج بھی امریکہ میں داخل ہو جاتے ہیں، دراصل امریکہ میں داخل ہونے والے ان لوگوں کے مقاصد وہ نہیں ہیں،جو افغان سرحد عبور کر کے پاکستان آنے والوں کے ہیں۔ میکسیکو کے باشندے تو بہتر معاشی مستقبل کے لئے امریکہ آتے ہیں،جبکہ افغانستان سے آنے والے دہشت گردی کے لئے پاکستان آتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر وہ لوگ بھی ہیں،جنہیں افغانستان میں بھارتی قونصل خانے باقاعدہ تربیت دے کر پاکستان میں دہشت گردی کے لئے بھیجتے ہیں۔

امریکہ نے جب سے بھارت کو افغانستان میں ’’امن کا کردار‘‘ سونپا ہے اُس وقت سے بھارت کے لئے پاکستان میں تخریب کاری کا کام آسان ہو گیا ہے،لیکن اب امریکہ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ بھارت افغانستان کے حالات خراب تو کر سکتا ہے وہاں امن قائم کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتا،اِس لئے جتنی جلد ممکن ہو امریکہ کو بھارت کے عزائم کے بارے میں آگاہی ہو جانی چاہئے۔پاکستان کے دفتر خارجہ نے بالکل درست کہا ہے کہ افغانستان میں امن کے لئے بھارت کا کوئی کردار نہیں۔ یہ بات نہ صرف امریکہ،بلکہ ہر اُس مُلک پر واضح ہونی چاہئے، جو افغانستان میں امن کے لئے کوشاں ہے،جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے وہ تو افغانستان کی صورتِ حال سے براہِ راست متاثر ہوتا ہے،اِس لئے اس کی خواہش ہے کہ جتنی جلد وہاں امن قائم ہو جائے اتنا ہی بہتر ہے،اِس لئے وہ پُرامن، سفارت کاری کو تیز تر کر کے یہ مقصد حاصل کرنے میں کوشاں ہے۔صدر ٹرمپ کے تازہ ترین خیالات بھی اِسی سلسلے میں مفید ہو سکتے ہیں۔